مقامی ۱۰ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں بدامنی تشویشناک حد سے بڑھ گئی، ریاستی رٹ ختم ہو چکی، جمعیت علمائے اسلام نظریاتی

کوئٹہ (ویب نیوز) ــ جمعیت علمائے اسلام نظریاتی پاکستان کے مرکزی امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی جنرل سیکریٹری مفتی شفیع الدین، مرکزی سیکریٹری اطلاعات حاجی سید عبدالستار شاہ چشتی، حاجی حیات اللہ کاکڑ اور دیگر رہنماؤں نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے صوبے میں حالات تشویشناک حد سے تجاوز کر چکے ہیں، ریاستی رٹ کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی اور حکمران موجودہ مسائل کے سامنے بے بس اور بے حس ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت پورے ملک میں عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ شدید مشکلات سے دوچار ہے اور حکومت، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام، مسافروں اور تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہر سال امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جانے کے باوجود قتل، چوری، بدامنی اور دہشت گردی کے مسلسل واقعات حکومتی و سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں پر مسافروں، ڈرائیوروں اور تاجروں کے تحفظ کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور عوام اب اپنے عزیزوں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے اندر بھی دن دیہاڑے قتل اور دہشت گردی کے واقعات سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کا واضح ثبوت ہیں۔ ان کے مطابق بدامنی کے باعث تاجر اور سرمایہ کار ملک چھوڑنے اور اپنی سرمایہ کاری بیرونِ ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے بلوچستان کی معاشی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر سیکیورٹی کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور عوام و شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافروں کا تحفظ فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ رہنماؤں نے انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کی مسلسل بندش کے باعث عوام اور کاروباری حلقوں کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ کوئٹہ اور گردونواح میں جرائم میں اضافہ بھی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کے حل، عوام میں پائی جانے والی محرومی کے احساس کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔