انٹرٹینمنٹ ۲۱ اکتوبر ۲۰۲۶

ریاست کی ذمہ داری بدامنی کا خاتمہ ہے، جمہوری قوتوں کو دور کرنا نہیں

تحریر: سید انور شاہ

ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے لیے ترقی و خوشحالی کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ بدامنی کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، لیکن اس عمل میں ان سیاسی قوتوں کو بدظن کرنا کسی طور مناسب نہیں جو عوامی حقوق، جمہوری آزادیوں، امن اور سماجی ترقی کے لیے سیاسی و آئینی جدوجہد کر رہی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری اور اس پر سیاسی حلقوں کے ردعمل نے ایک بار پھر اس اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ ریاست اپنے اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو کس طرح مضبوط بنا سکتی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سمیت جمہوری سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سیاسی آزادیوں، آئینی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے احترام پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ ان کا بنیادی مؤقف اس وسیع تر بحث سے جڑا ہے کہ بدامنی کے اسباب اور اس کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے، مگر اس مقصد کے لیے سیاسی اختلافِ رائے کو محدود کرنا یا جمہوری آوازوں کو دبانا مسائل کا پائیدار حل نہیں۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہو تو اس کا فیصلہ شواہد، قانون اور عدالتی عمل کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تاکہ انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں اور سیاسی انتقام کے تاثر کو بھی جگہ نہ ملے۔
اصغر خان اچکزئی محض ایک سیاسی جماعت کے صوبائی صدر نہیں بلکہ جنوبی پشتونخوا میں قبائلی و سماجی روابط رکھنے والی ایک اہم شخصیت بھی ہیں۔ ان کے حامیوں اور متعلقہ سیاسی حلقوں نے گرفتاری پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سامنے آنے والے بیان کے مطابق، مقدمے کے مدعی کی جانب سے عدالت میں اسٹامپ پیپر پر ایک تحریری بیان جمع کرایا گیا ہے جس میں مبینہ طور پر اصغر خان اچکزئی کو اپنے بیٹے کے قتل کے مقدمے میں ملوث نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ اس بیان کی قانونی حیثیت، مقدمے کے دیگر شواہد اور گرفتاری کے جواز کا تعین متعلقہ عدالت اور قانونی عمل ہی کے ذریعے ہونا چاہیے۔ تاہم اس صورتِ حال میں حکومت اور متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اٹھنے والے سوالات کا شفاف جواب دیں اور کسی بھی ممکنہ غلط فہمی کو دور کریں۔ اگر اختیارات کے ناجائز استعمال یا ذاتی عناد کے الزامات سامنے آئیں تو ان کی غیرجانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں، اور اگر کسی کے خلاف جرم کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں تو قانون سب کے لیے یکساں طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ جنوبی پشتونخوا کی قبائلی روایات بھائی چارے، عزت و احترام، باہمی افہام و تفہیم اور تنازعات کے پُرامن حل کی اہمیت اجاگر کرتی ہیں۔ اس لیے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ بجا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور دستیاب شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں، اور اگر قانونی و حقائق کی بنیاد پر ضروری ہو تو بااختیار عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔ ریاستی طاقت کا اصل مقصد عوام میں خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ قانون پر اعتماد بحال کرنا اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ریاست بدامنی کے خاتمے کے لیے تمام سنجیدہ اور پُرامن سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلے۔ جو جماعتیں عوامی مسائل اجاگر کرتی ہیں، نوجوانوں کے مستقبل، تعلیم، روزگار، امن اور ترقی کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، ان کے ساتھ سیاسی مکالمے اور آئینی تعاون کے راستے کھلے رہنے چاہییں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی اور تنقید کو ریاست سے مخالفت سمجھنے کا رویہ عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے بڑھا سکتا ہے، جبکہ سیاسی شمولیت، شفاف احتساب اور انصاف پر مبنی طرزِ حکمرانی اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں۔ ریاست کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ بدامنی پھیلانے والوں، تشدد کے مرتکب عناصر اور قانون شکنی کے ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو، اور کسی بے گناہ شہری یا سیاسی کارکن کو محض اختلافِ رائے کی بنیاد پر نشانہ نہ بنایا جائے۔ باچا خان کی عدم تشدد پر مبنی سیاسی فکر سے لے کر ولی خان، اسفندیار ولی خان اور ایمل ولی خان کی جمہوری جدوجہد تک، عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی روایت میں آئینی حقوق اور پُرامن سیاسی جدوجہد کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اختلافات کے باوجود ایسی سیاسی قوتوں کو مکالمے میں شریک رکھنا عوامی اعتماد اور سیاسی استحکام کے لیے اہم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اصغر خان اچکزئی کے معاملے میں شفافیت اور انصاف کے تقاضے پورے کرے اور وسیع تر سطح پر سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر امن و ترقی کا قابلِ عمل راستہ اختیار کرے۔ ریاست کی کامیابی صرف بدامنی کے خلاف کارروائیوں سے نہیں بلکہ اس امر سے بھی ناپی جائے گی کہ وہ عوام کو کتنا محفوظ مستقبل، کتنا انصاف اور ترقی کے کتنے مساوی مواقع فراہم کرتی ہے۔ بدامنی کے ذمہ داروں کو قانون کے تابع کرنا ریاستی فرض ہے، لیکن امن، جمہوریت اور عوامی خوشحالی کے لیے کوشاں قوتوں کو ریاست سے دور کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔