تحریر: سید انور شاہ

میں خیالات کی دنیا میں بھٹک رہا تھا۔ یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں سرحدیں نقشوں پر کھنچی ہوئی تھیں، مگر مفادات کی سرحدیں کہیں زیادہ وسیع تھیں۔ کہیں ترقی یافتہ ممالک اپنی خوش حالی کے چراغ روشن کیے ہوئے تھے، کہیں ترقی پذیر ریاستیں ان چراغوں کو جلانے کے لیے ایندھن مہیا کر رہی تھیں، اور کہیں تیسری دنیا کے عوام اپنے ہی گھروں میں اجنبی بن کر زندگی گزار رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ تیسری دنیا کے پہاڑ معدنیات سے بھرے ہوئے ہیں، زمینیں زرخیز ہیں، دریا پانی سے لبریز ہیں اور سمندر قدرتی دولت سے مالا مال ہیں، مگر ان وسائل کے اصل وارثوں کے گھروں میں بھوک، بے روزگاری اور محرومی نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ان کے وسائل پر فیصلے کہیں اور ہوتے تھے، ان کی دولت کہیں اور پہنچتی تھی اور ان کے حصے میں چند وعدے، کچھ اعداد و شمار اور ترقی کے خوش نما خواب آتے تھے۔
میں نے ترقی پذیر اور نیم خودمختار ریاستوں کے حکمرانوں کو دیکھا۔ ان کے چہروں پر اقتدار کی چمک تھی، مگر نگاہوں میں ایک عجیب بے بسی چھپی ہوئی تھی۔ وہ بڑی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ایسے مصروف تھے جیسے کسی وسیع سلطنت کے ملازم اپنے آقاؤں کی رضا کے منتظر ہوں۔ ان کا کام اپنے ملک کے وسائل کو اس راستے پر ڈالنا تھا جہاں سے وہ ترقی یافتہ دنیا تک پہنچ سکیں، اور اس سفر میں اپنے لیے بھی اتنا حصہ محفوظ کر لیں کہ اقتدار کی عمارت قائم رہے۔ عوام کے نام پر معاہدے ہوتے، قومی مفاد کے نام پر فیصلے کیے جاتے، لیکن عوام کو اکثر یہ تک معلوم نہ ہوتا کہ ان کی زمین کے نیچے کیا دفن ہے، ان کے سمندر سے کیا نکالا جا رہا ہے اور ان کے مستقبل کی قیمت کس بازار میں لگائی جا رہی ہے۔
دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک میں بڑے بڑے تحقیقی ادارے، جامعات اور تھنک ٹینک مستقبل کے نقشے بنانے میں مصروف تھے۔ ان کی میزوں پر دنیا کے وسائل کے اعداد و شمار، معدنی ذخائر کے نقشے، توانائی کی ضروریات، سیاسی رجحانات اور سماجی تحریکوں کے تجزیے پھیلے ہوئے تھے۔ وہ غور کرتے تھے کہ ترقی پذیر ممالک کے وسائل تک رسائی کیسے برقرار رکھی جائے، وہاں کے حکمرانوں کو کس طرح اپنے مفادات کے ساتھ ہم آہنگ رکھا جائے اور کسی ممکنہ عوامی بیداری کو کس طرح اپنے طے شدہ منصوبوں کے لیے خطرہ بننے سے روکا جائے۔ ان میں سے بعض ادارے حقیقی علمی تحقیق اور انسانی ترقی کے لیے بھی کام کرتے تھے، مگر میری نگاہ اس نظام کے ان پہلوؤں پر مرکوز تھی جہاں علم، طاقت کے مفادات کا معاون بن جاتا ہے۔
میں نے وہاں کے ذرائع ابلاغ کا جائزہ لیا تو ایک عجیب تضاد سامنے آیا۔ اندرونِ ملک حکومت پر تنقید کی گنجائش تھی، حکمرانوں سے سوال کیے جا سکتے تھے، ان کی غلطیوں پر بحث ہوتی تھی اور اخبارات میں مختلف آرا شائع ہوتی تھیں۔ مگر جب معاملہ خارجہ پالیسی، قومی سلامتی یا عالمی طاقت کے مفادات کا آتا تو آزادی کی وہ وسعت کسی حد تک سکڑتی دکھائی دیتی۔ بڑے اخبارات اور ٹیلی وژن کے ادارے اکثر بنیادی ریاستی ترجیحات کے گرد جمع نظر آتے، اگرچہ اختلافی آوازیں بھی موجود تھیں۔ کچھ صحافی، دانش ور اور اہلِ قلم اس دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے، لیکن ان کی آوازیں اس قدر محدود تھیں کہ فوری طور پر ریاستی سمت بدلنے کا سبب نہیں بن پاتی تھیں۔
اس کے برعکس ترقی پذیر دنیا کے ذرائع ابلاغ میں مجھے ایک اور صورت دکھائی دی۔ وہاں بعض اوقات اپنی ہی ریاستوں کے ذرائع ابلاغ ان عالمی مفادات کی ترجمانی کرتے نظر آتے جن سے مقامی عوام کے مفادات کا تصادم تھا۔ کہیں معاشی مجبوریوں نے قلم کو محدود کر رکھا تھا، کہیں اشتہارات اور مالی انحصار نے ادارتی آزادی کو کمزور کیا تھا، اور کہیں حکمرانوں سے قربت نے صحافت کو عوام کے سوالات سے دور کر دیا تھا۔ اس صورتِ حال میں عوام کے پاس اپنے حالات سمجھنے کے ذرائع تو تھے، مگر ان ذرائع سے انہیں ہمیشہ وہ معلومات نہیں ملتیں جن کی مدد سے وہ اپنے وسائل، اپنے حقوق اور اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کر سکتے۔
تیسری دنیا کی مسلط کردہ حکمران اشرافیہ کا منظر اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھا۔ کہیں جمہوری اختیار محدود تھا، کہیں اختلاف کو جرم سمجھا جاتا تھا، کہیں قلم پر پہرے تھے اور کہیں زبان کھولنے والوں کے لیے خوف کی فضا قائم تھی۔ عوام سے کہا جاتا تھا کہ خاموشی ہی امن ہے، فرمانبرداری ہی حب الوطنی ہے اور سوال اٹھانا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ مگر اس خاموشی کے نیچے ایک اور دنیا جنم لے رہی تھی۔ نوجوانوں کے چہروں پر بے چینی تھی، ان کی آنکھوں میں سوال تھے اور ان کے قدم میدانوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ کہیں وہ سڑکوں پر تھے، کہیں جامعات میں، کہیں مزدوروں کے ساتھ اور کہیں ان بستیوں میں جہاں نسلوں سے محرومی نے لوگوں کے خواب چھین رکھے تھے۔ ان تحریکوں کے راستے میں تشدد، جبر اور خون کی ندیاں بھی تھیں، مگر بعض جگہوں پر ان کی جدوجہد تھمنے کے بجائے نئے سوالات اور نئے مطالبات کو جنم دے رہی تھی۔
میں نے سوچا کہ آخر طاقت ور ریاستیں اس بیداری سے اتنی پریشان کیوں ہیں؟ اگر ان کے نظام مضبوط ہیں، ان کے ادارے مستحکم ہیں اور ان کی پالیسیوں کو عوامی تائید حاصل ہے تو چند سوالات اور اختلافی آوازوں سے خوف کیوں؟ اسی دوران میں نے ایک تاریک کمرے میں چند لوگوں کو سر جوڑے بیٹھے دیکھا۔ ان کے سامنے جدید کمپیوٹر، پیچیدہ نقشے اور انسانی رویوں کا تجزیہ کرنے والے نظام موجود تھے۔ وہ کسی نئی جنگ کے ہتھیاروں پر نہیں بلکہ انسانی سوچ کو قابو میں رکھنے کے طریقوں پر گفتگو کر رہے تھے۔
ایک شخص نے کہا، ’’انسانی جسم کو قید کرنا مشکل نہیں، مگر خیال کو قید کرنا ہمیشہ دشوار رہا ہے۔ پہلے کتابیں ضبط کی جاتی تھیں، پھر اخبارات پر پابندیاں لگیں، پھر نشریات کو قابو کیا گیا۔ لیکن اب خیالات سرحدیں عبور کر جاتے ہیں۔ ایک نوجوان کا سوال لاکھوں ذہنوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایک مظلوم کی آواز ہزاروں میل دور بیٹھے انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ سکتی ہے۔ ہمیں کوئی ایسا نظام چاہیے جو انسان کے سوچنے سے پہلے ہی اس کے سامنے خیالات کی دنیا محدود کر دے۔‘‘
دوسرے نے کہا، ’’انٹرنیٹ بند کرنا ایک عارضی تدبیر ہے۔ اصل کامیابی تو یہ ہوگی کہ انسان کو اپنے سوال پر ہی شک ہونے لگے۔ ایسا نظام بنایا جائے جو اسے وہی دکھائے جسے دیکھ کر وہ مطمئن رہے، وہی سنائے جس سے اس کے ذہن میں خلل پیدا نہ ہو اور اسے اس کے اپنے دکھ کی ایسی تشریح دے کہ وہ اپنے دکھ کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لے۔‘‘
ایک اور شخص نے اضافہ کیا، ’’اور ان ریاستوں کو بھی سبق دینا ہوگا جو طاقت ور ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے حد سے آگے نکل جاتی ہیں، یہاں تک کہ اپنے ہی معاشرے میں طاقت کے ایسے مراکز پیدا کر لیتی ہیں جنہیں بعد میں قابو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ طاقت کا نظام اسی وقت مستحکم رہتا ہے جب اس کے تمام حصے اپنی اپنی حدود میں رہیں۔‘‘
میں ان کی گفتگو سن کر حیران تھا۔ انسانی ذہانت، جسے بیماریوں کے علاج، بھوک کے خاتمے، علم کی ترویج اور زندگی کو آسان بنانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے تھا، اسے انسان کے خیالات کی نگرانی اور اس کی بیداری کو روکنے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے بن رہے تھے۔ مجھے محسوس ہوا کہ انسان نے مشینوں کو تو بہت ترقی دے دی ہے، مگر شاید وہ اپنے ہی ضمیر سے خوف زدہ ہونے لگا ہے۔
تاہم، اس تمام تاریکی، محرومی اور جبر کے دوران جو سب سے اہم چیز میری نگاہ میں آئی، وہ امید تھی۔ میں نے غور سے دیکھا تو ہر مظلوم کے چہرے پر امید کی ایک مدھم سی کرن موجود تھی۔ کسی کی آنکھوں میں اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب تھا، کسی کے دل میں آزادی کی آرزو، کسی کے ذہن میں انصاف کا تصور اور کسی کے قدموں میں ایک ایسی منزل کی تلاش جس کا راستہ ابھی دھندلا ضرور تھا، مگر ختم نہیں ہوا تھا۔ ان کے پاس وسائل نہیں تھے، اختیار نہیں تھا، اظہار کی مکمل آزادی نہیں تھی، لیکن ان کے اندر ایک ایسی قوت زندہ تھی جسے ابھی تک شکست نہیں دی جا سکی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ امید محض تسلی نہیں، بلکہ ایک نئی دنیا کی نوید ہے؛ ایسی دنیا جہاں انسان کی قدر اس کی دولت، نسل، منصب یا طاقت سے نہیں بلکہ اس کی انسانیت سے متعین ہوگی، جہاں وسائل پر چند لوگوں کی اجارہ داری کے بجائے عوام کا حق تسلیم کیا جائے گا اور جہاں کسی مظلوم کی آواز کو اس لیے خاموش نہیں کیا جا سکے گا کہ اس کی سچائی کسی طاقت ور کے مفاد سے ٹکراتی ہے۔ شاید یہی امید تھی جو ظلم کے طویل اندھیرے میں بھی بجھنے سے انکار کر رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ جب تک کسی مظلوم کے چہرے پر امید کی یہ کرن باقی ہے، تب تک ظالم کی فتح مکمل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ظلم انسان کے جسم کو زخمی، اس کی زندگی کو دشوار اور اس کی آواز کو خاموش تو کر سکتا ہے، مگر اگر امید زندہ رہے تو مستقبل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند نہیں کیے جا سکتے۔
اسی لمحے میری نظر کمرے کے ایک تاریک کونے پر پڑی۔ وہاں چند انسان دھیمی آواز میں گفتگو کر رہے تھے۔ ان کے پاس نہ طاقت ور کمپیوٹر تھے، نہ مہنگے لباس، نہ بڑے عہدے اور نہ کسی ریاست کی سرپرستی۔ ان کے چہروں پر تھکن تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب اطمینان تھا۔ میں ان کے قریب گیا تو ایک بزرگ کہہ رہے تھے، ’’ظالم کا انجام اب زیادہ دور نہیں۔‘‘
میں نے حیرت سے پوچھا، ’’آپ یہ بات کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں؟ دنیا کے وسائل، ذرائع ابلاغ، ریاستی ادارے، معیشت اور جدید ٹیکنالوجی تو اسی کے پاس ہیں۔ اس کے مقابلے میں مظلوم کے پاس کیا ہے؟‘‘
بزرگ نے میری طرف دیکھا اور کہا، ’’تم نے طاقت کو صرف ان چیزوں میں تلاش کیا ہے جو آنکھوں سے دکھائی دیتی ہیں۔ تم نے یہ نہیں دیکھا کہ دنیا کی آبادی میں طاقت کے مراکز سے باہر رہنے والوں کی تعداد کتنی ہے۔ تم نے یہ نہیں سوچا کہ جن لوگوں کی محنت سے دولت پیدا ہوتی ہے، جن کے وسائل سے صنعتیں چلتی ہیں اور جن کی خاموشی سے اقتدار قائم رہتا ہے، اگر وہ اپنی بے بسی کو پہچان لیں تو کیا ہوگا؟‘‘
میں نے کہا، ’’لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ دس فیصد سے بھی کم لوگ نوے فیصد انسانوں پر اپنا اختیار قائم رکھیں؟ اور اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ نوے فیصد لوگ اس صورتِ حال کو برداشت کیسے کرتے ہیں؟‘‘
بزرگ مسکرائے۔ ’’یہی تو اصل سوال ہے۔ ظالم کی طاقت ہمیشہ اس کی اپنی تعداد میں نہیں ہوتی۔ کبھی وہ مظلوم کی تقسیم میں ہوتی ہے، کبھی اس کے خوف میں، کبھی اس کی لاعلمی میں اور کبھی اس امید میں کہ شاید اگلی نسل کی زندگی بہتر ہو جائے۔ مظلوم کو زبان، نسل، مذہب، علاقے، فرقے، جماعت اور مفاد کے نام پر تقسیم کر دو تو وہ اپنی مشترکہ محرومی کو بھی پہچان نہیں پاتا۔ اسے یہ یقین دلا دو کہ اس کا اصل دشمن اس کے ساتھ کھڑا دوسرا محروم انسان ہے تو وہ اپنے استحصال کرنے والے کو پہچاننے میں عمر گزار دیتا ہے۔‘‘
انہوں نے کچھ توقف کیا اور پھر کہا، ’’لیکن جس دن ان لوگوں نے اپنی محرومی کو ذاتی بدقسمتی کے بجائے اجتماعی مسئلہ سمجھ لیا، جس دن انہوں نے اپنے اندر پیدا کی گئی نفرتوں کے بجائے مشترکہ حقوق کو ترجیح دی، اور جس دن انہوں نے اپنے خوف سے نجات پا کر اپنے اختیار کا مطالبہ کیا، اس دن طاقت کا حساب بدلنا شروع ہو جائے گا۔ تبدیلی محض تعداد سے نہیں آتی؛ شعور، تنظیم، مستقل مزاجی اور ایک دوسرے کے حقوق کے احترام سے آتی ہے۔‘‘
میں ان کی باتیں سن رہا تھا کہ اچانک منظر بدلنے لگا۔ میں نے ایک نئی دنیا دیکھی۔ وہاں وسیع عمارتوں کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھلے تھے، قومی وسائل کی آمدنی کے حسابات عوام کے سامنے رکھے جاتے تھے، صحافی سوال پوچھ سکتے تھے، عدالتیں طاقت ور اور کمزور کے لیے یکساں تھیں اور نوجوان اپنے مستقبل کے فیصلوں میں شریک تھے۔ وہاں کسی انسان کو اس لیے خاموش نہیں کیا جاتا تھا کہ اس کا سوال کسی طاقت ور کے مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اس دنیا کے ایک وسیع میدان میں میں نے سنگِ مرمر کی ایک دیوار دیکھی۔ اس پر ان لوگوں کے نام درج تھے جنہوں نے انسانی آزادی کو کچلا تھا، عوام کے وسائل پر ناجائز اختیار قائم رکھا تھا اور اختلافِ رائے کو جرم بنانے کی کوشش کی تھی۔ ان کے ناموں کے نیچے ایک لفظ کندہ تھا: ’’انجام‘‘۔
میں نے قریب جا کر پوچھا، ’’کیا یہ انتقام کی دنیا ہے؟ کیا یہاں ان لوگوں کو اسی طرح رسوا کیا جا رہا ہے جس طرح انہوں نے دوسروں کو ذلیل کیا تھا؟‘‘
ایک شخص نے جواب دیا، ’’نہیں، یہ انتقام کی دنیا نہیں۔ یہ یادداشت کی دنیا ہے۔ یہاں کسی کو اس کے منصب، دولت یا طاقت کے نام پر نہیں بلکہ اس کے اعمال کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ کسی حکمران نے اگر عوام کو تعلیم، صحت، انصاف اور آزادی دی تو تاریخ اسے اسی حوالے سے یاد کرے گی۔ اور جس نے اپنے اقتدار کے لیے انسانوں کے حقوق پامال کیے، اس کا عہدہ اس کے اعمال کو ہمیشہ کے لیے نہیں چھپا سکے گا۔‘‘
میں نے اس دیوار کو غور سے دیکھا۔ مجھے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ انسان کی اصل شکست اس کی موت نہیں، بلکہ وہ لمحہ ہے جب اس کے اعمال اس کے اپنے دعووں کو جھٹلا دیتے ہیں۔ اقتدار عارضی تھا، دولت عارضی تھی، خوف عارضی تھا، مگر انسانوں کی اجتماعی یادداشت میں ظلم کا حساب باقی رہتا تھا۔
میں اس نئی دنیا کو مزید قریب سے دیکھنے کے لیے آگے بڑھا۔ مجھے یقین ہونے لگا تھا کہ شاید انسانی تاریخ ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ شاید انسان نے بالآخر یہ سمجھ لیا ہے کہ آزادی کسی ایک قوم، کسی ایک رنگ یا کسی ایک خطے کی میراث نہیں، بلکہ ہر انسان کا حق ہے۔ میں نے دیوار کے اس پار جھانکنے کے لیے قدم بڑھایا ہی تھا کہ اچانک میرا ماتھا سختی سے دیوار سے ٹکرایا۔
میں درد سے کراہتا ہوا پیچھے ہٹا۔ میری آنکھیں کھل گئیں۔ میں پھر اسی پرانی دنیا میں تھا۔
کمرے میں اندھیرا تھا، باہر خاموشی تھی اور میرے سامنے وہی دنیا موجود تھی جسے میں کچھ دیر پہلے چھوڑ آیا تھا۔ میں نے اپنے ماتھے کو ہاتھ لگایا اور خود کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ شاید یہ محض ایک خواب تھا۔ مگر جب میں نے اپنے اردگرد دیکھا تو محسوس ہوا کہ کچھ نہ کچھ واقعی بدل چکا ہے۔
خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ انسانی خیالات کی نگرانی اور ان کے اظہار کو محدود کرنے کے لیے نئے سافٹ ویئر تیار کیے گئے ہیں۔ ان کے ذریعے معلومات کی ترسیل، سماجی رویوں اور اختلافی آوازوں کو قابو میں رکھنے کے نئے طریقے آزمائے جا رہے تھے۔ ریاستوں کے پاس اب صرف پولیس، عدالتیں اور جیلیں ہی نہیں تھیں؛ ان کے پاس انسانی توجہ کو اپنی طرف موڑنے، معلومات کو محدود کرنے اور لوگوں کو ایک مخصوص ذہنی دائرے میں رکھنے کے لیے بھی نئے ذرائع موجود تھے۔
میں نے معاشرے پر نگاہ ڈالی تو ایک اور عجیب منظر سامنے آیا۔ متوسط طبقے کے چند لوگ خوش حال طبقے کی صف میں شامل ہو چکے تھے۔ ان کے لباس بہتر تھے، ان کے گھروں میں سہولتیں بڑھ گئی تھیں اور ان کی زندگی پہلے سے زیادہ آسودہ دکھائی دیتی تھی۔ وہ اپنی ترقی پر خوش تھے اور انہیں خوش ہونا بھی چاہیے تھا۔ لیکن میں نے یہ بھی دیکھا کہ دوسری طرف محروم انسانوں کی تعداد کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی تھی۔ دولت کے چند نئے مالک پیدا ہو گئے تھے، مگر دولت پیدا کرنے والے لوگوں کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
میں نے اپنے ذہن میں حساب لگایا۔ مظلوموں کے فیصد میں اضافہ ہو رہا تھا اور ظالموں کے فیصد میں کمی دکھائی جا رہی تھی۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ شاید یہ بھی کامیابی کی ایک صورت ہے۔ شاید طاقت کا دائرہ سکڑ رہا ہے۔ شاید اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔
لیکن اگلے ہی لمحے حقیقت مجھ پر آشکار ہوئی۔ ظالموں کی تعداد میں کمی اس لیے نہیں ہوئی تھی کہ ظلم ختم ہو رہا تھا، بلکہ اس لیے کہ کچھ محروم لوگوں کو اس نظام میں معمولی مراعات دے کر اس کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔ کل جو اپنے حقوق کے لیے سوال اٹھاتا تھا، آج اسے ایک چھوٹا سا مفاد دے کر خاموش کر دیا گیا تھا۔ کل جو دوسروں کی محرومی پر آواز بلند کرتا تھا، آج وہ اپنی نئی حیثیت بچانے میں مصروف تھا۔ اس کے حالات میں بہتری آئی تھی، مگر وہ اس بہتری کو سب کے لیے ممکن بنانے کے بجائے صرف اپنے لیے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔
یوں نظام نے اپنے خلاف اٹھنے والی بعض آوازوں کو طاقت سے نہیں، مراعات سے خاموش کیا تھا۔ اس نے بغاوت کے بعض اسباب ختم کرنے کے بجائے بغاوت کرنے والوں میں سے کچھ کو اپنے مفادات کا نگہبان بنا لیا تھا۔ محروموں کی تعداد میں کمی کا تاثر پیدا کیا گیا، مگر محرومی کی بنیادیں باقی رہیں۔
میں نے پھر اپنے آپ سے سوال کیا: اگر کسی معاشرے میں چند لوگوں کو خوش حال بنا کر باقی لوگوں کی محرومی برقرار رکھی جائے تو کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟ اگر ایک نوجوان کو روزگار مل جائے، مگر لاکھوں نوجوانوں کے لیے مواقع نہ ہوں تو کیا مسئلہ حل ہو گیا؟ اگر کسی خاندان کو مراعات مل جائیں، مگر پورے علاقے کے قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کا اختیار نہ ہو تو کیا انصاف قائم ہو گیا؟ اور اگر ایک صحافی کو بولنے کی اجازت ہو، مگر اسے وہی بات کہنے کی گنجائش ملے جو طاقت ور طبقے کے مفادات سے متصادم نہ ہو، تو کیا اسے آزادیٔ اظہار کہا جا سکتا ہے؟
ان سوالات کے جواب میرے پاس نہیں تھے، مگر ان کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو گئی تھی۔
اسی اثنا میں باہر سے ایک بھاری آواز سنائی دی۔ میں کھڑکی کی طرف بڑھا تو ایک وسیع سڑک پر بڑے بڑے ہوائی جہازوں کے قافلے اترتے دکھائی دیے۔ ان کے لیے طویل رن وے بنائے گئے تھے، جدید عمارتیں تعمیر ہوئی تھیں اور ان کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ ان کے قریب ہی پرانی سڑکیں ٹوٹی ہوئی تھیں، عوامی ٹرانسپورٹ ناکافی تھی اور دور دراز بستیوں سے آنے والے لوگ گھنٹوں پیدل چلنے پر مجبور تھے۔
میں نے دیکھا کہ جہازوں کے سامنے بڑے بڑے گودام قائم تھے۔ تیسری دنیا کے پہاڑوں سے نکالی گئی معدنیات، زمین سے حاصل ہونے والی توانائی، سمندروں کی پیداوار اور زرخیز میدانوں کی دولت ان گوداموں میں لائی جا رہی تھی۔ پھر یہ سب کچھ بڑے بڑے جہازوں میں لادا جاتا اور ان ملکوں کی طرف روانہ کر دیا جاتا جہاں صنعتیں، تحقیقی ادارے اور جدید معیشتیں ان وسائل کو مزید قدر میں تبدیل کرنے کے منتظر تھے۔
جہازوں کے گرد کھڑے کچھ لوگ نئے لباس پہنے ہوئے تھے، مگر ان کے پیچھے دور تک پھیلی بستیوں میں انسان پرانے کپڑوں، خالی پیٹ اور مایوس آنکھوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے پاس نہ معیاری تعلیم کے لیے مناسب ادارے تھے، نہ علاج کے لیے کافی سہولتیں، نہ روزگار کے وسیع مواقع اور نہ اپنی اجتماعی دولت کے استعمال پر فیصلہ کرنے کا مؤثر اختیار۔
میں نے ایک بوڑھے مزدور کو دیکھا جو جہاز میں معدنیات کے ڈبے اٹھا کر رکھ رہا تھا۔ اس کے کپڑے گرد سے اٹے ہوئے تھے اور چہرے پر عمر بھر کی مشقت کے آثار تھے۔ میں نے اس سے پوچھا، ’’تمہیں معلوم ہے کہ یہ دولت کہاں جا رہی ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا، ’’سنا ہے کہ وہاں اس سے بڑی بڑی صنعتیں چلیں گی، نئی مشینیں بنیں گی، لوگوں کو روزگار ملے گا اور ان کے شہر مزید ترقی کریں گے۔‘‘
میں نے پوچھا، ’’اور تمہیں کیا ملے گا؟‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر بولا، ’’ہمیں مزدوری ملتی ہے۔ کبھی پوری، کبھی ادھوری۔ ہمارے بچوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں بہت دولت ہے، اس لیے ہمیں اپنے ملک پر فخر کرنا چاہیے۔ مگر ہم یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اگر دولت ہماری ہے تو ہماری زندگی میں اس کا حصہ اتنا کم کیوں ہے؟‘‘
اس کی بات سن کر میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
اسی وقت ایک نوجوان ہمارے قریب آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی اور آنکھوں میں سوال۔ اس نے کہا، ’’ہمیں ہمیشہ بتایا گیا کہ ترقی کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ ہم نے قربانیاں دیں، اپنے وسائل دیے، اپنی محنت دی، اپنی زمینیں دیں اور اپنی کئی نسلوں کے خواب قربان کیے۔ مگر اب ہم پوچھتے ہیں کہ یہ قربانیاں کب تک جاری رہیں گی؟ اگر ترقی ہماری محنت سے پیدا ہوتی ہے تو اس کے فیصلوں میں ہماری شرکت کیوں نہیں؟ اگر یہ وسائل ہمارے ہیں تو ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حساب ہمیں کیوں نہیں دیا جاتا؟‘‘
اس کی آواز میں غصہ ضرور تھا، مگر اس سے زیادہ ایک سنجیدہ سوال تھا۔ وہ کسی قوم سے نفرت نہیں کر رہا تھا، نہ کسی دوسرے ملک کے عوام کی خوش حالی سے اسے شکایت تھی۔ وہ صرف یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ ایک دنیا کی خوش حالی اور دوسری دنیا کی محرومی کے درمیان تعلق کیا ہے، اور اس تعلق کو انصاف کی بنیاد پر کیسے بدلا جا سکتا ہے۔
میں نے اس نوجوان کی طرف دیکھا تو مجھے خواب کے وہ بزرگ یاد آ گئے۔ شاید تبدیلی کا آغاز اسی لمحے ہوتا ہے جب انسان اپنے دکھ کو پہچان لیتا ہے اور اس کی وجہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن صرف سوال اٹھانا کافی نہیں۔ سوال کو علم، علم کو شعور، شعور کو منظم جدوجہد اور جدوجہد کو ایسے اجتماعی اصولوں سے جوڑنا پڑتا ہے جو نئے ظلم کو جنم نہ دیں۔
میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ایک اور جہاز بلند ہو رہا تھا۔ اس کے اندر وہ وسائل تھے جو کبھی ان پہاڑوں، میدانوں اور سمندروں کا حصہ تھے جہاں غریب انسان اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے تھے۔ جہاز کی روشنیاں آہستہ آہستہ دور ہوتی گئیں، مگر اس کے نیچے پھیلی بستیوں میں اندھیرا برقرار رہا۔
میرے ذہن میں ایک خیال ابھرا: شاید آج یہ لوگ اپنے حقوق سے بہت دور ہیں۔ شاید انہیں اپنی محرومی کی پوری حقیقت سمجھنے میں ابھی وقت لگے گا۔ شاید طاقت کے موجودہ مراکز اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے مزید طریقے ایجاد کریں گے۔ مگر تاریخ کا کوئی بھی نظام صرف اس لیے ہمیشہ قائم نہیں رہتا کہ اس کے پاس زیادہ دولت، زیادہ ہتھیار یا جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔ اس کی پائیداری اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کے بنیادی حقوق، انصاف اور اجتماعی عزتِ نفس کے ساتھ کس قدر ہم آہنگ ہے۔
میں نے آخری مرتبہ ان جہازوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا:
’’جس دن تیسری دنیا کے انسان اپنے وسائل کی قدر، اپنے حقوق کی حقیقت اور اپنی اجتماعی طاقت کو پہچان لیں گے، اس دن ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ دولت کہاں جا رہی ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ اس دولت کے استعمال کا فیصلہ کون کر رہا ہے۔ اور جب یہ سوال عوام کی اجتماعی آواز بن جائے گا تو کسی سافٹ ویئر، کسی پروپیگنڈے، کسی مصنوعی تقسیم اور کسی عارضی مراعات کے ذریعے اسے ہمیشہ کے لیے خاموش رکھنا آسان نہیں ہوگا۔‘‘
میں نے کھڑکی بند کر دی، مگر میرے ذہن میں وہ منظر بند نہ ہو سکا۔ ایک طرف بڑے بڑے جہاز تھے، دوسری طرف خالی ہاتھ انسان۔ ایک طرف مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے جدید ادارے تھے، دوسری طرف اپنے حال کا حساب مانگتے ہوئے عوام۔ ایک طرف طاقت کے نشے میں مبتلا نظام تھا، دوسری طرف اپنے وجود اور اختیار کی تلاش میں بھٹکتا ہوا انسان۔
اور اس سب کے درمیان ایک سوال اب بھی زندہ تھا:
اگر وسائل انسانوں کے لیے ہیں، تو انسان اپنے وسائل کے لیے اجنبی کیوں ہے؟
شاید اس سوال کا جواب ہی اس نئی دنیا کا پہلا دروازہ تھا، جسے میں خواب میں دیکھ آیا تھا اور جس کی دیوار سے ٹکرا کر جاگنے کے باوجود اب تک اس کے وجود پر یقین کرنا چاہتا تھا۔