بلوچستان کا سب سے بڑا المیہ صرف غربت نہیں بلکہ نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے۔ صوبے میں لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں اور ان کے ساتھ وابستہ خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر حکومت خود یہ محسوس کرتی ہے کہ بے روزگاری صوبے میں محرومی اور بدامنی کے اسباب میں شامل ہے تو پھر روزگار کو محض اعلانات تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے رواں سال 25 ہزار سے زائد سرکاری آسامیوں پر میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کا اعلان کیا، جبکہ بعض محکموں میں بھرتیوں کے ٹیسٹ اور انٹرویوز ملتوی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اسی طرح سرکاری ملازمتوں کی خرید و فروخت سے متعلق شکایات پر وزیراعلیٰ نے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ثبوت سامنے آنے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہر بھرتی کا عمل مکمل طور پر شفاف، قابلِ نگرانی اور میرٹ پر مبنی ہو، ٹیسٹ اور انٹرویوز کی تاریخیں بلاجواز مؤخر نہ ہوں اور امیدواروں کو غیر یقینی کی کیفیت میں نہ رکھا جائے۔
بے روزگار نوجوانوں کے لیے دس ہزار زرنج رکشے آسان اقساط پر فراہم کرنے کا منصوبہ اپنی جگہ ایک روزگار کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں یہ اقدام مجموعی بے روزگاری کے حجم کے مقابلے میں محدود اثر رکھے گا۔ اصل ضرورت ایک جامع روزگار پالیسی کی ہے جس میں ہر ضلع کی مقامی معیشت کے مطابق چھوٹی صنعتیں، زرعی و لائیو اسٹاک کی پیداوار و مصنوعات، معدنیات کی مقامی پروسیسنگ، ماہی گیری، دستکاری، تعمیراتی شعبے اور نوجوانوں کے لیے فنی و ہنرمندی کے مراکز شامل ہوں۔ صوبائی حکومت کے بلوچستان ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ اتھارٹی کے تحت جاری پروگراموں کو محض تربیت تک محدود رکھنے کے بجائے روزگار اور عملی صنعت سے منسلک کیا جائے۔ پہلے سے موجود فنی و ہنرمندی کے مراکز کو فوری طور پر فعال، مؤثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے، جبکہ جن اضلاع اور علاقوں میں کسی مخصوص ہنر یا صنعت کی ضرورت ہے وہاں اسی ضرورت کے مطابق نئے مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ نوجوانوں کو مقامی اور بین الاقوامی روزگار کے لیے قابلِ عمل ہنر فراہم ہوسکے۔
بلوچستان کے نوجوانوں میں محرومی کا احساس اس وقت مزید گہرا ہوتا ہے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف صوبے میں روزگار کے مواقع محدود ہیں اور دوسری طرف وفاقی محکموں میں بلوچستان کے مختص کوٹے پر تعیناتیوں کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وفاقی ملازمتوں میں بلوچستان کے کوٹے پر ہونے والی بھرتیوں کا مکمل اور شفاف آڈٹ کرائے، جعلی ڈومیسائل یا غیر قانونی طریقے سے کوٹے کے حصول کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کرے اور حقیقی حقداروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ اسی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، بروقت تکمیل، کھلی نگرانی اور ضلع وار اخراجات کی عوامی تفصیل لازمی قرار دی جائے۔ سرکاری اعداد کے مطابق صوبے نے 2025-26 میں ترقیاتی فنڈز کے استعمال میں بلند شرح کا دعویٰ کیا ہے، اس لیے اصل امتحان یہ ہے کہ خرچ ہونے والی رقم کا کتنا حصہ واقعی سڑک، اسکول، اسپتال، آبپاشی، صنعت اور روزگار میں تبدیل ہوا۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو صرف رکشے نہیں بلکہ مواقع، ہنر، صنعت، میرٹ اور باعزت روزگار کا مستقل نظام درکار ہے۔ اگر حکومت بے روزگاری کو بدامنی کے بنیادی اسباب میں شمار کرتی ہے تو اسے روزگار کو محض ایک فلاحی پیکیج نہیں بلکہ صوبے کے امن، معیشت اور مستقبل کی بنیادی حکمتِ عملی بنانا ہوگا۔
