پاکستان اس وقت سیاسی بے یقینی، معاشی دباؤ، انتظامی کمزوری، پانی کے بحران، صوبائی تحفظات اور بڑھتے ہوئے بیرونی قرضوں جیسے سنگین چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے حالات میں محض وقتی سیاسی مفاہمت یا اقتدار کی تبدیلی مسائل کا مستقل حل نہیں بن سکتی۔ ملک کو ایک نئے قومی مکالمے، جامع آئینی اصلاحات اور وفاق و اکائیوں کے درمیان اختیارات کی ازسرِ نو متوازن تقسیم کی ضرورت ہے تاکہ ریاستی ڈھانچہ مضبوط، مؤثر اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ ہوسکے۔
اٹھارویں آئینی ترمیم نے صوبائی خودمختاری کی بنیاد ضرور رکھی، مگر اس کے بعد بھی متعدد شعبوں میں اختیارات، وسائل اور انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے ابہام اور تنازعات برقرار ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جذباتی یا سیاسی نعروں کے بجائے عملی اور دیرپا اصلاحات پر سنجیدہ قومی بحث کرائی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں، آئینی ماہرین، ماہرینِ معیشت، پانی کے ماہرین، صوبائی نمائندوں اور سینیٹ کو اعتماد میں لے کر ایک وسیع قومی مشاورتی عمل کا آغاز کرے۔
سب سے اہم مسئلہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔ موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کو بنیادی بنیاد بنایا گیا، مگر اب ملک کے پسماندہ، وسیع اور وسائل سے محروم علاقوں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔ بلوچستان، جنوبی پشتونخوا، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں کی محرومیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نیا فارمولا ترتیب دینا ہوگا جس میں پسماندگی، رقبہ، قدرتی وسائل، انفراسٹرکچر کی کمی اور انسانی ترقی کے اشاریے بھی شامل ہوں۔ اگر ریاست کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنانا ہے تو کمزور اکائیوں کو زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔
اسی طرح مشترکہ مفادات کونسل اور نیشنل اکنامک کونسل جیسے اداروں کو فعال اور مؤثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی، انتظامی اور ترقیاتی اختیارات کی واضح حد بندی ہونی چاہیے تاکہ مستقل کشیدگی ختم ہوسکے۔ جن وفاقی محکموں کی صوبائی سطح پر بہتر نگرانی اور عمل درآمد ممکن ہے، انہیں مرحلہ وار صوبوں کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ تعلیم، زراعت، صحت، سماجی بہبود اور کئی ترقیاتی شعبے مقامی حکومتوں اور صوبائی اداروں کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جاسکتے ہیں.
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے بڑے سماجی منصوبوں کو بھی صوبائی سطح پر منتقل کرنے پر غور ہونا چاہیے تاکہ مقامی ضروریات، شفافیت اور جوابدہی بہتر ہوسکے۔ اس سے وفاقی حکومت کو مالی دباؤ میں نمایاں ریلیف مل سکتا ہے اور وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوگا۔
پاکستان کو درپیش سب سے خطرناک مستقبل کے بحرانوں میں پانی کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ اگر بھارت مستقبل میں دریاؤں کے پانی پر مزید دباؤ ڈالتا ہے یا پانی روکنے کی حکمت عملی اختیار کرتا ہے تو پاکستان کو شدید زرعی اور معاشی بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس لیے فوری طور پر قومی سطح پر متبادل آبی پالیسی، نئے ڈیمز، واٹر اسٹوریج، بارش کے پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام اور بین الصوبائی پانی معاہدوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ پانی کا مسئلہ صرف ایک صوبے یا حکومت کا نہیں بلکہ قومی بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔
بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی آئین کے آرٹیکل 140کو حقیقی روح کے مطابق نافذ کرنا ضروری ہے۔ اختیارات، وسائل اور انتظامی آزادی نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ مقامی حکومتیں مضبوط ہوں گی تو عوامی مسائل کا حل بھی تیز ہوگا اور وفاق و صوبوں پر دباؤ بھی کم ہوگا۔
ملک میں بڑھتے ہوئے بیرونی قرضے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ہر آنے والی حکومت قرض لے کر نظام چلاتی رہی تو مستقبل کی نسلیں شدید معاشی غلامی کا شکار ہوسکتی ہیں۔ اس لیے آئینی اور قانونی سطح پر مالی نظم و ضبط، غیر ضروری اخراجات میں کمی اور قومی وسائل کے تحفظ کے لیے مضبوط میکنزم تشکیل دینا ہوگا۔
یہ بحث بھی شدت سے موجود ہے کہ آیا موجودہ پارلیمانی نظام میں اصلاحات کی جائیں یا اختیارات کے توازن کو ازسرنو متعین کیا جائے۔ بعض حلقے صدارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں جبکہ دیگر پارلیمانی نظام کو بہتر بنانے کے حامی ہیں۔ اصل مسئلہ نظام کا نام نہیں بلکہ شفافیت، جوابدہی، اختیارات کی تقسیم اور ادارہ جاتی توازن ہے۔ اگر پارلیمانی نظام برقرار رکھا جائے تو سینیٹ کو حقیقی معنوں میں مضبوط اور بااختیار بنانا ہوگا تاکہ چھوٹی اکائیوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے۔ سینیٹ کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور جغرافیائی اکائیوں کے احترام کے بغیر مضبوط وفاق کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح نوجوانوں کی سیاسی شمولیت اور قومی ذمہ داریوں میں کردار بڑھانے کے لیے ووٹر کی عمر، سیاسی تربیت اور مقامی سطح پر نمائندگی کے نظام پر بھی قومی سطح پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
پاکستان کو اس وقت نعروں یا وقتی اتحادوں سے زیادہ ایک نئے قومی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خودمختاری، مضبوط بلدیاتی نظام، پانی و معیشت کے مستقل حل، ادارہ جاتی توازن اور آئینی بالادستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہو۔ اگر ریاست تمام اکائیوں کو اعتماد میں لے کر ایک منصفانہ اور متوازن آئینی ڈھانچہ تشکیل دے سکے تو نہ صرف وفاق مضبوط ہوگا بلکہ سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور قومی یکجہتی کی نئی بنیاد بھی قائم ہوسکے گی۔
