تحریر: سید انور شاہ
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے نفاذ کی مخالفت کرنے والے ہر جمہوریت پسند کی آواز قابلِ توجہ ہے، کیونکہ منتخب حکومتوں کو برطرف کرنے کا اختیار معمول کی سیاسی کشمکش کا ہتھیار نہیں بننا چاہیے۔ تاہم تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں جب اقتدار سے باہر ہوتی ہیں تو بعض اصولوں کی اہمیت زیادہ شدت سے محسوس کرتی ہیں، لیکن اقتدار میں رہتے ہوئے انہی اصولوں پر عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جنوری 2013ء میں جب کوئٹہ کے علمدار روڈ پر ہزارہ برادری اپنے پیاروں کی لاشیں رکھ کر دھرنا دے رہی تھی، تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کو ہٹانے اور بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے اس وقت صوبائی حکومت کو شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام قرار دیا تھا۔ آج جب تحریک انصاف خود خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کی مخالف ہے تو ماضی کا یہ واقعہ سیاسی اصولوں کے تسلسل اور یکسانیت پر غور کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مظلوم کی حمایت جماعت، قوم، زبان اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کی جائے۔ اگر آج خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کے اختیارات محدود کرنے کو جمہوری اصولوں کے منافی سمجھا جا رہا ہے تو یہی اصول بلوچستان کے لیے بھی یکساں اہم ہونے چاہییں تھے۔ اسی طرح اگر کسی صوبے میں حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو تو اس کی جواب دہی ضروری ہے، لیکن جواب دہی اور منتخب حکومت کو ہٹانا دو الگ معاملات ہیں۔ کسی سیاسی بحران، بدامنی یا انتظامی ناکامی کو بنیاد بنا کر گورنر راج نافذ کرنے کے فیصلے کو محض سیاسی ضرورت قرار دینا کافی نہیں؛ اس کے لیے آئینی جواز، شواہد، تناسب اور جمہوری اداروں کے تحفظ کو بھی جانچنا ضروری ہے۔ موجودہ حالات میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اور اس کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کے درمیان اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم جمہوری اصولوں کو ہر حالت میں مقدم رکھتے ہیں یا ان کی تشریح اپنے سیاسی مفادات کے مطابق کرتے ہیں؟
بقول شاعر: یادِ ماضی عذاب ہے یا رب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا۔ لیکن جمہوریت کے لیے ماضی کو بھولنا نہیں، اس سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ سیاسی رہنما کی بصیرت صرف اس کے آج کے بیان سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے سابقہ مؤقف کا کس دیانت داری سے جائزہ لیتا ہے۔ اگر کسی وقت کسی دوسرے صوبے میں گورنر راج کی حمایت کی گئی تھی اور آج اسی اقدام کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے تو یہ مناسب موقع ہے کہ ماضی کے مؤقف پر نظرثانی کی جائے، جہاں غلطی ہوئی ہو وہاں اعتراف کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر معذرت بھی کی جائے۔ معافی مانگنا کمزوری نہیں بلکہ اپنی غلطی تسلیم کرنے اور انا سے بالاتر ہونے کی علامت ہے۔ جمہوری سیاست میں اصل کامیابی مخالف کو شکست دینے میں نہیں، بلکہ اپنے لیے بھی وہی اصول تسلیم کرنے میں ہے جن کا مطالبہ دوسروں سے کیا جاتا ہے۔ مظلوم کی حمایت ہر دور میں ہونی چاہیے، مگر جمہور کی حکمرانی کا دفاع بھی بلا تفریق ہونا چاہیے؛ کیونکہ اصول اگر صرف اپنے حق میں اچھے لگیں تو وہ اصول نہیں، سیاسی مصلحت بن جاتے ہیں۔
