اداریہ ۱۴ مئی ۲۰۲۶

قومی استحکام کے لیے بلاول بھٹو زرداری سے دور اندیش فیصلوں اور بلوچستان پرنٹ میڈیا کی توقعات

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی صرف وسائل، جغرافیہ یا عسکری قوت سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اصل بنیاد وژنری قیادت ہوتی ہے۔ ایسی قیادت جو آنے والے خطرات کو وقت سے پہلے محسوس کرے، عوامی احساسات کو سمجھے، ریاستی کمزوریوں کا ادراک رکھے اور وقتی مفادات کے بجائے قومی مستقبل کو ترجیح دے۔ وژن رکھنے والا رہنما صرف اپنی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مستقبل سنوارتا ہے، جبکہ بصیرت سے محروم قیادت قوموں کو بحرانوں، بے یقینی اور داخلی خلفشار کی طرف دھکیل دیتی ہے۔بدقسمتی سے آج پاکستان کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ ملک میں وژنری قیادت کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے، جبکہ بیشتر بااختیار حلقے زمینی حقائق اور مستقبل کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ دکھائی نہیں دیتے۔ اس صورتحال کی سب سے نمایاں مثال بلوچستان اور خیبرپشتونخوا ہیں، جہاں دہائیوں سے موجود سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل مسلسل گمبھیر ہوتے جارہے ہیں۔ یہ صرف دو صوبوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے داخلی استحکام، عالمی ساکھ اور قومی یکجہتی کا معاملہ ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان اور خیبرپشتونخوا میں بدامنی، احساسِ محرومی، بے روزگاری، سیاسی بے اعتمادی اور اظہارِ رائے سے متعلق خدشات نے ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھائے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ سیاسی حکمتِ عملی، عوامی اعتماد کی بحالی اور دور رس پالیسیوں کی ضرورت تھی، مگر افسوس کہ کئی مواقع پر ایسے اقدامات کیے گئے جنہوں نے مسائل کم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنادیے۔بلوچستان کابینہ کے 16 اپریل کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق متنازع فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ صوبے کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں اور سماجی حلقوں نے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا، کیونکہ پرنٹ میڈیا کو محدود کرنا دراصل عوامی آواز، فکری آزادی اور جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ شدید ردعمل کے باوجود اس فیصلے پر نظرثانی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔