مقامی ۱۲ اگست ۲۰۲۶

بی این پی کا سوراب کے المناک واقعے پر شدید تشویش کا اظہار، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

کوئٹہ(ویب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں نے سوراب میں پیش آنے والے المناک واقعے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بار پھر معصوم بچوں اور خواتین کی جانیں ضائع ہوئی ہیں، جس کے باعث بلوچستان کے عوام شدید ذہنی اذیت، خوف اور بے یقینی کا شکار ہیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں بی این پی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مسلسل افسوسناک واقعات سے تنگ آچکے ہیں اور حکومت کو صرف بیانات اور الزامات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر واقعے کے بعد حکومت فوری طور پر ’’فتنہ الہندستان‘‘ کا نام لیتی ہے، تاہم واقعے کے اصل حقائق عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے۔ بی این پی نے مطالبہ کیا کہ سوراب کے واقعے سمیت ایسے تمام واقعات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے بااختیار کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔ پریس کانفرنس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں ساجد ترین ایڈووکیٹ، اختر حسین لانگو، میر مقبول احمد لہڑی، موسیٰ جان بلوچ، غلام نبی مری اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں جاں بحق افراد کے خاندانوں کو فوری مالی امداد اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور خواتین کی ہلاکت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری مؤثر طریقے سے ادا نہیں کر رہی۔ بی این پی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مزید غیر یقینی، خوف اور بدامنی کی صورتحال برداشت نہیں کرسکتے، حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور واقعات کے اسباب و محرکات قوم کے سامنے لانا ہوں گے۔ بی این پی نے اعلان کیا کہ سوراب کے واقعے کے خلاف 16 اگست کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جبکہ خضدار میں جاری دھرنے کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے مطالبات کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔