کوئٹہ (ویب نیوز) انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے صدر رحیم آغا نے اعلان کیا ہے کہ تاجر برادری 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کرے گی، جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوگا، تاہم بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی مصروفیات کے باعث مذاکرات نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ہمیشہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی، لیکن مسلسل تاخیر اور وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ رحیم آغا نے یہ بات کوئٹہ شہر کے مختلف بازاروں اور تجارتی تنظیموں کے عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کے تمام مطالبات قانونی اور جائز ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر 7 اور 8 اگست کی ہڑتال کے باوجود حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے اور سنجیدہ مذاکرات نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ کوئٹہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی جائے گی، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے تمام تاجر تنظیموں، دکانداروں، کاروباری افراد اور صنعتکاروں سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے اتحاد، نظم و ضبط اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ تاجروں کے مسائل حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچائے جا سکیں۔
