انٹرٹینمنٹ ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

بلیک کافی کا کپ اور رجعت پسندی کی بنیادیں

تحریر: سید انور شاہ
رات کی محفل اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ہم چند پرانے دوست ایک جگہ بیٹھے تھے۔ گفتگو معمول کے مطابق شروع ہوئی تھی، لیکن آہستہ آہستہ ایک غیر حاضر دوست کی خامیوں، عادتوں اور رویوں کا تذکرہ ہونے لگا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ بعض دوستوں نے اس سے تعلق ختم کرنے کا فیصلہ بھی سنا دیا۔
میں خاموشی سے سب کی باتیں سنتا رہا، مگر جب معاملہ قطع تعلق تک پہنچا تو میرے لیے خاموش رہنا مشکل ہوگیا۔
میں نے کہا، ’’دوستو! ہماری عمر اب چھٹی دہائی سے نکل کر ساتویں دہائی میں داخل ہو رہی ہے۔ زندگی کا ایک طویل حصہ گزر چکا ہے۔ اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم زندگی کے مقررہ وقت سے کچھ اضافی مہلت لے کر گزار رہے ہوں۔ ایسے میں اگر ہم چالیس سال پرانے کسی تعلق کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ذرا سوچیے کہ ہم دراصل کیا ختم کر رہے ہیں؟ صرف ایک شخص سے رابطہ یا اپنی زندگی کے چالیس برسوں کی مشترکہ یادوں، تجربات، خوشیوں، دکھوں اور رفاقت کا ایک باب؟‘‘
میں نے بات آگے بڑھائی۔
’’فرض کیجیے کہ ہم آج اس دوست کو اپنی زندگی سے نکال دیتے ہیں۔ کیا ہمارے پاس اتنا وقت باقی ہے کہ کسی نئے شخص سے تعلق قائم کریں، اسے سمجھیں، اس کے ساتھ آزمائشوں سے گزریں اور اسے اتنا وقت دے سکیں کہ وہ ہمارے لیے چالیس سال پرانے دوست کا متبادل بن جائے؟ اور اگر نیا شخص ہمارے معیار پر پورا نہ اترا تو؟ کیا ہم ایک پرانا تعلق ختم کرنے کے بعد باقی ماندہ وقت میں ایک اور تجربہ ناکام ہونے کا خطرہ بھی مول لیں گے؟‘‘
محفل میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
میں نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوستی کے نام پر ہر زیادتی برداشت کی جائے، نہ ہی یہ کہ کسی تعلق کو محض پرانا ہونے کی وجہ سے ہمیشہ برقرار رکھا جائے۔ لیکن اگر اختلافات قابلِ برداشت ہوں، غلطیوں کی اصلاح ممکن ہو اور رشتے میں بنیادی احترام باقی ہو تو پھر اسے ختم کرنے کے بجائے نبھانے کی کوشش کیوں نہ کی جائے؟ آخر زندگی کے آخری حصے میں نئے رشتوں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ اہم ان رشتوں کی قدر کرنا نہیں جنہوں نے ہماری زندگی کا بڑا حصہ ہمارے ساتھ گزارا ہے؟‘‘
میرے دلائل سے اکثر دوست متفق ہوگئے اور محفل کا ماحول معمول پر آگیا۔ لیکن ایک دوست، جو خود کو عصری تقاضوں کے مطابق سوچنے والا انسان سمجھتا تھا، میری رائے سے مطمئن نہیں تھا۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’تم رجعت پسند ہو۔ تم ماضی سے نکلنا نہیں چاہتے۔ آج کے دور کا انسان معروضی حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے، پرانی یادوں اور گزرے ہوئے وقت کے اسیر ہوکر نہیں رہتا۔‘‘
میں نے اس وقت کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ میری پرانی عادت تھی۔ بعض سوالوں کے جواب فوراً دینے کے بجائے میں انہیں اپنے ذہن میں رکھ لیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہر سوال کا جواب اسی لمحے دینا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض سوال وقت مانگتے ہیں، بعض تجربہ اور بعض ایسی تنہائی جس میں انسان دوسروں کی آوازوں سے نکل کر اپنے اندر کی آواز سن سکے۔
محفل ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں کئی خیالات میرے ذہن میں گردش کرتے رہے، مگر ان سب کے درمیان ایک لفظ مسلسل گونجتا رہا:
رجعت پسند!
آخر رجعت پسندی تھی کیا؟ کیا ماضی کے کسی تجربے کو اہمیت دینا رجعت پسندی ہے؟ کیا پرانے تعلق کو محض اس لیے برقرار رکھنے کی خواہش کہ اس کے ساتھ زندگی کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے، عصری شعور سے محرومی ہے؟ یا پھر میرا دوست خود کو جدید ثابت کرنے کی کوشش میں ایک ایسی انسانی حقیقت نظرانداز کر رہا تھا جس کی بنیاد وقت، اعتماد اور مشترکہ تجربے پر قائم ہوتی ہے؟
گھر پہنچا تو کھانا کھانے کو دل نہیں چاہا۔ میں نے بلیک کافی کا ایک کپ تیار کیا اور اسے لے کر اپنے کمرے میں بیٹھ گیا۔
کافی کی تلخی میں ایک عجیب کشش تھی۔ میں آہستہ آہستہ گھونٹ لیتا رہا اور اپنے خیالات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہا۔ رات گہری ہوتی گئی۔ گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھتی رہیں، مگر نیند مجھ سے دور رہی۔
پھر نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔
اور اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ محض خواب نہیں تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں تاریخ کے کسی بند دروازے سے گزر کر ایسے جہان میں داخل ہوچکا ہوں جہاں زمانہ میرے لیے اپنی سرحدیں کھو بیٹھا تھا۔
پہلا منظر: وہ معاشرہ جہاں انسان سے پہلے معاشرہ تھا
میں نے اپنے آپ کو ایک قدیم شہر میں پایا۔ بلند فصیلیں، تنگ گلیاں، پتھر کے مکانات اور بازاروں میں زندگی کی چہل پہل تھی۔ بظاہر وہ ایک خوشحال معاشرہ تھا۔ لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے، خاندان اپنی روایات پر قائم تھے اور ہر شخص کو معلوم تھا کہ اسے کیا کرنا ہے، کیا کہنا ہے اور کن حدود سے آگے نہیں بڑھنا۔
لیکن اس معاشرے میں ایک عجیب خاموشی بھی تھی۔
لوگ بات کرتے تھے، مگر سوال نہیں اٹھاتے تھے۔ لوگ سوچتے تھے، مگر اپنی سوچ کو زبان دینے سے ڈرتے تھے۔ ہر شخص اپنی جگہ مطمئن دکھائی دیتا تھا، لیکن اس اطمینان کے پیچھے ایک ایسا خوف چھپا تھا جسے کوئی نام نہیں دینا چاہتا تھا۔
میں نے ایک بزرگ سے پوچھا، ’’آپ کے معاشرے میں اتنا نظم و ضبط ہے، لوگ ایک دوسرے کی بات مانتے ہیں، روایات کا احترام کرتے ہیں، پھر بھی آپ سب کے چہروں پر یہ خوف کیوں ہے؟‘‘
بزرگ نے میری طرف دیکھا اور کہا، ’’کیونکہ ہمارے ہاں معاشرہ پہلے ہے اور انسان بعد میں۔ یہاں فرد کی حیثیت اسی وقت تک ہے جب تک وہ اجتماعی روایت کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ اگر کوئی شخص روایت میں ترمیم کی بات کرے تو اسے صرف ایک خیال کی مخالفت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے پورے معاشرے کی روح پر حملہ کردیا ہو۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’کیا کسی روایت میں تبدیلی کی اجازت نہیں؟‘‘
وہ تلخی سے مسکرایا۔
’’تبدیلی؟ یہاں تبدیلی کا تصور اپنے وجود کو روح اور مردہ جسم میں تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ جو روایت کو چیلنج کرتا ہے، وہ زندہ رہتے ہوئے بھی معاشرتی طور پر مردہ سمجھا جاتا ہے۔ لوگ اس سے بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اس کے خیالات کو سننے سے انکار کردیتے ہیں اور اسے اپنی اجتماعی شناخت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔‘‘
میں نے شہر پر دوبارہ نظر ڈالی۔ ہر چیز اپنی جگہ موجود تھی، مگر کچھ بھی آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ عمارتیں پرانی تھیں، راستے پرانے تھے، خیالات پرانے تھے اور مستقبل بھی ماضی کی ایک نقل دکھائی دیتا تھا۔
مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ معاشرتی سکون اور معاشرتی جمود میں فرق ہوتا ہے۔ ہر خاموش معاشرہ خوشحال نہیں ہوتا اور ہر اختلاف انتشار کی علامت نہیں ہوتا۔
میں اس شہر سے نکلنے لگا تو بزرگ کی آواز میرے پیچھے گونجی:
’’یاد رکھنا، بیٹا! روایت انسان کے لیے ہوتی ہے، انسان روایت کے لیے نہیں۔ جس دن روایت کی حفاظت انسان کی زندگی سے زیادہ اہم ہوجائے، اس دن معاشرہ اپنی بقا کے نام پر اپنی ترقی قربان کرنا شروع کردیتا ہے۔‘‘
دوسرا منظر: ردعمل کی رفتار
میں ایک اور شہر میں پہنچا۔ یہ شہر پہلے شہر سے بالکل مختلف تھا۔ یہاں نئی عمارتیں تعمیر ہو رہی تھیں، بازاروں میں نئی چیزیں فروخت ہوتی تھیں اور لوگ مختلف خیالات پر بحث کر رہے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ ہے۔
میں نے سوچا کہ شاید یہاں ہر نئی سوچ کا استقبال کیا جاتا ہوگا۔
لیکن جلد ہی میری خوش فہمی دور ہوگئی۔
یہاں بھی اختلاف تھا۔ نئی ایجادات پر اعتراضات اٹھتے تھے، نئے نظریات کو چیلنج کیا جاتا تھا اور اصلاح کی کوششوں کے سامنے پرانی قوتیں مزاحمت کرتی تھیں۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس معاشرے میں اختلاف کو مکمل طور پر دبانا ممکن نہیں تھا۔
میں نے ایک مفکر سے پوچھا، ’’اگر آپ کے معاشرے میں بھی رجعت پسند قوتیں موجود ہیں تو پھر ترقی کی رفتار اتنی تیز کیسے ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’تم نے رجعت کو صرف پیچھے کی طرف کھینچنے والی قوت کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ اکثر یہی کام کرتی ہے، لیکن تم نے اس کے مقابلے میں پیدا ہونے والے ردعمل کو نہیں دیکھا۔‘‘
اس نے میز پر رکھا ہوا ایک کاغذ اٹھایا اور کہا:
’’جب کوئی نئی سوچ سامنے آتی ہے تو معاشرے میں تین طرح کے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ اسے فوراً قبول کرلیتے ہیں، کچھ اسے مکمل طور پر مسترد کردیتے ہیں، اور کچھ اس کے حق میں دلائل اور شواہد تلاش کرتے ہیں۔ ان تینوں کے درمیان ہونے والی کشمکش سے نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پھر ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے تحقیق ہوتی ہے، نئے تجربات کیے جاتے ہیں اور موجودہ نظام میں اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘
میں نے کہا، ’’تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ رجعت پسندی ترقی کے لیے ضروری ہے؟‘‘
اس نے فوراً جواب دیا، ’’نہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ رجعت بذاتِ خود ترقی پیدا کرتی ہے۔ میں یہ کہتا ہوں کہ مزاحمت کبھی کبھی ان قوتوں کو زیادہ متحرک کردیتی ہے جو تبدیلی چاہتی ہیں۔ اگر کوئی نئی ایجاد یا خیال مخالفت کے بغیر قبول ہوجائے تو بھی ترقی ممکن ہے۔ لیکن جب مخالفت سامنے آتی ہے تو اس خیال کے حامیوں کو اپنی دلیل، افادیت اور عملی نتائج ثابت کرنے پڑتے ہیں۔ بعض حالات میں یہی عمل تبدیلی کو تیز کردیتا ہے۔‘‘
اس کی بات میں وزن تھا، لیکن میرے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا ہوا۔
میں نے پوچھا، ’’پھر کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جتنی زیادہ مخالفت ہوگی، ترقی اتنی ہی تیز ہوگی؟‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
’’یہاں تمہیں انسانی فطرت اور معاشرتی حالات کا فرق سمجھنا ہوگا۔ مخالفت اگر سوال پیدا کرے، تو وہ تحقیق کو تحریک دے سکتی ہے۔ لیکن اگر مخالفت علم کو تباہ کردے، لوگوں کو خاموش کرادے اور معاشرے کو خوف میں مبتلا کردے تو وہ ترقی کو روک بھی سکتی ہے۔ شدت کا تعلق ہمیشہ رفتار سے نہیں ہوتا؛ کبھی شدید ردعمل انقلاب پیدا کرتا ہے اور کبھی شدید ردعمل پورے معاشرے کو تباہ کردیتا ہے۔‘‘
میں اس کی بات سن کر سوچنے لگا کہ شاید میں اپنی نئی دریافت کو بھی کسی نئے تعصب میں تبدیل کرنے والا تھا۔
لیکن خواب ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
تیسرا منظر: جب نئی دنیا نے پرانی دنیا کو چیلنج کیا
اچانک منظر بدل گیا۔ میں نے اپنے آپ کو یورپ کی ایک پرانی درس گاہ میں پایا۔ ایک طرف مذہبی اور روایتی تصورات کے محافظ تھے، دوسری طرف ایسے مفکرین جو مشاہدے، تجربے اور عقل کی بنیاد پر کائنات کو سمجھنا چاہتے تھے۔
مجھے گلیلیو کا زمانہ یاد آیا، جب فلکیات کے نئے تصورات نے رائج کائناتی نظریات کو چیلنج کیا۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں ان لوگوں کے درمیان کھڑا ہوں جو یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حقیقت کا تعین روایت کرے گی یا شواہد۔
پھر میں نے صنعتی انقلاب کی دھند دیکھی۔ مشینیں متعارف ہو رہی تھیں، کارخانے تعمیر ہورہے تھے اور انسانی محنت کی نوعیت بدل رہی تھی۔ ان تبدیلیوں کے ساتھ بے روزگاری کے خدشات، مزدوروں کے حقوق کے مسائل اور پرانے معاشی ڈھانچوں کی مزاحمت بھی موجود تھی۔
کچھ لوگ نئی مشینوں کو خطرہ سمجھتے تھے، جبکہ کچھ انہیں انسانی پیداوار بڑھانے کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ واضح ہوا کہ ٹیکنالوجی صرف امکانات نہیں لاتی؛ وہ نئے سماجی مسائل بھی پیدا کرتی ہے جن کے حل کے لیے قانون، تعلیم، مزدوروں کے تحفظ اور معاشی پالیسیوں میں تبدیلی ضروری ہوتی ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ ترقی کا سفر محض ایجادات کی کہانی نہیں، بلکہ ان کے انسانی نتائج کو سمجھنے اور سنبھالنے کی کہانی بھی ہے۔
اس کے بعد میں نے خواتین کے حقوق کی تحریکوں کو دیکھا۔ ایسے معاشروں میں جہاں خواتین کو تعلیم، ووٹ اور قانونی مساوات کے بعض بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا، وہاں ان حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو طویل مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اسی کشمکش نے سیاسی اور سماجی نظاموں میں تبدیلی کے لیے راستے پیدا کیے۔
میں نے دل ہی دل میں کہا:
’’اگر ہر نئی سوچ کو محض اس لیے رد کردیا جاتا کہ وہ پرانی روایات سے مختلف ہے تو انسان شاید اپنی بہت سی موجودہ آزادیوں اور سہولتوں تک کبھی نہ پہنچ پاتا۔‘‘
پھر ایک اور خیال نے میرے ذہن میں جنم لیا۔
’’لیکن اگر ہر پرانی روایت کو محض پرانا ہونے کی وجہ سے ختم کردیا جاتا تو کیا انسان اپنے تجربات، اجتماعی یادداشت اور تہذیبی شناخت کا بڑا حصہ بھی کھو نہ دیتا؟‘‘
مجھے جواب مل گیا کہ اصل مسئلہ ماضی یا مستقبل میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماضی کے تجربے کو مستقبل کی ضرورت کے مطابق کس طرح سمجھا جائے۔
چوتھا منظر: جدید معاشروں کی آزمائش
اب میں ایک جدید شہر میں تھا۔ بلند و بالا عمارتیں، تیز رفتار ٹرانسپورٹ، جدید جامعات، تحقیق کے مراکز اور مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نظام ہر طرف موجود تھے۔
میں نے ایک عمارت کی دیوار پر لکھا دیکھا:
’’ترقی کا مطلب صرف نئی چیز بنانا نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ہے کہ اسے کیوں اور کس کے لیے بنایا جائے۔‘‘
ایک نوجوان محقق میرے قریب آیا۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’تمہارے خیال میں آج کے جدید معاشروں کی ترقی کے پیچھے کون سا بنیادی اصول کارفرما ہے؟‘‘
اس نے کہا، ’’سوال کرنے کی آزادی، غلطی تسلیم کرنے کی صلاحیت اور اپنے نظام کو بہتر بنانے کی گنجائش۔‘‘
اس نے جاپان کی مثال دی، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے ساتھ روایتی ثقافت کے کئی پہلو بھی برقرار ہیں۔ اس نے جنوبی کوریا کا ذکر کیا، جس نے تعلیم، تحقیق اور صنعتی منصوبہ بندی کے ذریعے اپنی معیشت کو تبدیل کیا۔ پھر اس نے ان معاشروں کی طرف توجہ دلائی جہاں سائنسی تحقیق، کاروباری جدت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے سازگار ماحول نے نئی صنعتوں اور ٹیکنالوجی کو فروغ دیا۔
اس نے کہا، ’’ان مثالوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہر مخالفت ترقی کے لیے فائدہ مند ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ معاشرے اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور نئے حالات کے مطابق خود کو بدلنے کی صلاحیت پیدا کریں تو ترقی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’اور اگر کوئی معاشرہ ہر تبدیلی کی مخالفت کرے؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’تو اسے اپنے وسائل، انسانی صلاحیت اور مستقبل کے امکانات کے ضیاع کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی معاشرہ ہر نئی چیز کو سوچے سمجھے بغیر قبول کرلے تو وہ بھی مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ رازداری، نگرانی، روزگار اور اخلاقی ذمہ داریوں کے سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ہمیں نہ اندھی مخالفت چاہیے اور نہ اندھی تقلید؛ ہمیں دلیل، تحقیق اور انسانی مفاد کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہییں۔‘‘
اس کی بات سنتے ہوئے مجھے اپنا وہ دوست یاد آیا جس نے مجھے رجعت پسند کہا تھا۔
میں نے سوچا، شاید ہم دونوں ایک ہی مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ تعلقات کے بارے میں موجودہ حالات کو اہمیت دے رہا تھا اور میں ان چالیس برسوں کے تجربے کو جنہیں چند لمحوں کے غصے میں نظرانداز کرنا آسان، مگر دوبارہ حاصل کرنا ناممکن تھا۔
لیکن کیا ہر پرانا تعلق بچانا ضروری تھا؟ نہیں۔
کیا ہر نیا تعلق پرانے سے بہتر ہوسکتا تھا؟ اس کی بھی کوئی ضمانت نہیں تھی۔
اصل سوال یہ تھا کہ فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے: وقتی ناراضی پر، معاشرتی دباؤ پر، یا طویل تجربے، باہمی احترام اور مستقبل کے امکانات پر؟
مجھے محسوس ہوا کہ جس بات کو میرا دوست رجعت پسندی سمجھ رہا تھا، اس میں ایک پہلو انسانی تجربے کی قدر کا بھی تھا۔ تاہم اگر میں صرف اس لیے کسی تعلق کو برقرار رکھنے پر اصرار کرتا کہ اس میں چالیس برس گزر چکے ہیں، چاہے اس میں مسلسل تذلیل یا نقصان موجود ہو، تو میرا یہی مؤقف دانش مندی کے بجائے ماضی سے غیر ضروری وابستگی بن سکتا تھا۔
میں نے پہلی بار اپنے ہی خیال کا تنقیدی جائزہ لیا۔
شاید حقیقی شعور یہی ہے کہ انسان دوسروں کے نظریات کو پرکھنے کے ساتھ اپنے نظریات کو بھی سوالوں کے سامنے رکھے۔
پانچواں منظر: بلیک کافی کا فلسفہ
اب میں ایک وسیع میدان میں کھڑا تھا۔ میرے سامنے ایک عظیم عمارت تعمیر ہورہی تھی۔ اس کی بنیادوں میں پتھر، لوہا اور سیمنٹ استعمال ہورہے تھے، مگر عمارت کی ایک دیوار پر بڑے حروف میں لکھا تھا:
’’یہ عمارت اختلاف، مزاحمت، تجربے اور اصلاح کی بنیادوں پر کھڑی ہے۔‘‘
میں نے ایک معمار سے پوچھا، ’’کیا اس عمارت کی بنیاد رجعت پسندی ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’نہیں، اس کی بنیاد انسان کی وہ صلاحیت ہے جو مخالفت کے باوجود سیکھنا اور تعمیر کرنا نہیں چھوڑتی۔ رجعت پسندانہ ردعمل نے بعض مواقع پر اس عمل کو تیز کیا ہوگا، لیکن عمارت کی اصل بنیاد علم، تجربہ، تنقید اور اصلاح ہے۔‘‘
میں نے کہا، ’’لیکن اگر مخالفت نہ ہوتی تو کیا ترقی اتنی تیز ہوتی؟‘‘
معمار نے مسکرا کر جواب دیا، ’’بعض حالات میں شاید نہیں، لیکن ہر حالت میں ایسا نہیں کہا جا سکتا۔ کبھی مخالفت لوگوں کو اپنی دلیل مضبوط کرنے پر مجبور کرتی ہے، کبھی وہ غیر ضروری تاخیر پیدا کرتی ہے، اور کبھی کسی غلط خیال کے خلاف مزاحمت معاشرے کو بڑے نقصان سے بچا لیتی ہے۔ اس لیے مخالفت کی موجودگی سے زیادہ اہم اس کا نتیجہ ہے۔‘‘
میں نے عمارت کی طرف دیکھا۔ اس کی بنیادوں میں مجھے صرف مزاحمت نہیں بلکہ انسانی غلطیوں کی اصلاح، پرانی کامیابیوں سے حاصل ہونے والا علم اور مستقبل کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی کوشش بھی دکھائی دی۔
اچانک مجھے اپنے کمرے کی میز پر رکھا بلیک کافی کا کپ یاد آیا۔
میں نے خواب میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا تو محسوس ہوا کہ میں وہی کپ تھامے کھڑا ہوں۔ اس کی تلخی اب میرے لیے ایک علامت بن چکی تھی۔ جیسے زندگی کی تلخیاں انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں، ویسے ہی اختلاف اور مخالفت بھی بعض اوقات فکری بیداری کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن کافی کی تلخی بذاتِ خود سکون یا دانائی پیدا نہیں کرتی؛ اس سے فائدہ اسی وقت ہوتا ہے جب انسان اس تجربے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
میں نے اپنے آپ سے کہا:
’’شاید میں رجعت پسند ہونے کے الزام سے اس لیے پریشان تھا کہ میں نے اس لفظ کو اپنی ذات کے خلاف فیصلہ سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ کسی لفظ کا استعمال کسی خیال کو درست یا غلط ثابت نہیں کرتا۔ اصل اہمیت اس دلیل کی ہے جس پر وہ خیال قائم ہے۔‘‘
میں نے فیصلہ کیا کہ اگلی بار اپنے دوست کو جواب دیتے ہوئے میں اسے رجعت پسند یا ترقی پسند قرار دینے کے بجائے اس کے سامنے چند سوال رکھوں گا۔
کیا ہر نیا خیال بہتر ہوتا ہے؟
کیا ہر پرانی روایت ناقابلِ اصلاح ہوتی ہے؟
کیا کسی تعلق کی عمر اس کی اہمیت کا ایک پہلو نہیں؟
اور کیا اختلاف کے باوجود تعلق کو برقرار رکھنا کبھی کبھی اس تعلق کو ختم کرنے سے زیادہ دانش مندی کا تقاضا نہیں کرتا؟
لیکن اس کے ساتھ میں خود سے یہ سوال بھی کروں گا کہ کہیں میں ماضی کی قدر کرتے کرتے اس کے اسیر تو نہیں ہوگیا؟ کہیں میں ایک پرانے تعلق کی حفاظت کے نام پر کسی ایسے رویے کو تو برداشت نہیں کررہا جو میری عزت اور سکون کے لیے نقصان دہ ہو؟
ان سوالوں کے درمیان مجھے محسوس ہوا کہ انسان کی فکری ترقی کا آغاز اکثر اسی وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے مخالف کے سوال کو سننے کے ساتھ اپنے جواب پر بھی شک کرنے کی ہمت پیدا کرتا ہے۔
آخری منظر: بیداری
اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
صبح کی روشنی کھڑکی سے اندر آرہی تھی۔ کمرے میں خاموشی تھی اور میز پر بلیک کافی کا خالی کپ پڑا تھا۔ خواب کے مناظر آہستہ آہستہ دھندلا رہے تھے، مگر ان سے پیدا ہونے والے سوال میرے ذہن میں موجود تھے۔
میں نے پانی پیا اور کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
رات کی محفل، دوست کا الزام، چالیس برس کی رفاقت اور خواب میں دیکھے ہوئے معاشرے سب ایک دوسرے سے جڑنے لگے۔
میں نے محسوس کیا کہ شاید زندگی کا اصل سبق یہ نہیں کہ انسان رجعت پسند بنے یا ترقی پسند، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے نظریات کو جامد نہ ہونے دے۔ ماضی سے محبت کرے مگر اسے مستقبل کی راہ میں دیوار نہ بنائے۔ نئے خیالات کو سنے مگر انہیں محض نیا ہونے کی وجہ سے قبول نہ کرے۔ اختلاف کا سامنا کرے مگر اختلاف کرنے والے کو دشمن نہ سمجھے۔
مجھے اپنے دوست کی بات کا جواب بھی مل گیا تھا۔
اگر وہ مجھے رجعت پسند کہتا ہے تو مجھے اس لفظ سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں اسے یہ بتا سکتا ہوں کہ پرانے تعلق کی قدر کرنا میرے لیے ماضی کی اندھی تقلید نہیں بلکہ ایک تجربے کا احترام ہے۔ البتہ اگر اس تعلق میں بنیادی احترام ختم ہوجائے اور نقصان مسلسل بڑھتا جائے تو صرف گزرے ہوئے برسوں کی بنیاد پر اسے برقرار رکھنا بھی ضروری نہیں۔
اسی طرح کسی معاشرے کی ترقی کے لیے رجعت پسندانہ ردعمل کبھی مزاحمت کی صورت میں ایک محرک بن سکتا ہے، لیکن ترقی کی ضمانت نہیں۔ ترقی کی اصل بنیاد یہ ہے کہ معاشرہ مزاحمت سے سیکھے، غلطیوں کی اصلاح کرے، انسانی آزادیوں کا احترام کرے اور اپنے مستقبل کے لیے بہتر راستے تلاش کرے۔
میں نے سوچا کہ اگر انسانی تاریخ میں ہر مخالفت کو طاقت کے ذریعے کچل دیا جاتا، ہر سوال کو جرم سمجھا جاتا اور ہر اختلاف کو غداری قرار دے دیا جاتا تو بہت سے علمی، سماجی اور سیاسی مباحث آگے نہ بڑھ پاتے۔ لیکن اگر ہر اختلاف کو صرف اس لیے درست مان لیا جاتا کہ وہ پرانی سوچ کے خلاف ہے، تو انسان نئی غلطیوں کا شکار بھی ہوسکتا تھا۔
چنانچہ اصل دانش مندی مخالفت کی شدت میں نہیں، اس سے پیدا ہونے والے شعور میں ہے۔
کچھ دیر بعد میں نے بلیک کافی کا کپ اٹھایا، اسے دھویا اور اپنی میز پر رکھ دیا۔
رات کے خواب نے مجھے رجعت پسندی کا نیا مفہوم نہیں دیا تھا، بلکہ ایک پرانے لفظ کو نئے سوالات کے سامنے رکھ دیا تھا۔ اب میرے لیے رجعت اور ترقی دو ایسے عنوانات نہیں رہے تھے جن میں سے کسی ایک کو چننا ضروری ہو۔ میرے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ انسان ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔
میں نے دل ہی دل میں اپنے دوست کو جواب دیا:
’’میرے دوست! اگر پرانی دوستی کو بچانے کی کوشش رجعت پسندی ہے تو میں اس الزام پر دوبارہ غور کروں گا؛ لیکن اگر ہر اختلاف پر تعلق ختم کردینا جدیدیت ہے تو میں اس جدیدیت کے معیار کو بھی پرکھنا چاہوں گا۔ کیونکہ انسان کی ترقی کا تعلق صرف نئے فیصلے کرنے سے نہیں، بلکہ بہتر فیصلے کرنے سے ہے۔‘‘اور پھر مجھے محسوس ہوا کہ شاید زندگی کے اس مرحلے پر سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہم اپنے باقی ماندہ وقت کو محض لوگوں کو اپنی زندگی سے نکالنے میں صرف نہ کریں، بلکہ یہ بھی سیکھیں کہ کن رشتوں کو بچایا جا سکتا ہے، کن رویوں کی اصلاح ممکن ہے اور کن راستوں پر آگے بڑھنے کے لیے ماضی سے رخصت لینا ضروری ہے۔کیونکہ تاریخ کا سبق یہ نہیں کہ رجعت کے بغیر ترقی ممکن نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو معاشرہ اختلاف سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس سے سیکھنا جانتا ہے، وہ اپنے مستقبل کی تعمیر کے زیادہ امکانات پیدا کرتا ہے۔اور شاید یہی بلیک کافی کے اس کپ کا آخری سبق تھا: تلخی زندگی کا حصہ ہے، مگر اس تلخی کو شعور میں بدل دینا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔