مقامی ۱۲ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں تعلیم کی ترقی کے دعوے صرف اعلانات تک محدود، ٹیکسٹ بک بورڈ کی مبینہ بے ضابطگیوں پر سوالات

کوئٹہ(ویب نیوز)بلوچستان میں تعلیم کے فروغ اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے حکومتی دعووں کے برعکس بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے حوالے سے سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں نے صوبے کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق ادارے کے بعض اعلیٰ حکام کے ذاتی مفادات اور مالی معاملات میں مبینہ غیر شفافیت کے باعث نہ صرف درسی کتابیں بروقت فراہم نہیں کی جاسکیں بلکہ نئے تعلیمی سال کے آغاز ہی سے طلبہ، اساتذہ اور والدین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے موجودہ سربراہ نے درسی کتب کی طباعت اور ترسیل کے معاملات میں بلوچستان کے مقامی اور تجربہ کار ٹھیکیداروں کے بجائے پنجاب کے بعض ٹھیکیداروں کو ترجیح دینے کی کوشش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق مقامی ٹھیکیدار ماضی میں بورڈ کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہے ہیں، تاہم انتظامی اور تکنیکی اعتراضات کی بنیاد پر انہیں آئندہ مراحل سے خارج کرنے کی مبینہ کوششیں تشویش کا باعث ہیں۔ عوامی اور تعلیمی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مقامی ٹھیکیدار مقررہ شرائط پوری کرتے ہیں اور درسی کتب کی طباعت و ترسیل کا تجربہ رکھتے ہیں تو انہیں نظر انداز کرکے صوبے سے باہر کے ٹھیکیداروں کو ترجیح کیوں دی جارہی ہے؟ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کے بعض پسندیدہ ٹھیکیداروں کو شامل کرنے کے لیے ٹینڈر کے طریقہ کار میں تبدیلی کی کوششیں بھی جاری ہیں، جس پر مکمل اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تقرریوں، ٹینڈرز اور مالی معاملات کا ریکارڈ منظر عام پر لایا جائے اور ان کا آزادانہ آڈٹ و تحقیقات کرائی جائیں۔ دوسری جانب رواں تعلیمی سال کے آغاز سے درسی کتب کی فراہمی بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ تعلیمی سال مارچ میں شروع ہوا، تاہم نرسری سے نویں جماعت تک بڑی تعداد میں کتابیں تبدیل کی گئیں اور نئی کتب بروقت دستیاب نہ ہونے کے باعث طلبہ و اساتذہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق کتابوں کا ایک محدود حصہ اپریل جبکہ باقی کتابیں مئی میں فراہم کی گئیں، جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو ٹیکسٹ بک بورڈ کی مبینہ بے ضابطگیوں، ٹینڈرز، تقرریوں، کتابوں کی طباعت اور مقامی ٹھیکیداروں کو مبینہ طور پر نظر انداز کیے جانے سے متعلق آگاہ کیا جاچکا ہے، تاہم تاحال مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث عوامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔