تحریر: سید انور شاہ
کوئٹہ کی ایک سرد رات تھی۔ بجلی بند تھی اور کمرے میں مچھر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے۔ میز پر پرانی کتابیں، تاریخی دستاویزات اور بکھرے ہوئے کاغذات پڑے تھے۔ میں تاریخ کے اوراق پلٹ رہا تھا، مگر ذہن بار بار ایک ہی سوال کی طرف لوٹ رہا تھا: کیا کسی سرزمین پر نسلوں سے آباد لوگوں کو بھی ہمیشہ اجنبی سمجھا جا سکتا ہے؟ کیا کسی انسان کی شناخت کا فیصلہ صرف اس کے آباؤ اجداد کی جائے پیدائش سے ہوگا، یا اس سرزمین سے بھی جہاں اس نے آنکھ کھولی، تعلیم حاصل کی، زندگی گزاری اور اپنے بچوں کا مستقبل وابستہ کیا؟
یہ سوال میرے اپنے بارے میں نہیں تھا۔ یہ ان خاندانوں کی نئی نسلوں کا سوال تھا جو تقسیمِ ہند کے بعد یہاں آکر آباد ہوئے، جن کی اولادیں اسی مٹی میں پیدا ہوئیں، یہیں پروان چڑھیں اور جن کے لیے پاکستان ہی ان کا وطن ہے۔ ان کے بچوں اور پوتوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کی پیدائش، پرورش، تعلیم اور زندگی سب اسی ملک سے وابستہ ہیں تو انہیں نسل در نسل آبادکار یا اجنبی کیوں کہا جاتا ہے؟
میں نے کتاب بند کی تو محسوس ہوا کہ یہ سوال صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا نہیں، بلکہ ہماری تاریخ، سیاست اور اجتماعی شعور کا سوال ہے۔
برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی تو معلوم ہوا کہ آزادی کی تحریک کسی ایک علاقے، جماعت یا رہنما کی جدوجہد کا نام نہیں تھی۔ بنگال میں سراج الدولہ کی مزاحمت سے لے کر فضل الحق، حسین شہید سہروردی اور سبھاش چندر بوس تک مختلف ادوار میں ایسی شخصیات سامنے آئیں جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں برطانوی اقتدار کو چیلنج کیا۔ سندھ میں اللہ بخش سومرو اور جی۔ ایم۔ سید جیسے رہنماؤں نے سیاست اور صوبائی حقوق کے مختلف تصورات پیش کیے۔ سرحد کے علاقے میں باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک نے عدم تشدد اور عوامی بیداری کا راستہ اختیار کیا، جبکہ فقیر ایپی نے اپنی الگ مزاحمتی جدوجہد جاری رکھی۔ بلوچستان میں خان عبدالصمد خان اچکزئی نے سیاسی شعور، جمہوری حقوق اور آزادی کے سوال کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنایا۔
یہ سب شخصیات ایک جیسی سوچ نہیں رکھتی تھیں، مگر ان کی تاریخ یہ ضرور بتاتی ہے کہ برصغیر کی سیاست مختلف نظریات، قومیتوں، زبانوں اور علاقائی مفادات سے مل کر بنی تھی۔ آزادی کا سوال صرف انگریزوں کی رخصتی کا نہیں تھا؛ یہ بھی طے ہونا تھا کہ آزادی کے بعد ریاست کس اصول پر قائم ہوگی، مختلف قوموں کو کس درجے کے حقوق ملیں گے اور اقتدار عوام تک کس طرح پہنچے گا۔
محمد علی جناح ابتدا میں کانگریس سے وابستہ رہے اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی سمجھے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ان کے اور کانگریس کی قیادت کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل اور جداگانہ نمائندگی کا مؤقف اختیار کیا، جبکہ کانگریس خود کو پورے ہندوستان کی نمائندہ جماعت قرار دیتی رہی۔ مہاتما گاندھی اور دوسرے رہنماؤں کے سیاسی فیصلوں نے ان اختلافات کی صورت گری میں کیا کردار ادا کیا، اور کیا مختلف فریقوں کے درمیان کوئی ایسا سمجھوتا ممکن تھا جو تقسیم سے بچا سکتا؟ تاریخ ان سوالات پر بحث کی گنجائش رکھتی ہے، مگر ان کے جواب کے لیے جذبات کے بجائے دستاویزات، سیاسی حالات اور اس دور کے فیصلوں کا سنجیدہ مطالعہ ضروری ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے تقسیم کی مخالفت کی اور متحدہ ہندوستان کے امکان پر زور دیا۔ مولانا حسین احمد مدنی، جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کے رہنماؤں نے بھی اپنے اپنے دلائل کے ساتھ تقسیم کے منصوبے سے اختلاف کیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ کے نزدیک مسلمانوں کے سیاسی تحفظ کے لیے ایک الگ ریاست ضروری ہوتی جارہی تھی۔ ان اختلافات کے پیچھے صرف مذہبی شناخت نہیں بلکہ اقتدار کی تقسیم، نمائندگی، اکثریت و اقلیت کے خدشات اور مستقبل کی ریاست کے خدوخال بھی تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا متحدہ ہندوستان میں مضبوط وفاق، صوبائی خودمختاری اور اقلیتوں کے آئینی تحفظ کے ذریعے ان اختلافات کا کوئی حل نکل سکتا تھا؟ اس کا قطعی جواب دینا آسان نہیں، کیونکہ تاریخ میں کئی مواقع ایسے آئے جب سیاسی مفاہمت کی گنجائش موجود تھی، مگر اعتماد کی کمی، باہمی بدگمانیاں اور اقتدار کے سوالات نے راستے محدود کردیے۔
مولانا عبیداللہ سندھی کی زندگی بھی اسی عہد کی ایک اہم داستان ہے۔ وہ برطانوی اقتدار کے خلاف انقلابی سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور 1915ء میں کابل پہنچے، جہاں ہندوستان کی عارضی انقلابی حکومت سے متعلق سرگرمیوں میں ان کا کردار سامنے آیا۔ ان کی جدوجہد اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ برصغیر کی آزادی کے لیے مختلف حلقوں نے مختلف راستے اختیار کیے تھے۔ کسی نے سیاسی مذاکرات کو ترجیح دی، کسی نے عوامی تحریک کو اور کسی نے بیرونی حمایت کے ذریعے برطانوی اقتدار کو چیلنج کرنے کی کوشش کی۔
پاکستان قائم ہوا تو اس کے سامنے سب سے بڑا سوال ایک ایسی ریاست کی تعمیر تھا جس میں مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف علاقوں میں آباد لوگ برابر کے شہری بن سکیں۔ محمد علی جناح نے 11 اگست 1947ء کی تقریر میں شہری مساوات پر زور دیا اور واضح کیا کہ ریاستی معاملات میں شہریوں کے حقوق کو مذہب، ذات یا عقیدے کی بنیاد پر مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ اس تصور کا بنیادی تقاضا یہ تھا کہ پاکستان کے تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہوں اور کسی کی شہریت کو اس کے آبائی پس منظر کی وجہ سے کمتر نہ سمجھا جائے۔
لیکن ریاستوں کی تاریخ میں اصول بیان کرنا اور انہیں عملی زندگی میں نافذ کرنا دو الگ مرحلے ہوتے ہیں۔ پاکستان کو قیام کے فوراً بعد انتظامی مشکلات، مہاجرین کی آبادکاری، معاشی مسائل، آئینی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات میں قومی یکجہتی کا سوال مزید پیچیدہ ہوگیا۔
ریاست قلات کے معاملے نے بھی بلوچستان اور پاکستان کے تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا۔ خان آف قلات اور ان کے سیاسی حلقوں کے ساتھ مذاکرات، ریاست کی آئینی حیثیت اور مارچ 1948ء میں الحاق کے واقعات آج تک مختلف تاریخی تعبیرات کا موضوع ہیں۔ محمد علی جناح ریاست قلات کے قانونی مشیر بھی رہے تھے، تاہم اس تعلق اور بعد کے سیاسی واقعات کو سمجھنے کے لیے اس دور کی دستاویزات اور مختلف فریقوں کے مؤقف کا مطالعہ ضروری ہے۔ بلوچستان کی تاریخ کو صرف ایک فریق کی نظر سے دیکھنے کے بجائے وہاں کے عوام کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی تجربات کو بھی سمجھنا ہوگا۔
اگر برصغیر تقسیم نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ یہ سوال تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سے آگے کئی ممکنہ راستے دکھائی دیتے ہیں، لیکن کسی ایک راستے کو یقینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ممکن ہے ایک متحدہ وفاقی ریاست قائم ہوتی، ممکن ہے صوبائی خودمختاری پر مسلسل کشمکش جاری رہتی، اور یہ بھی ممکن تھا کہ مختلف قومیتی اور مذہبی اختلافات کسی دوسری شکل میں سامنے آتے۔
اسی طرح یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ تقسیم نہ ہونے کی صورت میں برصغیر کے تمام محروم طبقات لازماً مذہب تبدیل کرلیتے یا ان کے مسائل خودبخود حل ہوجاتے۔ ذات پات، معاشی نابرابری اور سماجی امتیاز کی تاریخ اپنی جگہ موجود تھی۔ اصل سوال یہ تھا کہ کوئی بھی ریاست اپنے کمزور طبقات کو انصاف، تعلیم، معاشی مواقع اور باعزت زندگی کے کتنے مواقع فراہم کرتی ہے۔
1970ء کے انتخابات نے پاکستان کے سیاسی نظام کے سامنے ایک فیصلہ کن حقیقت رکھی۔ عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی، مگر اقتدار کی منتقلی پر سیاسی قیادت کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا۔ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی، سیاسی بحران اور پھر جنگ کے نتیجے میں 1971ء میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ اس سانحے کو صرف بیرونی مداخلت کے کھاتے میں ڈال دینا کافی نہیں؛ اس میں سیاسی قیادت کی ناکامی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا، صوبائی محرومی، ریاستی جبر اور بیرونی قوتوں کے مفادات سمیت کئی عوامل شامل تھے۔
یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب کسی خطے کے عوام خود کو ریاستی فیصلوں میں غیر مؤثر، اپنی زبان و ثقافت کے حوالے سے غیر محفوظ اور اپنے سیاسی حق سے محروم محسوس کرتے ہیں تو محض طاقت کے ذریعے دیرپا اتحاد قائم نہیں کیا جا سکتا۔ قومی یکجہتی کے لیے اعتماد، انصاف اور سیاسی شراکت ناگزیر ہیں۔
افغانستان کی تاریخ بھی اس خطے کے سیاسی امکانات اور پیچیدگیوں کی مثال ہے۔ اگر پاکستان اور افغانستان کسی دور میں سوویت یونین کے زیر اثر سیاسی و معاشی بلاک کا حصہ بن جاتے تو وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ ایک مختلف علاقائی اتحاد کا امکان زیر بحث آسکتا تھا۔ لیکن یہ محض ایک تاریخی مفروضہ ہے۔ دونوں ملکوں کے داخلی اختلافات، قومی مفادات، عالمی طاقتوں کی رقابت اور خطے کی سیاسی صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا ممکن نہیں کہ ایسا اتحاد لازماً قائم ہوجاتا یا کامیاب رہتا۔ تاریخ کے متبادل امکانات پر غور مفید ہے، بشرطیکہ مفروضے کو حقیقت کا درجہ نہ دیا جائے۔
دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی تقسیم، خودمختاری اور قومی شناخت کے سوال مختلف صورتوں میں سامنے آئے۔ فلسطین میں 1947ء کے اقوام متحدہ کے تقسیم کے منصوبے کے بعد جنگ، اسرائیل کے قیام، فلسطینیوں کی بے دخلی اور ریاستی خودمختاری کا نامکمل سوال کئی نسلوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوا۔ کشمیر کا تنازع تقسیمِ ہند کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک طویل اور پیچیدہ مسئلہ بن گیا، جس کے اثرات وہاں کے عوام کی سیاسی زندگی اور سلامتی پر پڑے۔ مشرقی تیمور نے طویل جدوجہد اور 1999ء کے عوامی استصواب کے بعد 2002ء میں آزادی حاصل کی۔ سوڈان میں طویل خانہ جنگی اور امن عمل کے بعد جنوبی سوڈان 2011ء میں الگ ریاست بنا، مگر نئی ریاست کو بھی اندرونی تنازعات اور حکمرانی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ان مثالوں کی تاریخیں ایک جیسی نہیں اور نہ ہی انہیں کسی ایک سازش یا ایک ہی وجہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ سرحدوں کی تبدیلی یا نئی ریاست کے قیام سے ہر مسئلہ خودبخود حل نہیں ہوجاتا۔ انصاف، مضبوط ادارے، سیاسی شمولیت اور عوامی حقوق کے بغیر آزادی بھی نئے سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔
بلوچستان کی طرف نگاہ لوٹتی تو میرے ذہن میں ایک اور سوال ابھرتا: کیا ہم نے تاریخ سے یہ سبق سیکھا ہے کہ کسی خطے کے عوام کو اس کی زمین، وسائل، زبان اور سیاسی اختیار کے بارے میں اعتماد میں لینا ضروری ہے؟ صوبے کے عوام کے لیے تعلیم، صحت، روزگار، پانی اور بنیادی سہولتیں محض انتظامی مطالبات نہیں بلکہ باوقار زندگی کے بنیادی تقاضے ہیں۔ ان وسائل کی منصفانہ تقسیم اور فیصلہ سازی میں مقامی لوگوں کی مؤثر شرکت کے بغیر ترقی کے منصوبے بھی بے اعتمادی کو ختم نہیں کرسکتے۔
زیارت کی ایک یاد میرے ذہن میں ابھر آئی۔ میں وہاں قائداعظم سے متعلق تاریخی صفحات اور تصاویر دیکھ رہا تھا۔ ان میں مجھے ان کی آخری دیدار سے متعلق کوئی ایسی تصویر نظر نہیں آئی جس کی میں تلاش کررہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا ایسی تصویر کبھی موجود تھی، کیا محفوظ نہ رہ سکی، یا شاید میری نظر سے گزرنے والے مواد میں شامل نہیں تھی؟ صرف کسی تصویر کا نہ ملنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کبھی موجود ہی نہیں تھی، لیکن اس سوال نے مجھے تاریخ کے ریکارڈ، اس کی حفاظت اور ہماری اجتماعی یادداشت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا۔
قائداعظم کی زندگی کے آخری دنوں سے متعلق واقعات میں ان کی صحت، زیارت سے کراچی منتقلی اور کراچی پہنچنے کے بعد پیش آنے والی مشکلات کا ذکر ملتا ہے۔ 11 ستمبر 1948ء کو ان کی وفات ہوئی۔ ان کے سفر کے دوران ایمبولینس میں خرابی یا ایندھن ختم ہونے سے متعلق مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں۔ ان تفصیلات کے بارے میں قطعی دعویٰ کرنے کے بجائے مستند تاریخی ریکارڈ اور دستیاب شہادتوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ تاہم یہ واقعہ اس وسیع تر سوال کی طرف ضرور توجہ دلاتا ہے کہ کسی ریاست میں صحت کی سہولتیں، ہنگامی خدمات اور بنیادی انتظامات کس قدر اہم ہوتے ہیں۔
آج بھی بلوچستان کے کئی علاقوں میں صحت، تعلیم، صاف پانی، سڑکوں اور روزگار کی سہولتیں عوام کی ضرورت کے مطابق موجود نہیں۔ زیارت جیسے علاقوں میں بھی بنیادی سہولتوں تک رسائی کا سوال اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف قدرتی وسائل اور ترقی کے امکانات ہیں، دوسری طرف عام آدمی کی روزمرہ مشکلات۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کرسکتی تو قومی یکجہتی کے دعوے لوگوں کے لیے محض تقریری الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔
میں پھر اسی سوال کی طرف لوٹا جس نے رات کے آغاز میں میرے ذہن کو گھیر رکھا تھا۔ وہ خاندان جو تقسیم کے بعد ہندوستان سے پاکستان آئے، جنہوں نے اس ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا اور جن کی نسلیں یہیں پیدا ہوئیں، ان کی اولاد کو ہمیشہ اجنبی سمجھنے کا رویہ کس طرح قومی وحدت کو مضبوط کرسکتا ہے؟ کسی شخص کی خاندانی تاریخ کا احترام اپنی جگہ، مگر اس کی شہریت اور موجودہ تعلق کو محض آبائی جائے پیدائش کی بنیاد پر مشکوک بنادینا انصاف کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بلوچستان کے مقامی باشندوں کے حقوق، زبانوں، ثقافتوں، زمین، وسائل اور سیاسی اختیار کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ مساوی شہریت کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مقامی قوم کی شناخت یا جائز حقوق کو کم اہم سمجھا جائے۔ اسی طرح مقامی حقوق کا تحفظ بھی دوسرے شہریوں کو مستقل اجنبی قرار دینے کا جواز نہیں بن سکتا۔ ایک منصفانہ ریاست ان دونوں اصولوں کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔
پاکستان کی ہر اکائی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ وہاں آباد تمام شہریوں کی صلاحیتوں، علم اور تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ کسی شہری کو صرف اس کے آبائی پس منظر کی وجہ سے عضوِ معطل بنا دینا نہ صوبے کے مفاد میں ہے اور نہ ملک کے۔ قومی زندگی میں شرکت، ذمہ داری اور حقوق سب کے لیے منصفانہ اصولوں کے تحت متعین ہونے چاہییں، جبکہ مقامی آبادیوں کی تاریخی شناخت اور جائز مفادات کا احترام بھی برقرار رہنا چاہیے۔
رات گہری ہوچکی تھی۔ میں نے کتابیں سمیٹیں اور آنکھیں بند کرلیں۔ معلوم نہیں نیند کب آئی، مگر میں نے خواب میں دیکھا کہ تاریخ کے بند دروازے ایک ایک کرکے کھل رہے ہیں۔ ان کے پیچھے ایسے لوگ کھڑے تھے جو مختلف زبانیں بولتے تھے، مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور مختلف سیاسی نظریات کے حامل تھے، مگر سب اپنے لیے عزت، انصاف اور باوقار زندگی چاہتے تھے۔
میں نے خواب میں ان سے پوچھا کہ تم ایک دوسرے سے جدا کیوں ہوگئے؟ ایک بزرگ نے جواب دیا کہ اختلاف ہمیشہ تباہی کا سبب نہیں بنتا؛ تباہی اس وقت جنم لیتی ہے جب اختلاف کو دشمنی، شناخت کو نفرت اور حقوق کے مطالبے کو غداری سمجھ لیا جائے۔
اچانک منظر بدل گیا۔ میں نے دیکھا کہ ملک کی مختلف اکائیاں اپنے اپنے اندر بھی تقسیم ہوچکی ہیں۔ کہیں زبان کے نام پر، کہیں قومیت کے نام پر، کہیں سیاسی جماعتوں کے اختلاف پر اور کہیں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ہر گروہ اپنے حق کی بات کرتا تھا، مگر دوسرے کے حق کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اتحاد کے نعرے بلند تھے، لیکن اعتماد کمزور پڑچکا تھا۔
میں گھبرا کر جاگ اٹھا۔ کمرے میں اب بھی اندھیرا تھا اور مچھر اپنی جگہ موجود تھے۔ میز پر کتابیں کھلی پڑی تھیں۔ میں نے محسوس کیا کہ خواب کا خوف کسی خیالی دشمن سے نہیں، بلکہ ہماری اپنی بے توجہی، باہمی بداعتمادی اور تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کی عادت سے پیدا ہوا تھا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اس سوال پر لکھنا اور سوچنا ترک نہیں کروں گا۔ شاید ایک تحریر کسی ریاست کا نظام نہ بدل سکے، مگر وہ کسی ذہن میں سوال ضرور پیدا کرسکتی ہے۔ اور کبھی کبھی تبدیلی کا آغاز اسی سوال سے ہوتا ہے جسے لوگ غیر ضروری سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔
وطن صرف سرحدوں، نقشوں اور سرکاری عمارتوں کا نام نہیں۔ وطن وہ احساس ہے جو شہری کو یقین دلاتا ہے کہ اس کی شناخت کا احترام ہوگا، اس کے حقوق محفوظ ہوں گے، اس کی صلاحیتوں کو موقع ملے گا اور اس کے بچوں کو کسی غیر ثابت شدہ نسبت کی بنیاد پر اجنبی نہیں سمجھا جائے گا۔ وطن وہ عہد بھی ہے جس کے تحت مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے لوگ ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ مستقبل تعمیر کرتے ہیں۔
اگر ہم نے اختلافات کو نفرت میں بدلنے دیا، مقامی حقوق اور مساوی شہریت کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا، اور اپنی سیاسی اکائیوں کے اندر اعتماد اور انصاف کو کمزور ہونے دیا تو شاید ایک دن ہماری وحدت محض تاریخ کے صفحات میں تلاش کی جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنے، حقوق کی منصفانہ تقسیم اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کیا تو اختلافات کے باوجود ایک مضبوط مشترکہ مستقبل تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
سوال اب بھی وہی ہے: کیا ہم تاریخ کے بند دروازوں کے سامنے کھڑے ہوکر ایک دوسرے کو الزام دیتے رہیں گے، یا انہیں کھول کر اپنے ماضی سے سبق سیکھیں گے؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، اور وقت ہم سے اس فیصلے کا تقاضا کررہا ہے۔
