انٹرٹینمنٹ ۱۹ اکتوبر ۲۰۲۶

افسانہ: عالمِ برزخ کا اجتماع اور وطن کی نئی صبح

تحریر: سید انور شاہ
رات خاصی گزر چکی تھی۔ کوئٹہ کی سرد فضا میں خاموشی اس طرح پھیلی ہوئی تھی جیسے شہر کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہو۔ میں میز پر رکھی کتابوں اور کاغذوں کے درمیان بیٹھا تھا۔ اسی دوران میری نظر معروف بلوچ دانشور عطااللہ بلوچ کی تحریر ’’الوداع میرے وطن‘‘ پر پڑی۔ میں نے تحریر پڑھنا شروع کی تو ہر جملہ دل پر دستک دینے لگا۔ اس میں وطن سے جدائی کا دکھ، مٹی سے محبت، اپنے لوگوں کی محرومیاں اور ان حالات کا نوحہ تھا جو انسان کو اپنی ہی سرزمین پر اجنبی بنا دیتے ہیں۔
تحریر پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں چلتن کے پہاڑ، گوارخ کے پھول، بہتے چشمے، ماؤں کی دعائیں، بیٹیوں کی مسکراہٹیں اور ان چرواہوں کے چہرے ابھرنے لگے جو اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ سب محض مناظر نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے وطن کی علامتیں تھیں جس سے انسان کا رشتہ صرف زمین کا نہیں، بلکہ یادوں، زبان، ثقافت اور نسلوں کی تاریخ کا ہوتا ہے۔
میں سوچنے لگا کہ وطن سے محبت کا دعویٰ کرنا آسان ہے، مگر وطن کے لوگوں کے دکھ سمجھنا اور ان کے لیے انصاف، تحفظ اور باعزت زندگی کے مواقع پیدا کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ جب کسی سرزمین کے باشندے اپنی ہی زمین پر بے یقینی، محرومی اور عدم تحفظ محسوس کرنے لگیں تو ان کے دلوں میں سوالات جنم لیتے ہیں۔ جب ان سوالات کے جواب نہ ملیں اور شکایات کے ازالے کے راستے بند ہوتے جائیں تو بعض لوگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ خیال میرے ذہن پر چھاتا گیا کہ آخر وہ کون سا نظام ہے جو انسان کو اپنی جنم بھومی سے دور کر دیتا ہے؟ کیا زمین سے محبت کم ہو جاتی ہے، یا حالات انسان کو اس محبت کے باوجود جدائی پر مجبور کر دیتے ہیں؟
انھی خیالوں میں نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

عالمِ برزخ میں ایک ملاقات
میں نے خواب میں خود کو ایک ایسی جگہ کھڑا پایا جہاں نہ دن تھا نہ رات، نہ مکمل روشنی تھی نہ تاریکی۔ فضا میں ایک عجیب سی خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے اندر جیسے ہزاروں کہانیاں سانس لے رہی تھیں۔ دور دور تک ایسے چہرے دکھائی دے رہے تھے جن میں کسی زمانے کے دانشور، ادیب، شاعر، مفکر اور سماجی رہنما شامل تھے۔ ان کے چہروں پر زندگی کے تجربات کے نقوش تھے اور آنکھوں میں ایسے سوالات جن کے جواب شاید وہ دنیا میں تلاش کرتے رہے تھے۔
میں حیرت سے اس ماحول کو دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک شخص میری طرف بڑھا۔ اس کے چہرے پر اداسی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک غیر معمولی گہرائی تھی۔ اس نے سلام کیا اور میرے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا:
’’آپ دنیا سے آئے ہیں۔ وہاں کے حالات کیسے ہیں؟ کیا انسان نے اپنے تجربات سے کچھ سیکھا؟ کیا قوموں کے درمیان نفرتیں کم ہوئیں؟ کیا مظلوم کو انصاف ملنے لگا؟ کیا زبان، شناخت اور ثقافت کے نام پر پیدا ہونے والے اختلافات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی؟‘‘
میں نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کے لہجے میں محض تجسس نہیں، بلکہ ایک گہرا درد تھا۔
میں نے جواب دیا:
’’دنیا میں علم بھی بڑھا ہے، وسائل بھی بڑھے ہیں اور رابطوں کے ذرائع بھی پہلے سے زیادہ وسیع ہو گئے ہیں، لیکن بہت سے بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ کہیں انسان کو شناخت کے سوال کا سامنا ہے، کہیں وسائل کی منصفانہ تقسیم کا، کہیں روزگار اور تعلیم کی کمی ہے اور کہیں عدم تحفظ لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔‘‘
یہ سن کر اس نے ایک گہری سانس لی۔
’’یہی تو المیہ ہے،‘‘ اس نے کہا، ’’انسان نے پہاڑوں کو سرنگوں میں بدل دیا، دریاؤں پر بند باندھ دیے، سمندروں کو عبور کرنے کے لیے بڑے جہاز بنا لیے اور خلا تک رسائی حاصل کر لی، مگر اپنے ہم جنس انسان کے دکھ کو سمجھنے میں اب بھی ناکام ہے۔ وہ ترقی تو کرتا ہے، لیکن اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ ترقی کا اصل مقصد انسان کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا:
’’آپ کو سب سے زیادہ دکھ کس بات کا ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا:
’’مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ لوگ اپنی زمین، زبان اور شناخت سے محبت کرتے ہیں، مگر بعض اوقات ان کے لیے حالات ایسے بنا دیے جاتے ہیں کہ وہ اسی زمین سے دور ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کوئی روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، کوئی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے، کوئی عدم تحفظ کے باعث اور کوئی مسلسل محرومیوں سے تنگ آ کر۔ ان کی جدائی کو محض ذاتی فیصلہ سمجھ لینا درست نہیں۔ ہمیں ان حالات پر غور کرنا چاہیے جو انسان کو اپنے وطن سے دور لے جاتے ہیں۔‘‘
اس کی باتوں نے مجھے خاموش کر دیا۔ میں جانتا تھا کہ یہ سوال کسی ایک قوم یا علاقے تک محدود نہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں انسانوں نے جنگوں، ناانصافیوں، معاشی مشکلات اور سیاسی کشمکش کے باعث اپنے گھر چھوڑے ہیں۔ مگر ہر بار ایک سوال باقی رہ جاتا ہے: کیا انسان کے لیے ایسا معاشرہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا جہاں اسے باعزت زندگی کے لیے اپنی مٹی سے جدا نہ ہونا پڑے؟
وہ شخص کچھ دیر خاموش رہا، پھر بولا:
’’یہاں بھی اہلِ فکر کی نشستیں ہوتی ہیں۔ وہاں ایسے لوگ جمع ہوتے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی میں قوموں کے دکھ دیکھے، سماج کے تضادات کو سمجھنے کی کوشش کی اور اپنے زمانے کے مسائل پر غور کیا۔ آج بھی ایک اجتماع ہونے والا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میرے ساتھ چل سکتے ہیں۔‘‘
میں نے اس کی پیش کش قبول کر لی۔

دانشوروں کا روایتی اجتماع
ہم ایک وسیع میدان کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ یہ کوئی جدید کانفرنس ہال نہیں، بلکہ کسی قدیم زمانے کی روایتی بیٹھک ہے۔ زمین پر چٹائیاں بچھی تھیں، کہیں گاؤ تکیے رکھے تھے، کہیں بزرگ دانشور حلقہ بنا کر بیٹھے تھے اور کہیں نوجوان اہلِ قلم اپنے اپنے خیالات بیان کرنے کے لیے بے چین دکھائی دے رہے تھے۔
اجتماع میں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے دانشور موجود تھے۔ ان میں پشتون، بلوچ، پنجابی، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی، بلتی اور اردو بولنے والی برادریوں کے نمائندہ اہلِ فکر شامل تھے۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور سماجی تجربات سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ اپنے اپنے خطوں کے مسائل، تاریخ اور مستقبل کے بارے میں گفتگو کرنے آئے تھے۔
یہاں کسی رسمی ناظم کی آواز بار بار سنائی نہیں دے رہی تھی۔ ایک طرف سے کوئی بات شروع کرتا تو دوسری طرف سے فوراً اختلاف بلند ہو جاتا۔ کوئی اپنی قوم کی تاریخ بیان کرنے لگتا، کوئی وسائل کی تقسیم پر سوال اٹھاتا، کوئی زبان کی اہمیت پر زور دیتا اور کوئی کہتا کہ صرف ماضی کے واقعات دہرانے سے مستقبل کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ایک بزرگ دانشور نے بلند آواز میں کہا:
’’ہم نے اپنی زندگیوں میں بہت سے اجتماع دیکھے، بہت سی قراردادیں پڑھیں اور بہت سے وعدے سنے۔ سوال یہ ہے کہ ان سب کے بعد عام انسان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟ کیا اسے انصاف ملا؟ کیا اس کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئی؟ کیا اس کی زبان کو عزت ملی؟ کیا اسے روزگار کے لیے سفارش اور تعلقات کا محتاج ہونے سے نجات ملی؟‘‘
ابھی ان کی بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ دوسری طرف سے ایک شخص بول اٹھا:
’’آپ صرف موجودہ حالات کی بات کرتے ہیں، تاریخ کو بھی سامنے رکھیں۔ قوموں کی موجودہ حالت ان کے تاریخی تجربات سے الگ نہیں کی جا سکتی۔‘‘
تیسرے نے فوراً جواب دیا:
’’تاریخ ضرور اہم ہے، مگر تاریخ کا مطالعہ اس لیے ہونا چاہیے کہ ہم حال کو سمجھ سکیں اور مستقبل کے لیے بہتر راستہ اختیار کر سکیں۔ اگر ہم ہر وقت ماضی کے اختلافات میں الجھے رہیں گے تو آگے کیسے بڑھیں گے؟‘‘
اس جواب پر کئی آوازیں بیک وقت بلند ہوئیں۔ کوئی پہلے بولنے والے کی تائید کر رہا تھا، کوئی دوسرے کی بات کو ادھورا قرار دے رہا تھا۔ ایک بزرگ نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کرانے کی کوشش کی، مگر چند لمحوں بعد ایک اور بحث شروع ہو گئی۔
مجھے محسوس ہوا کہ یہ اجتماع کسی ایسے گھر کی بیٹھک ہے جہاں برسوں کے واقعات، دکھ، شکوے، محبتیں اور اختلافات ایک ہی وقت میں زبان پر آ جاتے ہیں۔ یہاں گفتگو میں شور تھا، مگر اس شور کے اندر ایک ایسی بے چینی بھی تھی جو اپنے مسائل کا جواب تلاش کرنا چاہتی تھی۔

بڑے نظامی کی تعریف اور معروض کی بحث
اسی دوران ایک دانشور اپنی جگہ سے اٹھے اور گفتگو کا رخ ایک معروف بڑے نظامی کی طرف موڑ دیا۔ انھوں نے ان کے افکار، ان کے نظام اور ان کے طریقۂ کار کی تعریف شروع کر دی۔ ان کے نزدیک بیشتر سماجی اور سیاسی مسائل کا حل اسی نظام میں پوشیدہ تھا۔
ان کی بات ابھی جاری تھی کہ ایک دوسرے دانشور نے بلند آواز میں کہا:
’’ہر موضوع پر ایک ہی شخصیت یا ایک ہی نظام کی تعریف شروع کر دینا درست نہیں۔ دنیا کے ہر خطے کے اپنے حالات، اپنی تاریخ، اپنی معاشرت اور اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ کسی ایک تجربے کو ہر قوم اور ہر علاقے پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
پہلے دانشور نے فوراً جواب دیا:
’’لیکن بعض اصول تو ہر جگہ کارآمد ہو سکتے ہیں۔ اگر کسی نظام میں اچھی باتیں ہیں تو ان سے استفادہ کرنے میں حرج کیا ہے؟‘‘
دوسرے دانشور نے کہا:
’’اچھی باتوں سے استفادہ ضرور کیا جائے، مگر ہر قوم کے معروض کو سمجھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ ایک علاقے میں جو طریقہ کامیاب ہو، ضروری نہیں کہ وہ دوسرے علاقے میں بھی اسی طرح کامیاب ہو۔ تاریخ، معاشی حالات، سماجی ساخت، زبان اور مقامی ضروریات کو نظرانداز کر کے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
اس پر پھر بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگ بڑے نظامی کے دفاع میں بولنے لگے، کچھ نے کہا کہ کسی شخصیت کی غیر ضروری تعریف اصل موضوع سے توجہ ہٹا دیتی ہے۔ چند دانشوروں نے اس گفتگو کو وقت کا ضیاع قرار دیا اور کہا کہ کسی نظریے کی افادیت کا فیصلہ اس کے نام یا شخصیت سے نہیں، بلکہ اس کے نتائج سے ہونا چاہیے۔
کچھ دیر تک آوازیں بلند ہوتی رہیں۔ بالآخر ایک بزرگ نے کہا:
’’ہم یہاں کسی شخصیت کو بڑا یا چھوٹا ثابت کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے۔ اگر کسی کے نظریے میں کوئی مفید بات ہے تو اسے دلیل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ لیکن ہر قوم اور ہر خطے کے معروض کو سمجھے بغیر اسے تمام مسائل کا واحد حل قرار دینا دانش مندی نہیں۔ ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے لوگوں کے مسائل کی حقیقت پہچانیں اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل راستے تلاش کریں۔‘‘
یہ بات کئی لوگوں کو پسند آئی، اگرچہ کچھ چہروں پر اختلاف اب بھی نمایاں تھا۔ مگر گفتگو کا رخ آہستہ آہستہ دوبارہ اصل موضوع کی طرف مڑنے لگا۔
اختلاف سے اتفاق تک
اب اجتماع میں مختلف علاقوں کے مسائل پر زیادہ سنجیدگی سے گفتگو ہونے لگی۔ ایک بلوچ دانشور نے کہا:
’’کسی بھی خطے کے لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی زبان، ثقافت، تاریخ اور شناخت قابلِ احترام ہیں۔ اگر لوگ اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے مسلسل وضاحتیں پیش کرنے پر مجبور ہوں تو معاشرے میں اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔‘‘
ایک پشتون دانشور نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا:
’’شناخت کے احترام کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کے مواقع بھی ضروری ہیں۔ کسی قوم کے نوجوانوں کو صرف جذباتی نعروں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ انھیں ایسے ادارے چاہییں جو میرٹ پر فیصلے کریں، ان کی صلاحیتوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں اور ان کے مستقبل کے لیے راستے کھولیں۔‘‘
ایک پنجابی دانشور نے کہا:
’’یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی مشکلات کو شک کی نظر سے نہ دیکھیں۔ اگر ایک علاقے میں محرومی ہے تو اسے کسی دوسری قوم کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس کے اسباب تلاش کیے جائیں۔ وسائل کی تقسیم، انتظامی فیصلوں اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ہو تو غلط فہمیاں کم ہو سکتی ہیں۔‘‘
ایک سندھی دانشور نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی کی آواز شامل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، ترقی کا مطلب صرف بڑے منصوبے تعمیر کرنا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان منصوبوں سے مقامی لوگوں کی زندگی میں کیا بہتری آتی ہے، انھیں روزگار کے کتنے مواقع ملتے ہیں اور ان کے ماحول و معاش پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایک سرائیکی دانشور نے کہا:
’’کسی بھی معاشرے میں چھوٹی زبانوں اور کم نمائندگی رکھنے والی برادریوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ جب فیصلہ سازی میں صرف طاقتور آوازیں سنی جائیں تو بہت سے لوگوں کے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ حقیقی انصاف کا تقاضا ہے کہ کمزور طبقوں کی بات بھی سنی جائے۔‘‘
ایک کشمیری دانشور نے تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور سیاسی عمل کی اہمیت بیان کی، جبکہ گلگتی اور بلتی دانشوروں نے کہا کہ پہاڑی اور دور دراز علاقوں کی ضروریات کو بڑے شہروں کے معیار پر پرکھنا مناسب نہیں۔ وہاں کے حالات، فاصلے، موسم، روزگار کے ذرائع اور تعلیمی سہولتوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے پالیسیاں بناتے وقت ان حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ایک اردو بولنے والے دانشور نے گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا:
’’زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن انصاف، تحفظ، عزت اور بہتر مستقبل کی خواہش ہر انسان میں مشترک ہے۔ اختلاف اس وقت نقصان دہ بنتا ہے جب ہم دوسرے کی بات سننے سے انکار کر دیں۔ اگر ہم دلیل کا جواب دلیل سے دیں، شکایت کا جواب تحقیق سے دیں اور ناانصافی کا ازالہ قانون کے مطابق کریں تو بہت سے تنازعات شدت اختیار کرنے سے پہلے حل ہو سکتے ہیں۔‘‘
اس دوران ایک اور دانشور اٹھے۔ انھوں نے اپنی چادر درست کی اور قدرے بلند آواز میں کہا:
’’ہر قوم کے اپنے خطے پر اس کے قومی اختیار اور مقامی آبادی کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ دوسری قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد جب کسی علاقے میں کاروبار کریں یا عارضی رہائش اختیار کریں تو ان کے لیے واضح، منصفانہ اور باہمی مشاورت سے مرتب کردہ قوانین موجود ہوں۔ کاروبار کے مواقع، زمین و جائیداد کے استعمال اور عارضی رہائش سے متعلق ضابطے ایسے ہونے چاہییں جو مقامی آبادی کے جائز مفادات کا تحفظ کریں اور باہر سے آنے والوں کے قانونی حقوق بھی پامال نہ ہوں۔‘‘
ان کی بات ختم ہوئی تو دوسری طرف سے ایک دانشور فوراً بول اٹھا:
’’لیکن یہ ضابطے کسی قوم کے خلاف امتیاز یا نفرت کی بنیاد نہیں بننے چاہییں۔ مقامی حقوق کا تحفظ اپنی جگہ اہم ہے، مگر کاروبار اور عارضی رہائش کے قوانین واضح، شفاف اور سب کے لیے منصفانہ ہونے چاہییں۔ کسی فرد کے ساتھ صرف اس کی زبان، قومیت یا جائے پیدائش کی بنیاد پر ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
اس پر پھر کچھ دیر نوک جھونک ہوتی رہی۔ کوئی مقامی آبادی کے قومی اختیار پر زور دیتا، تو کوئی قانونی مساوات اور باہمی احترام کی بات کرتا۔ ایک شخص نے کہا کہ مقامی لوگوں کے معاشی مفادات کو نظرانداز کرنے سے بے چینی پیدا ہوتی ہے، جبکہ دوسرے نے خبردار کیا کہ مبہم اور امتیازی قوانین باہمی اعتماد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
بالآخر ایک بزرگ دانشور نے دونوں جانب دیکھتے ہوئے کہا:
’’کسی بھی خطے میں پائیدار امن کے لیے مقامی آبادی کے جائز حقوق، قومی اختیار، معاشی مفادات اور وہاں کاروبار کرنے یا عارضی رہائش اختیار کرنے والے افراد کے قانونی حقوق کے درمیان واضح اور منصفانہ توازن ضروری ہے۔ نہ مقامی لوگوں کے خدشات کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے انسان کے بنیادی حقوق کو پامال کرنا درست ہے۔ قوانین مشاورت، شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے مطابق بننے چاہییں۔‘‘
اس مرتبہ بہت سے لوگوں نے اتفاق میں سر ہلایا۔ اختلاف ختم نہیں ہوا تھا، مگر گفتگو ایک ایسے نکتے تک پہنچ گئی تھی جہاں مختلف آرا رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی بات سمجھنے کے لیے آمادہ دکھائی دے رہے تھے۔
میں نے محسوس کیا کہ اختلاف کا ہونا مسئلہ نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا جائے۔ جب انسان اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے لگتا ہے تو مکالمے کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب ہر فریق دوسرے کے تجربے اور حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے تو مشترکہ راستے نکل سکتے ہیں۔

اجتماعی اعلامیہ
کافی دیر کی بحث کے بعد ایک بزرگ دانشور نے تجویز دی کہ تمام گفتگو کو چند بنیادی اصولوں کی صورت میں مرتب کیا جائے تاکہ اجتماع محض بحث و مباحثے تک محدود نہ رہے۔
اس تجویز پر کچھ لوگوں نے فوراً اعتراض کیا کہ اعلامیہ لکھنے سے پہلے اس کے نفاذ کا طریقۂ کار بھی طے ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے دانشور نے کہا کہ یہ اعتراض بجا ہے، لیکن کسی مشترکہ اصول پر اتفاق کرنا بھی ایک اہم آغاز ہے۔ اس کے بعد اعلامیے میں شامل کیے جانے والے نکات پر گفتگو شروع ہوئی۔
بالآخر کئی ترامیم اور اختلافات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ مرتب کیا گیا، جس میں درج ذیل اصول شامل تھے:
اول، ہر قوم اور برادری کی زبان، ثقافت، تاریخ اور جائز شناخت کا احترام کیا جائے گا، اور کسی کو اس کی مادری زبان یا ثقافتی وابستگی کی وجہ سے کمتر نہیں سمجھا جائے گا۔
دوم، قدرتی وسائل، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی مواقع سے متعلق فیصلوں میں مقامی آبادی کے جائز مفادات کو اہمیت دی جائے گی۔ وسائل کی تقسیم شفاف اصولوں کے مطابق ہوگی اور متعلقہ لوگوں کو فیصلہ سازی میں مناسب نمائندگی دی جائے گی۔
سوم، تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف تک رسائی کو بنیادی سماجی ترجیحات میں شامل کیا جائے گا۔ نوجوانوں کو میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور سرکاری اداروں میں شفافیت و جواب دہی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
چہارم، ہر خطے کے تاریخی، معاشی، جغرافیائی اور سماجی حالات کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کی جائیں گی۔ کسی ایک علاقے کے تجربے یا نظام کو دوسرے علاقوں پر بلا تحقیق مسلط کرنے کے بجائے مقامی ضروریات اور معروض کو سمجھا جائے گا۔
پنجم، مقامی آبادی کے جائز حقوق اور قومی اختیار کا احترام کیا جائے گا۔ کاروبار، زمین و جائیداد کے استعمال اور عارضی رہائش کے لیے واضح، منصفانہ اور باہمی مشاورت سے مرتب کردہ قوانین بنائے جائیں گے، تاکہ مقامی مفادات کا تحفظ بھی ہو اور دوسرے افراد کے قانونی حقوق بھی پامال نہ ہوں۔
ششم، زبان، قومیت، علاقے یا ثقافتی شناخت کی بنیاد پر نفرت، امتیاز اور اجتماعی الزام تراشی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ اختلافات کو دلیل، مکالمے، قانون اور پُرامن سیاسی و سماجی عمل کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ہفتم، کم نمائندگی رکھنے والے طبقات اور چھوٹی زبانوں سے تعلق رکھنے والی برادریوں کی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مسائل سننے، شکایات کا ازالہ کرنے اور انھیں فیصلہ سازی میں شریک کرنے کے لیے مؤثر طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔
ہشتم، ترقی کو صرف عمارتوں، سڑکوں اور منصوبوں کی تعداد سے نہیں ناپا جائے گا، بلکہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ عام انسان کی زندگی کتنی بہتر ہوئی، اسے کتنا تحفظ ملا، اس کے بچوں کو کیا مواقع میسر آئے اور اس کی عزتِ نفس کا کس حد تک خیال رکھا گیا۔
اعلامیہ پڑھ کر سنایا گیا تو اجتماع میں ایک بار پھر مختلف آوازیں بلند ہوئیں۔ کچھ لوگوں نے چند الفاظ کی تبدیلی کا مطالبہ کیا، کچھ نے عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مستقل طریقۂ کار تجویز کیا اور چند دانشوروں نے کہا کہ ایسے اصولوں کو صرف تحریر میں نہیں، عملی زندگی میں بھی جگہ ملنی چاہیے۔
کافی بحث کے بعد اس بات پر اتفاق ہوا کہ اعلامیے کی اصل روح محض الفاظ میں نہیں، بلکہ اس عزم میں ہے کہ اختلاف رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے حقوق، حالات اور جائز مطالبات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
ایک بزرگ دانشور نے کہا:
’’ہماری کامیابی اس میں نہیں کہ آج یہاں سب لوگ ایک ہی رائے کے مالک ہو گئے ہیں۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے، ایک دوسرے کی بات سنی اور کچھ مشترکہ اصولوں پر اتفاق کیا۔ یہی عمل زندہ معاشروں کو آگے بڑھاتا ہے۔‘‘
یہ سن کر اجتماع میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔ اس خاموشی میں وہ سکون تھا جو طویل بحث کے بعد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کو محسوس ہو کہ اس کی بات سنی گئی ہے۔


وطن کی نئی صبح
اجتماع ختم ہونے لگا تو میں نے محسوس کیا کہ فضا میں ایک غیر معمولی تبدیلی آ رہی ہے۔ میدان کی دھند آہستہ آہستہ چھٹنے لگی اور دور افق پر روشنی کی ایک لکیر نمودار ہوئی۔ میں نے ادھر دیکھا تو منظر بدلنے لگا۔
میرے سامنے ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں مختلف زبانیں بولنے والے لوگ اپنے اپنے لباس اور ثقافتی شناخت کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے۔ کہیں بچے اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، کہیں استاد مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے احترام کا درس دے رہے تھے، کہیں نوجوان اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر روزگار حاصل کر رہے تھے اور کہیں عام شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کر رہے تھے۔
ایک دفتر کے باہر لوگوں کی قطار تھی۔ وہاں نہ کسی کو سفارش کی بنیاد پر آگے بھیجا جا رہا تھا اور نہ کسی غریب کو اس کی کم حیثیت کے باعث واپس لوٹایا جا رہا تھا۔ لوگ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔
ایک دوسری جگہ مقامی آبادی کے نمائندے ترقیاتی منصوبے پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ماہرین اور متعلقہ اداروں کے اہلکار بھی موجود تھے۔ منصوبے کے فوائد، ممکنہ نقصانات، روزگار کے مواقع اور مقامی ضروریات پر کھل کر بات ہو رہی تھی۔ اختلافات تھے، مگر کسی کو خاموش کرانے کے لیے دھمکی یا طاقت کا سہارا نہیں لیا جا رہا تھا۔
میں نے دیکھا کہ مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ بازاروں میں کاروبار کر رہے تھے۔ مقامی قوانین واضح تھے، عارضی رہائش کے ضابطے سب کو معلوم تھے اور تنازعات کی صورت میں انصاف کے لیے قانونی راستہ موجود تھا۔ مقامی آبادی کو اپنے مفادات کے تحفظ کا اعتماد حاصل تھا اور باہر سے آنے والے افراد بھی اپنے جائز حقوق کے بارے میں مطمئن تھے۔
اس منظر نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید امن کا مطلب صرف لڑائی کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جہاں انسان اپنے حقوق کے بارے میں مطمئن ہو، اس کی بات سنی جائے اور اسے اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے کسی غیر قانونی راستے یا طاقتور شخص کی خوشنودی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔
اچانک میں نے چند نوجوانوں کو ایک درخت کے نیچے بیٹھے دیکھا۔ ان میں مختلف زبانیں بولنے والے لڑکے اور لڑکیاں شامل تھے۔ وہ ایک دوسرے سے اپنے علاقوں کی روایات، شاعری اور تاریخ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ کوئی پشتو کا شعر سنا رہا تھا، کوئی بلوچی لوک داستان کا حوالہ دے رہا تھا، کوئی سندھی شاعری کی بات کر رہا تھا اور کوئی دوسری زبانوں کے محاوروں کی وضاحت کر رہا تھا۔
ان کی گفتگو میں مسابقت بھی تھی اور محبت بھی، مگر ایک دوسرے کی شناخت کو مٹانے کی خواہش نہیں تھی۔ وہ ایک دوسرے سے سیکھ رہے تھے، نہ کہ ایک دوسرے کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
میں نے دل ہی دل میں کہا کہ شاید ایک بہتر وطن کی بنیاد یہی ہے کہ لوگ اپنی شناخت پر فخر کریں، مگر دوسروں کی شناخت کو بھی عزت دیں؛ اپنے حقوق کا مطالبہ کریں، مگر دوسروں کے جائز حقوق کو بھی تسلیم کریں؛ اپنی زمین سے محبت کریں، مگر اس محبت کو نفرت کا ذریعہ نہ بنائیں۔
پھر میری نظر پہاڑوں کی طرف اٹھی۔ وہی پہاڑ تھے، وہی وادیاں اور وہی زمین، مگر منظر میں ایک نئی امید شامل ہو گئی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اس سرزمین نے طویل عرصے بعد سکون کا سانس لیا ہو۔
اس دوران وہی بلوچ دانشور میرے قریب آ کر کھڑا ہو گیا جس سے عالمِ برزخ میں میری ملاقات ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر اب پہلے جیسی اداسی نہیں تھی۔
اس نے کہا:
’’یہ منظر کسی جادو سے وجود میں نہیں آتا۔ اس کے لیے زندہ انسانوں کو اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنا پڑتی ہے۔ حقوق کو تسلیم کرنا، انصاف کو یقینی بنانا، محرومیوں کو سمجھنا اور اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا مسلسل عمل ہے۔ جب لوگ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہوں تو تبدیلی کا راستہ کھلتا ہے۔‘‘
میں نے پوچھا:
’’کیا ایسا معاشرہ حقیقت میں قائم ہو سکتا ہے؟‘‘
اس نے جواب دیا:
’’ہر خواب حقیقت نہیں بنتا، مگر ہر حقیقت کبھی نہ کبھی کسی خواب سے شروع ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے اسے صرف دوسروں کی ذمہ داری نہ سمجھیں۔ جس تبدیلی کی خواہش ہو، اس کے لیے خود بھی اپنے رویوں، فیصلوں اور کردار کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔‘‘
اس کی بات مکمل ہوئی تو میدان کی روشنی اچانک تیز ہونے لگی۔ آوازیں مدھم پڑ گئیں، چہرے دھندلانے لگے اور وہ منظر آہستہ آہستہ میری آنکھوں سے اوجھل ہونے لگا۔

خواب کا پیغام
میں نے اچانک آنکھ کھولی تو کمرے میں صبح کی روشنی پھیل رہی تھی۔ میز پر وہی کتابیں اور کاغذات رکھے تھے۔ عطااللہ بلوچ کی تحریر ’’الوداع میرے وطن‘‘ بھی میرے سامنے موجود تھی۔
میں چند لمحے خاموش بیٹھا اپنے خواب کو یاد کرتا رہا۔ وہ روایتی اجتماع، دانشوروں کی بلند آوازیں، اختلافات، قومی اختیار اور مقامی حقوق کی بحث، عارضی رہائش کے قوانین، اور آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ—سب کچھ میرے ذہن میں تازہ تھا۔
میں نے میز پر پڑا ایک کاغذ اٹھایا۔ اس پر میرے ہاتھ سے ایک جملہ لکھا ہوا تھا، جسے دیکھ کر میں خود بھی حیران رہ گیا:
’’مسائل کا حل بندوق نہیں، مشاورت اور احترامِ حقوق ہے۔‘‘
میں نے اس جملے کو دوبارہ پڑھا۔ اس میں شاید میرے خواب کا پورا پیغام سمٹ آیا تھا۔ کوئی بھی معاشرہ محض نعروں، دعوؤں یا طاقت کے استعمال سے دیرپا سکون حاصل نہیں کر سکتا۔ امن کے لیے انصاف، مشاورت، شفافیت، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کا احترام ضروری ہے۔ اسی طرح قومی شناخت اور مقامی آبادی کے جائز حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے دوسرے انسانوں کے قانونی حقوق کا تحفظ بھی ایک منصفانہ معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
وطن سے محبت صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں، وادیوں اور مٹی سے محبت کا نام نہیں؛ یہ ان لوگوں سے محبت کا نام بھی ہے جو اس سرزمین پر زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی محرومیوں کو سمجھنا، ان کے دکھ بانٹنا، ان کے لیے انصاف کے راستے کھولنا اور انھیں اپنے مستقبل کے بارے میں امید دینا بھی وطن سے محبت ہی کی صورتیں ہیں۔
میں نے کاغذ تہ کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ کوئٹہ جاگ رہا تھا۔ سڑکوں پر لوگ اپنے کاموں کے لیے نکل رہے تھے۔ ہر شخص کی اپنی منزل، اپنی ضرورت اور اپنی کہانی تھی۔ کسی کو روزگار کی فکر تھی، کسی کو تعلیم کی، کسی کو گھر کے اخراجات کی اور کسی کو اپنے بچوں کے مستقبل کی۔
میں سوچنے لگا کہ اگر ہر ادارہ اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرے، اگر ہر صاحبِ اختیار عام انسان کی بات سننے کے لیے تیار ہو، اگر ہر قوم دوسری قوم کے جائز حقوق کا احترام کرے اور اگر اختلاف کو دشمنی کے بجائے اصلاح کا موقع سمجھا جائے تو شاید وہ خواب کسی دن حقیقت بن سکتا ہے جس میں کسی انسان کو اپنے وطن سے محبت اور اپنے مستقبل کی تلاش میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کرنا پڑے۔
میرے ذہن میں اس بلوچ دانشور کا چہرہ دوبارہ ابھرا۔ اس کی آنکھوں میں موجود درد اب بھی مجھے یاد تھا، مگر اس کے آخری الفاظ بھی میرے ذہن میں گونج رہے تھے کہ خواب کو حقیقت بنانے کی ذمہ داری زندہ انسانوں پر ہے۔
میں نے کاغذ پر آخری جملہ لکھا:
’’وطن سے محبت کا آخری مقصد صرف واپس آنا نہیں، بلکہ ایسا وطن تعمیر کرنا ہے جہاں کسی کو اپنے گھر اور اپنی سرزمین سے جدا ہونے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔‘‘