مقامی ۲۲ اگست ۲۰۲۶

بلوچستان میں بدامنی تشویشناک، عوام کو آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کی کوشش قبول نہیں، اے این پی

کوئٹہ(ویب نیوز)عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی میں ڈیم اور پولیس اسٹیشنوں کو بم دھماکوں سے نشانہ بنانے، تھانوں سے پولیس اہلکاروں کو واپس بلانے اور انہیں غیر مسلح رکھنے، ضلع ہرنائی میں مغوی نوجوان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہونے اور ضلع پشین کی تحصیل سرانان میں پولیس اسٹیشن کو دھماکے سے اڑانے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور ریاست و حکومت کو محض بیانات اور رسمی اقدامات تک محدود رہنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہوگی، بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی خواہ کسی بھی تنظیم، گروہ یا فرد کی جانب سے ہو کسی صورت قابل قبول نہیں، سنجاوی، زیارت، ہرنائی اور پشین کے واقعات نے عوام میں خوف و اضطراب پیدا کردیا ہے جبکہ مسلسل بدامنی کے نتیجے میں مقامی آبادی کو آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کی صورتحال پیدا ہورہی ہے، اگر لوگوں کو خوف و ہراس کے ذریعے ان کے علاقوں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ انتہائی خطرناک اور ناقابل قبول عمل ہے، قومی شاہراہوں، بازاروں، تجارتی مراکز، سرکاری تنصیبات اور شہری آبادیوں کا تحفظ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اے این پی نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات، ذمہ دار عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف قانونی کارروائی، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بدامنی کے مستقل سدباب کے لیے واضح، مؤثر اور مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے۔