اداریہ ۱۳ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان میں ترقی کا معیار — برابری یا ترجیحات؟

بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور قومی معیشت میں کلیدی کردار کے باوجود آج بھی بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں عوام صاف پانی، معیاری تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی انفراسٹرکچر جیسی سہولیات سے محروم ہیں۔ جنوبی پشتونخوا کے اضلاع خصوصاً کوئٹہ، سبی، موسیٰ خیل، ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن، قلعہ عبداللہ اور دیگر علاقوں میں عوامی مشکلات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ غربت، بے روزگاری، ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں، پانی کا بحران اور ترقیاتی منصوبوں کی کمی یہاں کے عوام کا مستقل مقدر بن چکی ہے۔دوسری جانب گوادر کے لیے آئندہ دس برسوں میں 280 ارب روپے کے میگا ترقیاتی پروگرام کا اعلان یقیناً خوش آئند ہے۔ گوادر پاکستان کے مستقبل کا معاشی، تجارتی اور بحری مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی ترقی قومی مفاد سے جڑی ہوئی ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، اسپیشل اکنامک زونز، سیاحتی مراکز، واٹر سپلائی، انڈسٹریل منصوبے اور ماحول دوست ترقیاتی پروگرام کسی بھی ترقی یافتہ شہر کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کی ترقی کا مطلب صرف گوادر کی ترقی ہے؟ذیہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں کو اکثر ترقیاتی ترجیحات میں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ اگر گوادر کے لیے عالمی معیار کے منصوبے بن سکتے ہیں تو کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت، سبی جیسے تاریخی و تجارتی مرکز، موسیٰ خیل، ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن اور قلعہ عبداللہ جیسے علاقوں کے لیے اسی نوعیت کی سنجیدہ منصوبہ بندی کیوں نہیں کی جاتی؟ آخر کیوں ان علاقوں کے نوجوان روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے لیے دربدر رہتے ہیں؟ کیوں جنوبی پشتونخوا کے عوام آج بھی پینے کے صاف پانی اور صحت کی بنیادی سہولتوں کے لیے احتجاج کرنے پر مجبور ہیں؟ترقی کا تصور صرف ایک شہر یا چند مخصوص علاقوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ایک متوازن اور پائیدار ترقی وہی ہوتی ہے جس کے ثمرات صوبے کے ہر خطے تک پہنچیں۔ اگر ایک طرف گوادر میں جدید شاہراہیں، انڈر گراؤنڈ کیبلنگ، ٹورازم ریزورٹس اور جدید شہری سہولیات کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے تو دوسری طرف کوئٹہ، سبی، موسیٰ خیل، ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن اور قلعہ عبداللہ جیسے علاقوں میں عوام بنیادی انفراسٹرکچر سے بھی محروم کیوں ہیں؟ یہ تضاد احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے۔

بلوچستان کی سیاسی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ وسائل اور اختیارات کی غیر مساوی تقسیم نے ہمیشہ بداعتمادی کو بڑھایا ہے۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والے موجودہ بلوچستان میں مختلف قومیتوں کے تحفظات آج بھی موجود ہیں۔ صرف پشتون نہیں بلکہ بلوچ حلقے بھی اس بات پر سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ ترقیاتی وسائل کی تقسیم میں انصاف کیوں نہیں کیا جاتا۔ یہی غیر متوازن پالیسی رفتہ رفتہ برادر اقوام کے درمیان فاصلے پیدا کرتی ہے، جس سے فائدہ وہ قوتیں اٹھاتی ہیں جو بلوچستان میں تقسیم اور انتشار کو ہوا دینا چاہتی ہیں۔گوادر کی ترقی پورے صوبے اور ملک کے لیے ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، سبی، موسیٰ خیل، ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن، قلعہ عبداللہ، خضدار اور دیگر محروم علاقوں کو بھی ترقیاتی منصوبوں میں مساوی اہمیت دینا ناگزیر ہے۔ اگر صوبے کے تمام علاقوں کو برابری کی بنیاد پر ترقی نہ دی گئی تو احساسِ محرومی مزید شدت اختیار کرے گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کے لیے ایسی جامع پالیسی تشکیل دیں جس میں وسائل، ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کی تقسیم آبادی، ضروریات اور جغرافیائی حقائق کے مطابق ہو۔ کوئٹہ، سبی، موسیٰ خیل، ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن اور قلعہ عبداللہ سمیت جنوبی پشتونخوا کے علاقوں کے لیے بھی خصوصی ترقیاتی پیکجز، صنعتی زونز، یونیورسٹیاں، اسپتال، پانی کے منصوبے اور جدید شاہراہیں ناگزیر ہیں ۔بلوچستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب گوادر کی چمکتی روشنیوں کے ساتھ کوئٹہ، سبی، موسیٰ خیل، ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ، چمن، قلعہ عبداللہ، تربت، خضدار اور صوبے کے تمام محروم علاقوں میں بھی خوشحالی اور مساوی ترقی کا احساس پیدا ہوگا۔ کیونکہ انصاف پر مبنی ترقی ہی مضبوط اور متحد بلوچستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔