اداریہ ۲۶ ستمبر ۲۰۲۶

دو ارب انسان، ایک دین، ایک امن اور ایک مشترکہ مستقبل۔

دنیا کے دو ارب سے زائد مسلمانوں کے سامنے آج بنیادی سوال یہ نہیں کہ کون سا مسلمان ملک کس عالمی طاقت کے قریب ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اتنی بڑی انسانی آبادی اپنے اجتماعی وجود، آزادی، وسائل، سلامتی اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ اصول پر کھڑی ہوسکتی ہے؟ عراق، افغانستان، لیبیا، شام، فلسطین اور دیگر مسلم ممالک کے تباہ کن تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ ہر بحران کے بعد ایک ملک کمزور ہوا، اس کی ریاستی صلاحیت متاثر ہوئی، اس کے وسائل بکھرے اور پھر خطے میں ایک نیا بحران پیدا ہوا۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور سعودی عرب کے گرد بڑھتی ہوئی جوہری و سلامتی کی بحث اسی بڑے منظرنامے کا حصہ ہے۔ امریکی سینیٹرز نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول نیوکلیئر معاہدے کی خفیہ دستاویزات اور شرائط سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی عدمِ پھیلاؤ کے ماہرین نے معاہدے میں سعودی عرب کو یورینیم افزودگی سے متعلق ممکنہ صلاحیت ملنے کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

اسی پس منظر میں ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور اور اسرائیل کی سرحدوں کو تاریخی مذہبی تصورات کے مطابق وسیع کرنے کی بعض سیاسی و آبادکاری تحریکوں کی بحث کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بعض اسرائیلی آبادکار اور سیاسی عناصر ایسے نقشوں اور تصورات کی حمایت کرتے رہے ہیں جن میں موجودہ اسرائیلی حدود سے کہیں آگے اردن، لبنان، شام، عراق، مصر اور سعودی عرب کے بعض حصوں تک پھیلے ہوئے خطے شامل کیے جاتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر خطے میں کسی بھی قسم کی توسیع پسندانہ سوچ، طاقت کے ذریعے سرحدوں کی تبدیلی یا کسی ریاست کی کمزوری کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش موجود ہو تو مسلم دنیا اس کے مقابلے میں محض الگ الگ قومی ردعمل دے گی یا اجتماعی امن و سلامتی کا نظام قائم کرے گی؟

یہاں مسلم دنیا کو اپنے آپ سے ایک اور بنیادی سوال کرنا ہوگا: اگر یورپ ایک یونین بنا سکتا ہے تو مسلم دنیا کیوں نہیں؟ یورپی ریاستیں صدیوں کی جنگوں کے بعد اس مقام تک پہنچیں کہ انہوں نے اپنی قومی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ ادارے، مشترکہ قوانین اور مشترکہ اقتصادی نظام قائم کیا۔ آج یورپی یونین کے 27 رکن ممالک ایک ایسے مشترکہ بازار کا حصہ ہیں جہاں اشیا، خدمات، سرمایہ اور افراد کی نقل و حرکت کے لیے وسیع مشترکہ نظام موجود ہے۔ اگر کبھی ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے والے یورپی ممالک اپنے مفادات کو مشترکہ اداروں میں سمو سکتے ہیں تو ایک تاریخی، تہذیبی اور اخلاقی رشتے میں جڑے مسلم ممالک کم از کم مسلم یونین، مشترکہ اقتصادی منڈی، مشترکہ دفاعی تحقیق اور مشترکہ سفارتی کونسل کیوں نہیں بنا سکتے؟

اور اگر چین 56 نسلی گروہوں اور متعدد مذہبی روایات پر مشتمل ایک وسیع ریاست کے اندر مشترکہ قومی منصوبہ بندی، اقتصادی ترقی اور طویل المدت ریاستی حکمت عملی تشکیل دے سکتا ہے تو مسلم ممالک، جو اپنی اپنی قومی شناختوں کے باوجود ایک مشترکہ دینی و تہذیبی رشتہ رکھتے ہیں، باہمی تعاون کا ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکتے؟ چین کے بارے میں سرکاری طور پر بھی اسے 56 نسلی گروہوں اور کثیر مذہبی معاشرے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جبکہ اس کے موجودہ قومی نظام میں مشترکہ قومی ترقی اور اتحاد پر زور دیا جاتا ہے۔ یہاں مقصد چین یا یورپ کی نقل کرنا نہیں بلکہ ایک اصول سمجھنا ہے: اتحاد کا مطلب شناخت مٹانا نہیں؛ مشترکہ مفاد کے لیے مختلف شناختوں کو ایک ادارہ جاتی نظام میں جوڑنا ہے۔

مسلم دنیا کا اتحاد بھی کسی ایک ملک کی بالادستی یا تمام ریاستوں کو ایک حکومت کے تابع کرنے کا نام نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان پاکستانی رہے، ترکیہ ترک رہے، سعودی عرب سعودی رہے، ایران ایرانی رہے، انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی دارالسلام، بنگلہ دیش، وسطی ایشیا، عرب دنیا اور افریقہ کے ممالک اپنی اپنی قومی شناختیں برقرار رکھیں؛ مگر ان سب کے درمیان ایک ایسا مسلم تعاون کا مشترکہ نظام قائم ہو جو دفاع، معیشت، تجارت، توانائی، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت، خوراک، پانی، سائبر سکیورٹی اور سفارت کاری میں مشترکہ طاقت پیدا کرے۔ یہی اصل مسلم یونین کا تصور ہوسکتا ہے۔

یہ یونین صرف عرب دنیا کی یونین نہیں ہوگی۔ اس میں پاکستان، ترکیہ، ایران، سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی دارالسلام، بنگلہ دیش، مالدیپ، وسطی ایشیا کے قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان، اور افریقہ کے سوڈان، صومالیہ، مصر، لیبیا، نائیجیریا اور دیگر مسلم ممالک بھی اپنی صلاحیت کے مطابق شریک ہوسکتے ہیں۔ ترکیہ کا وسطی ایشیا کے ساتھ بڑھتا ہوا تعلق اس جغرافیے کو مزید اہم بناتا ہے۔ پاکستان اس پورے خطے میں جنوبی ایشیا، چین، وسطی ایشیا اور عرب دنیا کے درمیان ایک اہم رابطہ بن سکتا ہے۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا بحرِ ہند اور جنوب مشرقی ایشیا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ افریقہ مسلم دنیا کے لیے انسانی، زرعی، معدنی اور جغرافیائی امکانات کا وسیع میدان ہے۔

لیکن اس اتحاد کی بنیاد صرف وسائل اور دفاعی طاقت نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام مذہب نہیں، دین ہے۔ مسلم دنیا کو اسلام کو محض ایک مذہبی شناخت، رسوم اور چند شخصی عبادات تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر سمجھنا ہوگا۔ دین انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں دیتا بلکہ عدل، امانت، شوریٰ، حقوق العباد، معاشی انصاف، انسانی جان کی حرمت، کمزور کے تحفظ اور ظلم کے خلاف ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی اجتماعی زندگی میں ان اصولوں کو چھوڑ کر صرف نام، شناخت اور ظاہری شعار تک محدود ہوجائیں تو پھر ان کے پاس ایک مشترکہ نام تو رہ جاتا ہے مگر مشترکہ نظامِ عدل باقی نہیں رہتا۔

اسلامی دنیا کا احیا کسی دوسرے مذہب یا قوم کے خلاف اعلانِ جنگ سے نہیں ہوسکتا۔ اسلام کی طاقت دوسروں کو مٹانے میں نہیں بلکہ *عدل قائم کرنے، ظلم روکنے، انسان کی عزت محفوظ کرنے اور دنیا کو امن دینے میں ہے۔ مختلف ادیان کے تاریخی اور موجودہ سماجی و سیاسی مظاہر میں انسانی تعبیرات اور اداروں کا کردار رہا ہے؛ مسلم دنیا کو اپنے دین کے اصل اخلاقی و اجتماعی اصولوں کو محض مذہبی رسومات میں محدود کرنے کے بجائے عملی زندگی کا مرکز بنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابل محض انسانی خواہش، مفاد اور طاقت کو حتمی معیار بنا دینا کسی بھی معاشرے کو عدل کی منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔

اسی لیے مسلم یونین کا پہلا اصول عدل، دوسرا امن، تیسرا باہمی تحفظ، چوتھا معاشی تعاون اور پانچواں انسانی وقار ہونا چاہیے۔ اگر کسی مسلم ملک پر بیرونی جارحیت ہو تو باقی ممالک اسے تنہا نہ چھوڑیں؛ مگر اجتماعی ردعمل کا پہلا مرحلہ جنگ نہیں بلکہ فوری سفارت کاری، جنگ بندی، انسانی امداد، اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی قانون کے تحت مشترکہ اقدام ہو۔ دفاعی تعاون اس وقت آخری ضمانت ہو جب کسی ریاست کی سلامتی حقیقی خطرے میں ہو۔ اس طرح ’’ایک پر حملہ، سب کے لیے خطرہ‘‘ جنگ پھیلانے کا نہیں بلکہ جنگ روکنے کا اصول بن سکتا ہے۔

ماضی میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ’’اسلامی ایٹم بم‘‘ کہا گیا۔ آج اس تصور کو کہیں وسیع تر بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلم دنیا کو مشترکہ دفاعی صنعت، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، سیٹلائٹ، مواصلات، فضائی و بحری دفاع، سائنسی تحقیق، توانائی، خوراک اور پانی کے تحفظ میں ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو جوڑنا ہوگا۔ ایک ملک کی کامیابی دوسرے ملک کی کمزوری کا علاج بنے۔ ترکیہ کی صنعتی صلاحیت، پاکستان کی دفاعی و سائنسی استعداد، سعودی عرب اور خلیج کے مالی و توانائی وسائل، ایران کی جغرافیائی و صنعتی صلاحیت، انڈونیشیا و ملائیشیا کی بحری و اقتصادی اہمیت، وسطی ایشیا کے معدنی و توانائی وسائل اور افریقہ کی وسیع انسانی و قدرتی صلاحیتیں اگر ایک مشترکہ امن و ترقی کے نظام میں آجائیں تو یہ قوت کسی کے خلاف نہیں بلکہ پوری انسانیت کے حق میں استعمال ہوسکتی ہے۔

سوڈان، لیبیا، صومالیہ، فلسطین، عراق، افغانستان اور شام کے تجربات کو صرف ماضی کے واقعات سمجھنا خطرناک ہوگا۔ یہ مسلم دنیا کے لیے ایک مشترکہ سبق ہیں کہ کمزور ریاست، تقسیم شدہ قیادت اور بیرونی طاقتوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کی قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔ لہٰذا مسلم دنیا کو کسی نئے بحران کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے سے ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں بحران کے آغاز ہی پر اجتماعی سفارت کاری، انسانی امداد، معاشی تعاون اور امن کے لیے مشترکہ کارروائی شروع ہوجائے۔

دو ارب سے زائد مسلمان اگر ایک سیاسی جماعت نہیں بن سکتے تو ضروری نہیں؛ اگر ایک واحد ریاست نہیں بن سکتے تو بھی ضروری نہیں۔ مگر ایک مشترکہ منڈی، مشترکہ دفاعی تحقیق، مشترکہ امن کونسل، مشترکہ سائنسی منصوبے، مشترکہ انسانی امدادی نظام اور مشترکہ سفارتی حکمت عملی تو بنا سکتے ہیں۔ یورپ نے اپنے ماضی کے خونریز تنازعات سے سبق لے کر تعاون کا راستہ اختیار کیا؛ چین نے اپنی مختلف نسلی اور مذہبی ساخت کے باوجود ایک وسیع قومی منصوبہ تشکیل دیا؛ تو مسلم دنیا اپنی قومی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے اپنے مشترکہ مفادات کا ادارہ جاتی اتحاد کیوں نہیں بنا سکتی؟

اصل ضرورت قیادت کے ایک صفحے پر آنے کی ہے۔ ریاض، انقرہ، اسلام آباد، تہران، جکارتہ، کوالالمپور، بندر سری بیگوان، ڈھاکا، تاشقند، آستانہ، عشق آباد، بشکیک، دوشنبہ، قاہرہ، خرطوم، موغادیشو اور عالم اسلام کے دیگر دارالحکومت اگر اپنے اختلافات ختم نہیں تو کم از کم ایک بنیادی اصول پر متفق ہوجائیں کہ **کسی مسلم ملک کی تباہی کو معمول نہیں بننے دیا جائے گا، کسی انسان کے قتل کو معمول نہیں سمجھا جائے گا اور کسی ریاست کی خودمختاری کو طاقت کے زور پر ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تو ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔

یہ اتحاد کسی مذہب کے خلاف نہیں، جنگ کے خلاف ہوگا؛ کسی قوم کے خلاف نہیں، جارحیت کے خلاف ہوگا؛ کسی تہذیب کو مٹانے کے لیے نہیں، تہذیبوں کے درمیان امن کے لیے ہوگا۔ کیونکہ اسلام کا عالمی پیغام محض مسلمانوں کے لیے اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عدل، رحمت، امانت اور انسانی وقار کو قائم کرنا ہے۔

*دو ارب سے زائد انسان اگر اپنے دین کے عدل، امن اور انسانی وقار کے اصولوں پر متحد ہوجائیں تو انہیں دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی نہیں، دنیا کو جنگ اور ظلم سے بچانے کی طاقت حاصل ہوسکتی ہے۔

اب سوال یہ نہیں کہ مسلم یونین بن سکتی ہے یا نہیں؟


سوال یہ ہے کہ جب یورپ اپنے مفادات کے لیے متحد ہوسکتا ہے، چین اپنی مختلف قومیتوں اور عقائد کو ایک ریاستی منصوبے میں جوڑ سکتا ہے، تو دو ارب سے زائد مسلمان اپنی مشترکہ سلامتی، معیشت، علم، وسائل اور امن کے لیے کب ایک صف میں کھڑے ہوں گے؟

طاقت کا حقیقی کمال جنگ جیتنا نہیں؛ ایسی طاقت پیدا کرنا ہے جس کے ہوتے ہوئے جنگ کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔