اداریہ ۱۱ مئی ۲۰۲۶

پرنٹ میڈیا اور حکومتی پالیسی — وضاحت وقت کی اہم ضرورت

بلوچستان میں 16 اپریل کو صوبائی کابینہ کی جانب سے مجوزہ ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کی منظوری کے بعد سے مقامی پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہزاروں افراد میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دہائیوں سے قلم کے ذریعے عوامی مسائل، محرومیوں اور اجتماعی احساسات کو ایوانوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے آئے ہیں۔بدقسمتی سے نئی پالیسی کے بعد مقامی اخبارات کے مستقبل کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے، جبکہ اس ضمن میں پرنٹ میڈیا کی جانب سے حکومتی حلقوں سے متعدد رابطے کیے گئے، مگر تاحال کسی واضح اور تسلی بخش وضاحت کا سامنے نہ آنا تشویش میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے سے باہر کے الیکٹرانک میڈیا اداروں میں ورکروں کے خلاف کارروائیوں کے بعد بلوچستان اسمبلی کے فلور پر جس انداز میں صحافیوں کے حق میں آواز بلند کی، وہ قابل تحسین اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کے صحافیوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی، پورا ایوان صحافیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور میڈیا ہاؤسز بلوچستان کو محض کاروباری نقطہ نظر سے نہ دیکھیں۔ ان کا یہ مؤقف نہ صرف صحافتی حلقوں کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ حکومت صحافیوں کے مسائل سے آگاہ ہے۔
تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر الیکٹرانک میڈیا کے ورکروں کے تحفظات دور کرنا ضروری ہیں تو پھر مقامی پرنٹ میڈیا، جو بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں عوامی آواز کا واحد مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے، اس کے بارے میں پائی جانے والی بے یقینی کا خاتمہ کیوں نہیں کیا جارہا؟ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں مقامی اخبارات صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک سماجی، فکری اور جمہوری ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی اخبارات صوبے کے سیاسی، سماجی اور قومی شعور کو زندہ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔اس وقت صوبے کی سیاسی و صحافتی قیادت پرنٹ میڈیا کے تحفظ، بجٹ اور نئی پالیسی کے حوالے سے تقریباً ایک صفحے پر نظر آتی ہے۔ ایسے میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے، تحفظات دور کرے اور ایک ایسی پالیسی متعارف کرائے جو مقامی صحافت کے استحکام کا باعث بنے، نہ کہ اس کے وجود کے لیے خطرہ۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اگر اسی جذبے کے ساتھ پرنٹ میڈیا کے بارے میں بھی واضح اعلان کریں اور مقامی اخبارات کے تحفظ، اشتہاری بجٹ اور پالیسی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات دور کریں تو اس سے نہ صرف ہزاروں خاندانوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم ہوگی بلکہ حکومت اور صحافتی برادری کے درمیان اعتماد کی فضا بھی مضبوط ہوگی۔ یہ اقدام یقیناً صوبے اور ملک کے وسیع تر مفاد میں ہوگا، کیونکہ آزاد، مضبوط اور مقامی صحافت ہی کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت سمجھی جاتی ہے۔