پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ریاست، سیاست، وفاق اور عوامی اعتماد کے حوالے سے بنیادی سوالات شدت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ ملک کی مختلف اکائیوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی، سیاسی کشیدگی، سلامتی کے چیلنجز اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے فقدان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں محض ماضی کے تجربات کو نئی شدت کے ساتھ دہرانا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
ملک میں ماضی قریب تک بلوچستان میں ناراض عناصر کو ’’بلوچ ناراض بھائی‘‘ قرار دے کر سیاسی مصالحت اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا جاتا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے مختلف اور زیادہ سخت اصطلاحات استعمال ہونے لگیں۔ اسی طرح پشتون سیاسی قیادت اور قوم پرست سیاست بھی طویل عرصے تک الزامات، شکوک اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرتی رہی۔ دوسری جانب بعض دیگر حلقوں کے لیے نرم رویہ اور مفاہمتی زبان اختیار کی جاتی ہے۔ اس غیر یکساں طرزِ عمل نے مختلف طبقات میں احساسِ محرومی کو جنم دیا ہے۔
کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں تاریخی کردار ادا کرنے والے قبائلی علاقوں کے عوام آج خود مختلف نوعیت کے سوالات اور مسائل سے دوچار ہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق سامنے آنے والے بیانات اور الزامات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتخابی عمل پر اعتماد کا بحران صرف ایک خطے تک محدود نہیں رہا۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی انتخابی شفافیت اور عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے شدید اختلافات موجود ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر دھاندلی، سیاسی انجینئرنگ اور عوامی رائے کو مسخ کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں جبکہ مذاکرات کی دعوتیں بھی ایسے ماحول میں دی جا رہی ہیں جہاں بنیادی فریقین کی شمولیت پر سوالات موجود ہیں۔
خیبر پشتونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، ریاستی اداروں کی کارکردگی اور عوامی تحفظ کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ اپنی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر لشکر یا دفاعی کمیٹیاں تشکیل دینے کی بات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مسلح گروہوں کی جانب سے عوام کو انتباہات اور دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی ریاست کے لیے باعثِ تشویش ہونی چاہیے کیونکہ جب شہری اپنی سلامتی کے لیے ریاست کے بجائے متبادل ذرائع تلاش کرنے لگیں تو یہ اعتماد کے بحرانذ کی علامت ہوتا ہے۔ذ
اس تمام پس منظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے پالیسی ساز موجودہ حقائق اور زمینی حالات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا وفاق کی مضبوطی صرف انتظامی اور سکیورٹی اقدامات سے ممکن ہے یا اس کے لیے سیاسی اعتماد، آئینی مساوات اور عوامی شرکت بھی ناگزیر ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار استحکام طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت، انصاف اور شراکت داری سے حاصل ہوتا ہے۔
پاکستان ایک کثیرالقومی، کثیرالثقافتی اور متنوع وفاق ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر قومی یکجہتی کا خواب مکمل نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ وفاق اور اس کی اکائیاں ایک نئے عمرانی معاہدے کی بنیاد رکھیں، ایسا معاہدہ جو آئین کی روح، عوام کی رائے، صوبائی خودمختاری، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی حقوق کے احترام پر استوار ہو۔ یہی راستہ ایک خوشحال، مستحکم اور پُرامن پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔
بدقسمتی سے ہم ابھی تک اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت کرنے کے بجائے ماضی کے انہی نسخوں کو نئے انداز میں آزما رہے ہیں جو پہلے بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے۔ جب تک ریاست اور سیاسی قیادت زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اعتماد سازی، مکالمے اور قومی مفاہمت کی طرف عملی قدم نہیں بڑھاتے، تب تک مسائل کے حل کے بجائے ان کی شدت میں اضافے کا خدشہ برقرار رہے گا۔پاکستان کو آج محض انتظامی فیصلوں کی نہیں بلکہ ایک نئے سیاسی وژن، نئے قومی مکالمے اور نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو وفاق کو مضبوط، اکائیوں کو مطمئن اور ریاست کو مستحکم بنا سکتا ہے۔
