ملک کا سیاسی ماحول ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں معمولی سیاسی اختلاف بھی بڑے بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے معاملے پر خود جماعت اور اس کے اتحادیوں کے درمیان مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض رپورٹس میں لانگ مارچ کو 5 اکتوبر تک مؤخر کرنے کی اطلاع ہے، بعض میں 4 اکتوبر کو پشاور سے روانگی کا ذکر ہے، جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے 27 ستمبر کی کال مؤخر نہ کرنے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی 25 ستمبر کو لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ محض ایک احتجاج یا ایک تاریخ کا نہیں بلکہ سیاسی رابطے، باہمی اعتماد اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار کا بھی ہے۔
اسی دوران پشاور میں بعض اہم سرکاری عمارتوں کو سکیورٹی خدشات کے باعث خالی کرانے اور دفاتر بند کرنے کی رپورٹس سامنے آئیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بعد ازاں ان اقدامات اور مبینہ سکیورٹی تھریٹس پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ انہیں سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا۔ تاہم حکومتِ خیبرپختونخوا کے مستقبل کے بارے میں یہ دعویٰ کہ ’’فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ حکومت ختم ہوگی‘‘ فی الحال ایک ذرائع سے منسوب دعویٰ ہے؛ اسے سرکاری یا حتمی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ اصل تشویش یہ ہے کہ اگر سیاسی کشمکش، انتظامی بحران اور سکیورٹی کے معاملات ایک دوسرے میں مدغم ہوگئے تو اس کے اثرات صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیں رہیں گے۔ بلوچستان بھی بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور سکیورٹی کے چیلنجز سے دوچار ہے، اس لیے کسی ایک صوبے میں سیاسی یا انتظامی محاذ آرائی کا ماحول پیدا ہونا پورے وفاق کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ایسے وقت میں پاکستان کو مزید تقسیم، شخصیات کے تصادم اور طاقت آزمائی کی نہیں بلکہ سیاسی رابطے کی ضرورت ہے۔ حکومت، حزب اختلاف، صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی اور وفاقی استحکام ایسے معاملات ہیں جن پر کم از کم رابطے کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حالات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ سیاسی اختلاف کو انتظامی بحران اور انتظامی بحران کو سکیورٹی بحران بننے سے روکنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ریاستی اداروں کو ایک میز پر بیٹھ کر آئینی دائرے میں مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا، شخصیات کے ٹکراؤ کو کم کرنا ہوگا اور سیاسی مقابلے کو ریاستی استحکام کے تابع رکھنا ہوگا۔ پاکستان کو اس وقت کسی فاتح یا مفتوح کی نہیں، ایک ایسے سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے جس میں آئین، وفاق، صوبائی حقوق اور قومی سلامتی سب محفوظ رہیں۔
