کوئٹہ (یب نیوز) جمعیت علمائے اسلام کوئٹہ کے ضلعی امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق اور دیگر رہنماؤں نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورک اور دیگر بنیادی خدمات کی بار بار بندش حکومت کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے اور سکیورٹی کے نام پر پورے بلوچستان کے عوام کو اجتماعی سزا دینا ناقابل قبول ہے۔ جے یو ائی رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تجارت، روزگار، صحافت، تعلیم، ان لائن کاروبار اور روزمرہ زندگی کی اہم ضرورت بن چکا ہے، تاہم انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بار بار بندش سے تعلیمی اداروں، تاجروں، صحافیوں، وکلا، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سروسز بند کرنے کے بجائے عوامی مشکلات کے مستقل اور عملی حل تلاش کیے جائیں اور سکیورٹی کے نام پر پورے صوبے یا وسیع علاقوں کو مواصلاتی سہولیات سے محروم نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر کسی مخصوص علاقے میں حقیقی سکیورٹی خطرہ موجود ہو تو حکومت قانون اور ائین کے دائرے میں محدود اور مختصر مدت کے اقدامات کرے، تاہم پورے بلوچستان یا وسیع علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کو بغیر واضح وجہ کے بند کرنا عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ جے یو ائی رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی پسماندگی، بے روزگاری، غربت، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے اور مواصلاتی خدمات کی بندش عوام میں محرومی کے احساس کو مزید گہرا کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز پر غیر ضروری پابندیاں فوری ختم کی جائیں اور اگر کسی علاقے میں ناگزیر سکیورٹی وجوہات کے باعث خدمات متاثر ہوتی ہیں تو عوام کو اس کی وجوہات سے اگاہ کیا جائے اور سروسز کو کم سے کم وقت میں بحال کیا جائے۔ جے یو ائی کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا کہ وہ عوام کے بنیادی حقوق، ازادی اظہار، معلومات تک رسائی اور قانونی مطالبات کے لیے جمہوری اور ائینی فورمز پر اپنی اواز بلند کرتے رہیں گے۔
