کوئٹہ (ویب نیوز) بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 منظور کرلیا جبکہ 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر مشترکہ مذمتی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں امن و امان، دہشت گردی، کشمیر، زیارت سانحہ اور عوامی مسائل پر حکومتی و اپوزیشن اراکین نے تفصیلی اظہار خیال کیا۔ اجلاس کے آغاز میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 ایوان میں پیش کیا، جسے اراکین نے منظور کرلیا۔ بعد ازاں بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی آرڈیننس 2026 کو آئین کے آرٹیکل 128(2)(a) کے تحت نامنظور کرنے سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ قرارداد میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کو غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے مقبوضہ کشمیر کی شناخت، آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی، انسانی حقوق کی صورتحال، گرفتاریوں، میڈیا پابندیوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے کہا کہ کشمیری عوام کے پاکستان کے ساتھ مذہبی، تاریخی اور سیاسی روابط ہیں، جبکہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے کہا کہ کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ بھارت نے 2019 میں کشمیریوں کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، جبکہ پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے۔ صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ 5 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جانا چاہیے اور دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے۔ وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ مشیر کھیل مینا مجید نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔اجلاس میں رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے عوام کو آئینی اور قانونی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی نے عاصہ جتک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت سے فوری انصاف کی فراہمی اور معاملے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اجلاس کے اختتام پر ایوان نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 اور یومِ استحصالِ کشمیر کی قرارداد سمیت مختلف امور پر متفقہ فیصلے کیے۔
