اداریہ ۷ مئی ۲۰۲۶

حکومت کی جانب ایک احسن اقدام، مگر پالیسیوں میں توازن ناگزیر

حکومتی فیصلے بعض اوقات ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں جن کی بعد میں وضاحت اور توجیہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مائنز اینڈ منرلز بل، مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق فیصلے اور کابینہ کے حالیہ اجلاس میں منظور ہونے والی میڈیا ایڈورٹائزمنٹ پالیسی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ ان اقدامات پر نہ صرف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے بلکہ عدالتی دروازے بھی کھٹکھٹائے گئے، جس سے ایک غیر یقینی صورتحال نے جنم لیا۔اسی پس منظر میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر و سینیٹر مولانا عبدالواسع کا حالیہ مؤقف اور حکومت کے ساتھ مذاکرات ایک مثبت پیش رفت قرار دیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں حکومتی وفد نے نہ صرف مدارس کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی بلکہ پہلے سے کیے گئے اقدامات پر معذرت بھی کی۔ لانگ مارچ کو مؤخر کرنا بھی سیاسی روایات اور مذاکراتی عمل کی کامیابی کی ایک علامت ہے، جو بلوچستان جیسے حساس صوبے میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم یہ امر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ محض یقین دہانیوں سے دیرپا استحکام ممکن نہیں ہوتا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ تمام متنازع پالیسیوں، خصوصاً میڈیا پالیسی اور دیگر معاشی و سماجی فیصلوں پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔ اگرچہ مولانا عبدالواسع اور دیگر قائدین کا مذاکراتی کردار قابلِ تحسین ہے، لیکن اب یہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ان مثبت پیش رفتوں کو مستقل پالیسی اصلاحات میں تبدیل کرےخاص طور پر میڈیا پالیسی کے حوالے سے خدشات سنجیدہ نوعیت کے ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں اگر ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہونے کا اندیشہ ہے تو اس پر نظرثانی ناگزیر ہے۔ بلوچستان جیسے پہلے ہی معاشی دباؤ اور بے روزگاری کا شکار صوبے میں ایسے فیصلے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔اگر مولانا عبدالواسع اور جمعیت علماء اسلام کی قیادت اس موقع پر اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو مزید قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف سیاسی درجہ حرارت میں کمی کا باعث ہوگا بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے بھی یہ موقع ہوگا کہ وہ متنازع ترمیمات پر نظرثانی کرتے ہوئے ایک وسیع تر قومی و عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔آخرکار ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے مد مقابل ہونے کے بجائے مکالمے اور مفاہمت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں، تاکہ پالیسیوں کا تسلسل بھی برقرار رہے اور عوامی اعتماد بھی مجروح نہ ہو۔