اداریہ ۱۱ جون ۲۰۲۶

بلوچستان: خاموش حکمران اور بڑھتا ہوا عوامی اضطراب

بلوچستان ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریاستی رٹ، حکومتی کارکردگی اور عوامی اعتماد کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ صوبے کے طول و عرض میں بدامنی، شاہراہوں کی بندش، ٹرانسپورٹ پر حملوں، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹوں اور عام شہریوں کے عدم تحفظ نے عوام کو شدید بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ جرائم اور ریاست مخالف کارروائیوں کو روکنے میں ریاستی اداروں کی ناکامی کے بعد عوام خود اپنے تحفظ کے لیے منظم ہونے اور اجتماعی اقدامات پر غور کرنے پر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ماضی قریب میں جب سندھ کے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف لشکر کشی کی آواز بلند ہوئی تو ہزاروں افراد جدید اسلحے کے ساتھ میدان میں اتر آئے تھے۔ ریاستی ادارے بھی اس صورتحال میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک نظر آئے اور یوں ایک وقتی حل نکال لیا گیا۔ لیکن اس کے بعد بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتی چلی گئی۔ شاہراہوں پر حملے، مسافروں کے قتل، ٹرانسپورٹ اور تجارت کے خلاف کارروائیاں اور عوام میں عدم تحفظ کے احساس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

آج بلوچستان کے تقریباً تمام اہم شعبے سراپا احتجاج ہیں۔ چیمبرز آف کامرس، ٹرانسپورٹرز، معدنیات کے شعبے سے وابستہ حلقے، تاجر تنظیمیں،پرنٹ میڈیا اور دیگر نمائندہ ادارے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں ایسے رہنما بھی شامل ہیں جو ماضی میں ایک دوسرے کے سخت سیاسی اور نظریاتی مخالف سمجھے جاتے تھے۔ ان کا ایک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ اب کسی ایک طبقے یا گروہ کا نہیں بلکہ پورے بلوچستان کا اجتماعی مسئلہ بن چکا ہے۔

اگر یہ تنظیمیں غیر معینہ مدت کے لیے صوبہ بند کرنے کا اعلان کر رہی ہیں تو اسے معمول کا احتجاج سمجھنے کی غلطی نہیں کی جانی چاہیے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو بین الاقوامی سرحدوں، معدنی وسائل، ساحلی پٹی اور قومی تجارت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر صوبے کا ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ متاثر ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کی معیشت، تجارت، ٹرانسپورٹ اور قومی یکجہتی کو متاثر کریں گے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت اس سنگین صورتحال کے باوجود غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اقتدار کے ایوانوں کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ عوامی نمائندوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکمرانوں کی خاموشی نہ صرف حیران کن بلکہ تشویشناک بھی ہے۔

اس تمام صورتحال کا شاید سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ جب متاثرہ طبقات اور نمائندہ تنظیمیں حکمرانوں سے اپنے تحفظات کے ازالے کے لیے رابطہ کرتی ہیں تو انہیں واضح اور دوٹوک مؤقف کے بجائے اشاروں اور کنایوں میں جواب دیا جاتا ہے۔ جمہوری نظام میں حکمرانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوام کو اعتماد، یقین اور واضح سمت فراہم کریں، لیکن جب سنجیدہ سوالات کے جواب مبہم انداز میں دیے جائیں تو اس سے بے یقینی اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ جب حکمران واضح مؤقف اختیار کرنے کے بجائے اشاروں کی زبان میں گفتگو کرنے لگیں تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ یا تو مسائل کی سنگینی کا ادراک نہیں کیا جا رہا یا پھر ان کے حل کے لیے سنجیدہ ارادہ موجود نہیں۔ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی ایک بڑی وجہ یہی طرزِ حکمرانی بنتی جا رہی ہے۔حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسائل کو نظر انداز کرنے سے وہ ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر تین درجن سے زائد نمائندہ تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر آکر صوبے کی بندش کا اعلان کر رہی ہیں تو یہ محض احتجاج نہیں بلکہ ایک اجتماعی انتباہ ہے۔ اس انتباہ کو سنجیدگی سے نہ لینا آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ حالات کو جنم دے سکتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے۔ وزیراعظم، وفاقی وزیر داخلہ اور متعلقہ قومی اداروں کو بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔ امن و امان کی بحالی، شاہراہوں کی حفاظت، تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اور عملی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

بلوچستان کو مزید نظر انداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ صوبہ محض ایک انتظامی اکائی نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی اہمیت کا مرکز ہے۔ اگر عوام کے جائز تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے فوری، مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرے، کیونکہ اب خاموشی اور تاخیر مزید کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔