مقامی ۱۲ اگست ۲۰۲۶

اسلامی نظام کا نفاذ پاکستان کی مضبوطی اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے، ملک سکندر خان

کوئٹہ(ویب نیوز) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور بلوچستان اسمبلی کے سابق اسپیکر ملک سکندر خان نے کہا ہے کہ پاکستان جغرافیہ، نسل یا زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمۂ توحید کے مشترکہ رشتے کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر قائم ہوا، اس لیے حقیقی معنوں میں ایک فلاحی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے اسلامی نظام کا نفاذ ناگزیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ملک میں رائج فرسودہ اور ناکام نظام سے سخت مایوس ہیں، جس کے باعث پاکستان سیاسی، آئینی اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے۔ ملک سکندر خان نے کہا کہ جب تک آئین پاکستان میں موجود اسلامی دفعات اور قراردادِ مقاصد کی روشنی میں عدالتی، اقتصادی اور انتظامی شعبوں میں اصلاحات نہیں کی جاتیں، ملک میں مضبوط نظام قائم، سیاسی استحکام پیدا اور موجودہ بحرانوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظام انسانی معاشرے کے اتحاد کی بنیاد ہے اور قرآن و سنت کی بالادستی اور ان کے قوانین کے نفاذ سے عدل و انصاف مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برس سے عوام ایک بے رحم اور کرپٹ نظام کے ہاتھوں مشکلات کا شکار ہیں، جس کے باعث ملک معاشی تباہی اور مسلسل بحرانوں میں مبتلا ہے، جبکہ یہی فرسودہ نظام ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔