تحریر: سید انور شاہ
رات گہری ہو چکی تھی۔ دن بھر کی تھکن کے بعد جب اپنے پسندیدہ کھانے کی عدم دستیابی کے باعث میں بھوکا ہی بستر پر لیٹا تو ذہن میں کئی سوال گردش کرنے لگے۔ باہر خاموشی تھی، مگر میرے اندر خیالات کا ایک ہجوم برپا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ انسان نے صدیوں کے سفر میں کیا کچھ حاصل کیا، کن منزلوں کو سر کیا اور اس تمام ترقی کے باوجود وہ آج بھی کن مسائل میں الجھا ہوا ہے۔
آہستہ آہستہ آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ معلوم نہیں نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لیا یا خیالات نے میرے شعور کو کسی دوسری دنیا میں پہنچا دیا۔ اچانک محسوس ہوا کہ میرا جسم بستر پر ہے، مگر میری روح زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکر تاریخ کے مختلف ادوار میں سفر کر رہی ہے۔
میں نے اپنے سامنے ایک وسیع دنیا دیکھی، جہاں زمانے بدلتے تھے، تہذیبیں عروج و زوال سے گزرتی تھیں اور انسان ہر دور میں اپنے وجود، کائنات، اقتدار، انصاف اور سچائی کے بارے میں سوال اٹھاتا تھا۔
سب سے پہلے میں قدیم یونان پہنچا۔ وہاں سقراط، افلاطون اور ارسطو کے افکار میرے سامنے زندہ ہوگئے۔ سقراط سوال کرتا تھا، افلاطون تصورِ عدل اور مثالی ریاست پر غور کرتا تھا، جبکہ ارسطو مشاہدے، منطق اور علم کی مختلف شاخوں کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ ان کے پاس آج کے جدید آلات، انٹرنیٹ یا مصنوعی ذہانت جیسی سہولتیں نہیں تھیں، لیکن ان کے ذہنوں میں سوالات کی وسعت اور غوروفکر کی گہرائی حیران کن تھی۔
میں نے سوچا کہ یہ لوگ محدود وسائل میں اتنے بڑے فکری سوال کیسے اٹھا سکے؟ کیا علم کے لیے آلات سے زیادہ اہم تجسس، مشاہدہ، مکالمہ اور سوال کرنے کی آزادی ہے؟
سقراط کی آواز جیسے میرے کانوں میں گونجی: انسان کی فکری ترقی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے علم کی حدود کو پہچانتا اور اپنے مفروضوں پر سوال اٹھاتا ہے۔
یونان سے آگے بڑھا تو رومی تہذیب کا دور سامنے آیا۔ رومی شاعر اووِڈ کے ادبی افکار اور اس عہد کی تہذیبی زندگی نے مجھے بتایا کہ انسان صرف فلسفے ہی کے ذریعے نہیں، بلکہ شاعری، فن اور تخیل کے ذریعے بھی اپنی ذات اور معاشرے کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ تہذیبیں بدلتی رہیں، مگر انسانی محبت، خواہش، خوف، اقتدار اور آزادی کے سوال اپنی مختلف صورتوں میں زندہ رہے۔
اس کے بعد میرا سفر اسلامی علمی روایت کی طرف بڑھا۔ مختلف علمی مراکز میں فلسفے، طب، ریاضی، فلکیات اور تاریخ پر کام جاری تھا۔ اہلِ علم قدیم علوم کو سمجھنے، ان پر تنقید کرنے اور نئے نتائج اخذ کرنے میں مصروف تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ علم کسی ایک قوم یا زمانے کی ملکیت نہیں؛ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی انسانی میراث ہے، جس میں ہر تہذیب اپنے حصے کا اضافہ کرتی ہے۔
اسی سفر کے دوران میری ملاقات عبدالرحمٰن ابنِ خلدون سے ہوئی، جو 1332ء میں پیدا ہوئے اور 1406ء میں وفات پا گئے۔ ان کی مشہور تصنیف مقدمہ ابنِ خلدون میرے سامنے تھی۔ وہ انسانی معاشروں، ریاستوں، معیشت اور اقتدار کے عروج و زوال پر غور کر رہے تھے۔
ان کے تصورات نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ریاستیں صرف بیرونی حملوں سے کمزور نہیں ہوتیں؛ ناانصافی، معاشرتی انتشار، اقتدار کی خود غرضی اور اداروں پر اعتماد کی کمی بھی ان کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کا نظریۂ عصبیت اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اجتماعی یکجہتی کس طرح کسی گروہ یا ریاست کے عروج میں کردار ادا کرتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں کمزوری کیسے پیدا ہوسکتی ہے۔
میں نے سوچا کہ ابنِ خلدون کے زمانے میں نہ جدید شماریاتی ذرائع تھے، نہ دنیا بھر کے معاشرتی اعدادوشمار تک فوری رسائی، مگر انہوں نے انسانی تاریخ اور معاشرتی رویوں میں ایسے اصول تلاش کرنے کی کوشش کی جن پر آج بھی غور کیا جاتا ہے۔ ان کی فکر نے مجھے یاد دلایا کہ انسانی ترقی کے لیے صرف معلومات جمع کرنا کافی نہیں؛ معلومات کے پیچھے موجود اسباب اور نتائج کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
اب میرا سفر یورپ کے قرونِ وسطیٰ کی طرف بڑھا۔ وہاں علم، مذہبی تعبیرات، سیاسی اقتدار اور سماجی پابندیوں کے درمیان کشمکش جاری تھی۔ کہیں قدیم علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوششیں تھیں اور کہیں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے سے انکار۔ مگر وقت کے ساتھ نئے علمی رابطے، ترجمے، تجربات اور فکری تحریکیں پرانے تصورات کو چیلنج کرنے لگیں۔
پھر میں نشاۃِ ثانیہ کے دور میں پہنچا۔ لیونارڈو دا ونچی کے فن اور سائنسی تجسس نے مجھے حیران کیا۔ وہ انسانی جسم، فطرت، مشینوں اور فنون کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتا تھا۔ میکیاولی اقتدار اور سیاست کی حقیقتوں پر غور کر رہا تھا، جبکہ گلیلیو مشاہدے اور تجربے کے ذریعے کائنات کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
یہاں مجھے محسوس ہوا کہ جب انسان رائج تصورات سے آگے دیکھنے کی ہمت کرتا ہے تو نئے راستے کھلتے ہیں، لیکن نئی حقیقتوں کو قبول کرنے کے لیے معاشرے کو بھی فکری کشادگی درکار ہوتی ہے۔ علم کی ترقی صرف سوال اٹھانے سے نہیں، بلکہ شواہد کی بنیاد پر اپنے خیالات تبدیل کرنے کی آمادگی سے بھی ممکن ہوتی ہے۔
آگے بڑھا تو روشن خیالی کے دور نے میرا استقبال کیا۔ روسو اور والٹیئر کے خیالات میں آزادی، مساوات، مذہبی رواداری اور اقتدار کی جواب دہی کے سوال نمایاں تھے۔ اٹھارہویں صدی میں یہ تصورات سیاسی اور سماجی بحثوں کا اہم حصہ بن رہے تھے۔ 1789ء کے فرانسیسی انقلاب نے دنیا کو دکھایا کہ جب معاشرتی ناانصافی، طبقاتی امتیاز اور سیاسی محرومی حد سے بڑھ جائیں تو عوامی بے چینی بڑے تاریخی تغیرات کا سبب بن سکتی ہے۔
تاہم انقلاب کے نام پر ہونے والا تشدد بھی یہ یاد دلاتا ہے کہ انصاف کی جدوجہد کو انسانی جان اور بنیادی حقوق کی حرمت سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ پرانے نظام کی مخالفت کرنا ایک مرحلہ ہے، مگر اس کی جگہ ایسا نظام قائم کرنا جو انصاف، آزادی اور جواب دہی کو یقینی بنائے، اس سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
جان اسٹورٹ مِل کے افکار نے آزادیِ اظہار کے مسئلے پر مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ اختلافِ رائے صرف اس لیے بے معنی نہیں ہوجاتا کہ اکثریت اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ کسی خیال کو پرکھنے، غلطی کی اصلاح کرنے اور سچائی تک پہنچنے کے لیے آزاد مکالمہ ضروری ہے۔ مگر آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے؛ ورنہ اظہار کا حق دوسروں کی عزت، سلامتی اور آزادی کو نقصان پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس کے بعد صنعتی انقلاب کی دنیا میرے سامنے آئی۔ مشینوں نے پیداوار بڑھائی، ذرائع نقل و حمل بدلے اور معاشروں کی ساخت تبدیل کردی۔ انسان نے فطرت پر اپنی گرفت مضبوط کی، مگر اسی کے ساتھ مزدوروں کے استحصال، طبقاتی فرق اور دولت کی غیر مساوی تقسیم جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔
میں نے سوچا کہ ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ امکانات ہی نہیں، نئے سوالات بھی لے کر آتی ہے۔ مشینیں انسان کی محنت کم کرسکتی ہیں، لیکن اگر ان کے فوائد چند ہاتھوں تک محدود رہیں تو تکنیکی ترقی معاشرتی انصاف کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
اب میری روح بیسویں صدی کے آغاز کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میں روس پہنچا، جہاں زار شاہی نظام کے خلاف بے چینی بڑھ رہی تھی۔ 1905ء کے انقلاب نے سیاسی تبدیلیوں کے مطالبات کو نمایاں کیا۔ اس دوران اخبارات اور تحریری مواد نے عوامی شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اخبار زویزدا 1910ء میں سامنے آیا، جبکہ پراودہ کا پہلا شمارہ 5 مئی 1912ء کو شائع ہوا۔
پہلی عالمی جنگ 1914ء میں شروع ہوئی اور اس نے انسانی تہذیب کے غرور کو خون اور تباہی میں ڈبو دیا۔ 1917ء کے فروری انقلاب نے زار کی حکومت کا خاتمہ کیا اور اسی سال اکتوبر میں بالشویکوں نے اقتدار سنبھال لیا۔
میں نے دیکھا کہ اخبارات، تحریر اور نظریات عوامی شعور کو بیدار کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن یہ بھی واضح ہوا کہ ذرائع ابلاغ اور سیاسی نظریات کا اثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انہیں حقیقت کی وضاحت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یا اقتدار اور نظریاتی غلبے کے لیے۔ معلومات لوگوں کو باخبر بھی کرسکتی ہیں اور یک طرفہ پروپیگنڈے کے ذریعے ان کی سوچ کو محدود بھی کرسکتی ہیں۔
اس کے بعد میرا سفر چین پہنچا۔ طویل سیاسی جدوجہد اور خانہ جنگی کے بعد یکم اکتوبر 1949ء کو عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان ہوا۔ پھر 1958ء میں شروع ہونے والی عظیم جست کی مہم نے شدید معاشی اور زرعی بحران کو جنم دیا، جس کے دوران قحط سے کروڑوں انسان متاثر ہوئے اور بڑی تعداد میں جانیں ضائع ہوئیں۔ 1966ء میں شروع ہونے والے ثقافتی انقلاب نے معاشرے، تعلیمی اداروں اور علمی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بعد کے عشروں میں اصلاحات اور معاشی تبدیلیوں نے چین کی ترقی کا راستہ بدلا۔
یہ مناظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ قومی ترقی کے بلند دعوے بھی اس وقت بے معنی ہوجاتے ہیں جب انسانی جان، آزاد فکر اور حقیقت پر مبنی فیصلوں کو نظرانداز کردیا جائے۔ ریاستوں کی کامیابی صرف طاقت، پیداوار یا معاشی اعدادوشمار سے نہیں ناپی جا سکتی؛ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ان کے شہری کس قدر محفوظ، بااختیار اور باوقار زندگی گزارتے ہیں۔
تاریخ کے اس طویل سفر کے بعد میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا: اگر ماضی میں اتنے بڑے مفکرین محدود وسائل کے باوجود پیدا ہوئے تو آج، جب دنیا پلک جھپکتے ہی ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہے، انسان کو ان سے کہیں زیادہ تخلیقی اور صاحبِ بصیرت ہونا چاہیے تھا۔ اس کے پاس دنیا بھر کی کتابیں، تحقیق کے جدید ذرائع، فوری رابطے، جدید تجربہ گاہیں اور مصنوعی ذہانت جیسے وسائل موجود ہیں۔ پھر بھی وہ ماضی کے مفکرین کو اپنا آئیڈیل بنا کر ان کے اقوال دہراتا ہے۔ کیا یہ اس کی ذہنی کمزوری اور فکری پسماندگی کی علامت نہیں؟
میں نے اس سوال پر مزید غور کیا تو مجھے اپنی سوچ میں بھی اصلاح کی گنجائش نظر آئی۔ ماضی کے مفکرین سے سیکھنا پسماندگی نہیں، بلکہ ان کے خیالات کو آخری اور ناقابلِ سوال حقیقت سمجھ لینا فکری جمود ہے۔ ان عظیم ذہنوں کے پاس بھی اپنے زمانے کی حدود تھیں، اور آج کے انسان کے پاس بھی اپنی کمزوریاں ہیں۔ کسی فرد کا غیر معمولی تخلیقی کارنامہ ہر دور میں ممکن ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر نیا زمانہ اپنے ہر فرد کو سابقہ عہد کے ہر مفکر سے زیادہ ذہین بنا دے۔
اصل سوال شاید یہ نہیں کہ آج کا انسان ماضی کے انسان سے کم ذہین ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس نے اپنی بڑھتی ہوئی معلومات اور طاقت کو اسی تناسب سے دانش، کردار اور اجتماعی بھلائی میں تبدیل کیا ہے؟
ماضی کے مفکرین کی حقیقی قدر شناسی ان کی پرستش میں نہیں، بلکہ ان کے سوالات کو نئے حالات میں دوبارہ اٹھانے، ان کے نظریات کو دلیل کی کسوٹی پر پرکھنے اور وہاں سے آگے بڑھنے میں ہے جہاں وہ اپنے زمانے میں پہنچے تھے۔ اگر ہم ان کی عظمت کا اعتراف تو کریں مگر خود سوچنے کی کوشش نہ کریں تو ہم علم کے وارث تو بن سکتے ہیں، اس کی نئی منزلوں کے معمار نہیں۔
اسی خیال کے ساتھ میں اپنے زمانے میں واپس آیا، جہاں جدید ٹیکنالوجی نے انسان کی زندگی بدل دی تھی۔ اب خبر، تصویر اور ویڈیو چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی تھی۔ مصنوعی ذہانت تحریر، تصویر، آواز اور معلومات کی تیاری میں مدد دے رہی تھی۔ تحقیق کے نئے دروازے کھل رہے تھے، بیماریوں کی تشخیص بہتر ہو رہی تھی اور علم تک رسائی پہلے سے آسان ہوتی جا رہی تھی۔
لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایک نئی مشکل بھی سامنے تھی۔ جھوٹی خبروں، تراشے ہوئے مناظر، جعلی آوازوں، گمراہ کن دعووں اور منظم پروپیگنڈے نے حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کرنا دشوار بنا دیا تھا۔ جس ٹیکنالوجی سے علم پھیلایا جا سکتا تھا، اسی سے جھوٹ کو بھی سچ کا لباس پہنایا جا سکتا تھا۔ نتیجتاً انسان صرف معلومات کی کمی کا شکار نہیں تھا، بلکہ اس الجھن میں بھی مبتلا تھا کہ کس پر اعتماد کرے اور کس کی بات کو حقیقت سمجھے۔
میں نے محسوس کیا کہ یہ بحران محض ٹیکنالوجی کا نہیں، انسانی کردار اور اجتماعی ذمہ داری کا بھی ہے۔ اگر انسان ہر خبر کو تحقیق کے بغیر قبول کرے، ہر مخالف آواز کو دشمن سمجھے اور ہر پسندیدہ دعوے کو سچ مان لے تو معلومات کی فراوانی بھی اسے دانش مند نہیں بنا سکتی۔ علم کا اصل فائدہ اسی وقت ہے جب اس کے ساتھ تنقیدی شعور، دلیل، تحقیق اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
آزادیِ اظہار انسانی وقار اور معاشرتی ترقی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن اس کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ جھوٹ، دھوکا، کردار کشی اور دوسروں کے حقوق کی پامالی کو بے حساب آزادی قرار دے دیا جائے۔ اسی طرح قانون کی حکمرانی کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حکومتیں قانون کے نام پر جائز تنقید اور اختلافِ رائے کو خاموش کرا دیں۔ ایک مہذب معاشرے میں قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، حکمران جواب دہ ہوں، صحافت آزاد ہو اور شہریوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہو۔
اگر قانون طاقت ور کے لیے ڈھال اور کمزور کے لیے سزا بن جائے تو انصاف پر اعتماد ختم ہونے لگتا ہے۔ اگر آزادی کو ذمہ داری سے جدا کردیا جائے تو انتشار جنم لے سکتا ہے، اور اگر نظم و ضبط کے نام پر ہر اختلاف کو دبا دیا جائے تو معاشرہ فکری جمود کا شکار ہوجاتا ہے۔ اصل ضرورت آزادی اور ذمہ داری، اختیار اور جواب دہی، اور حقوق و فرائض کے درمیان منصفانہ توازن قائم کرنے کی ہے۔
یہی وہ مقام تھا جہاں مجھے انسانی ترقی کا ایک اور تضاد دکھائی دیا۔ انسان نے فاصلے سمیٹ لیے، مگر دلوں کے فاصلے اب بھی باقی تھے۔ اس نے معلومات کی ترسیل کو تیز کردیا، مگر سچ کی تلاش کو ہمیشہ آسان نہیں بنایا۔ اس نے ایسے ہتھیار ایجاد کیے جو لمحوں میں شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں، مگر اختلافات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کا ہنر اب بھی پوری طرح نہیں سیکھا۔ اس نے دولت پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھائی، مگر غربت، بے روزگاری، بھوک اور علاج کی عدم دستیابی جیسے مسائل مختلف معاشروں میں بدستور موجود ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان نے کوئی حقیقی ترقی نہیں کی۔ طب، تعلیم، مواصلات، سائنسی تحقیق اور انسانی حقوق کے میدانوں میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ لیکن ترقی کے ثمرات سب تک یکساں نہیں پہنچے، اور علم میں اضافے نے خود بخود انصاف، رواداری اور امن کو یقینی نہیں بنایا۔
میں نے سوچا کہ شاید انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان بیرونی دنیا کو بدلنے میں غیر معمولی کامیاب ہوا، مگر اپنے اندر کی خود غرضی، تعصب، لالچ اور اقتدار کی خواہش پر قابو پانے میں اب بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ وہ دوسروں کے لیے اصول بناتا ہے، مگر اکثر خود کو ان اصولوں سے مستثنیٰ سمجھ لیتا ہے۔ وہ انصاف کا مطالبہ کرتا ہے، مگر جب مفاد اس کے سامنے آتا ہے تو انصاف کے تقاضے بھول جاتا ہے۔
میرے ذہن میں پھر سوال پیدا ہوا کہ انسان اخلاقی رہنمائی کہاں سے حاصل کرے؟ سائنس ہمیں قدرتی مظاہر کے اسباب سمجھنے، بیماریوں کا علاج ڈھونڈنے اور کائنات کے قوانین جاننے میں مدد دیتی ہے۔ لیکن انصاف، رحم، دیانت، انسانی ذمہ داری اور زندگی کے مقصد جیسے سوالات کے لیے اخلاقی و فلسفیانہ غوروفکر بھی ضروری ہے۔ مذہب بھی انسان کو ہدایت اور اخلاقی ذمہ داری کا راستہ دکھاتا ہے، مگر اصل امتحان اس ہدایت کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے قرآن مجید محفوظ الٰہی ہدایت اور انسان کے لیے اخلاقی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس کی تلاوت تو کرے، اس کی عظمت کا دعویٰ بھی کرے، مگر اپنے معاملات میں انصاف، امانت، رحم اور حق گوئی کو نظرانداز کردے تو اس کے قول اور عمل کے درمیان فاصلہ باقی رہتا ہے۔ یہی اصول دیگر اخلاقی تعلیمات کے بارے میں بھی سوچنے کی دعوت دیتا ہے: کسی اصول کی عظمت کا اعتراف کافی نہیں، اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش بھی ضروری ہے۔
میں نے صحافیوں، اساتذہ، مزدوروں، کسانوں اور عام شہریوں کے چہرے دیکھے، جو اپنے اپنے دائرے میں بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ صحافی سچ سامنے لانے کی کوشش میں دباؤ برداشت کرتا تھا، استاد محدود وسائل میں نئی نسل کی تربیت کرتا تھا، مزدور اپنی محنت کے باوجود بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان تھا، اور عام شہری انصاف کے حصول کے لیے طویل انتظار کرتا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ انسانی ترقی کا حقیقی معیار صرف بلند عمارتیں، تیز رفتار مشینیں اور جدید آلات نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک عام انسان کو کتنی عزت، تحفظ، تعلیم، علاج اور انصاف میسر ہے۔
پھر میری نگاہ مستقبل کی طرف اٹھ گئی۔ مصنوعی ذہانت، خودکار مشینیں اور نئی سائنسی دریافتیں شاید آنے والے زمانے میں انسانی زندگی کو مزید بدل دیں۔ یہ ذرائع بیماریوں کے علاج، تعلیم، تحقیق اور روزمرہ مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال نگرانی، فریب، استحصال یا طاقت کے ارتکاز کے لیے کیا جائے تو یہی ترقی نئے خطرات بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی اپنی جگہ ایک طاقت ور ذریعہ ہے؛ اسے انسانیت کے لیے مفید یا نقصان دہ بنانا بڑی حد تک انسانی فیصلوں، اداروں اور اخلاقی ذمہ داری پر منحصر ہے۔
میں نے اپنے سفر کے اختتام پر ماضی کے مفکرین کو ایک بار پھر دیکھا۔ وہ اپنے اپنے زمانے میں سوال اٹھا رہے تھے، دلیل تلاش کر رہے تھے اور انسان کو اپنی فکری حدود سے آگے بڑھنے کی دعوت دے رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب ایک ہی سوال میرے سامنے رکھ رہے ہوں: تم نے ہمارے بعد اتنا علم حاصل کیا، اتنے وسائل پیدا کیے اور اتنی طاقت جمع کرلی؛ مگر کیا تم نے اپنے آپ کو بھی اتنا ہی بہتر بنایا؟
اسی سوال کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔ کمرے میں صبح کی روشنی پھیل رہی تھی۔ میں اپنے بستر پر تھا، مگر ذہن اب بھی تاریخ کے سفر میں گم تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید وہ محض ایک خواب نہیں تھا، بلکہ اپنے عہد کو سمجھنے کی ایک کوشش تھی۔
میں اس نتیجے پر پہنچا کہ آج کا انسان ماضی کے مفکرین سے لازماً کم ذہین نہیں، مگر اس کے پاس موجود علم اور وسائل کے مقابلے میں اس کی اجتماعی دانش اور اخلاقی ذمہ داری اب بھی کئی میدانوں میں ناکافی ہے۔ ماضی کو آئیڈیل بنانا غلط نہیں؛ غلطی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم ماضی کی عظمت کو دہراتے رہیں مگر اس کی طرح سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کی ہمت پیدا نہ کریں۔
شاید ترقی کا اصل راستہ یہی ہے کہ انسان ماضی سے سیکھے، حال کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے اور مستقبل کو محض نئی ایجادات کے حوالے نہ کردے۔ اسے علم کے ساتھ کردار، آزادی کے ساتھ ذمہ داری، اقتدار کے ساتھ جواب دہی اور ترقی کے ساتھ انصاف کو بھی آگے بڑھانا ہوگا۔
کیونکہ اگر انسان اپنے بیرونی ماحول کو بدلنے کے ساتھ اپنے اندر بھی شعور، دیانت اور رحم پیدا کرنا سیکھ لے تو مستقبل صرف نئی ٹیکنالوجی کا زمانہ نہیں ہوگا، بلکہ ایک زیادہ منصفانہ، مہذب اور باوقار انسانی دنیا کی بنیاد بھی بن سکے گا۔
