اداریہ ۱۱ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان کے انتظامی و سیاسی مسائل: زمینی حقائق اور محتاط فیصلوں کی ضرورت

اس وقت بلوچستان مختلف انتظامی، سیاسی اور سماجی مباحث کا مرکز بنا ہوا ہے، اور یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ صوبہ اکثر اہم پالیسی فیصلوں اور اصلاحاتی اقدامات کے لیے ایک طرح کا “تجربہ گاہ” بنتا دکھائی دیتا ہے۔ چاہے اختیارات کی منتقلی ہو، نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہو یا سیاسی و انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں، ایسے اقدامات کا آغاز اکثر بلوچستان ہی سے ہوتا ہے، جس پر مقامی سطح پر سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں۔ماضی میں سبی جیسے علاقوں میں اختیارات کی منتقلی کے اعلانات ہوں یا کم آبادی والے علاقوں میں نئے ڈویژنز کے قیام کی تجاویز، ان فیصلوں پر عوامی سطح پر مکمل اعتماد پیدا نہ ہو سکا۔ اسی طرح انتظامی تقسیم سے متعلق مختلف منصوبے بھی عوامی حساسیت اور سیاسی اختلافات کا سبب بنتے رہے ہیں۔اس پس منظر میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کا مؤقف اہمیت رکھتا ہے کہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم یا ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں اگر محض وسائل کے حصول یا سیاسی مفادات کے لیے ہوں تو انہیں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ایسی کسی بھی پیش رفت کی بنیاد زبان، تاریخ، ثقافت اور جغرافیے جیسے حقیقی عوامل پر ہونی چاہیے، ورنہ اس سے مزید پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان اس وقت بے روزگاری، بدامنی، معاشی دباؤ اور ترقیاتی عدم توازن جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ بارڈر تجارت کی بندش اور محدود معاشی مواقع نے بھی مقامی آبادی کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر انتظامی فیصلے عوامی مشاورت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر کیے جائیں تو اس کے منفی اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔دوسری جانب یہ بھی ایک مثبت پہلو ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں اپنی تنظیمی سرگرمیوں اور کارکنوں کی تربیت پر توجہ دے رہی ہیں، جو جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی کارکنوں کا عوام سے رابطہ اور ان کے مسائل سے آگاہی یقیناً ایک بہتر سیاسی کلچر کی طرف قدم ہے۔مجموعی طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کسی بھی بڑے انتظامی یا سیاسی فیصلے سے قبل وسیع تر مشاورت، زمینی حقائق اور عوامی اعتماد کو بنیاد بنائیں۔ پاکستان اگر ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن رہنا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ تمام اکائیوں خصوصاً بلوچستان کے حساس حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں۔ملک کو آگے لے جانے کے لیے انتشار نہیں بلکہ تدبر، مشاورت اور انصاف پر مبنی حکمت عملی ہی واحد راستہ ہے۔