اداریہ ۱۰ جون ۲۰۲۶

پاکستان، چین اور بدلتی ہوئی عالمی ترجیحات

عالمی سیاست میں آج چین جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں تک پہنچنے کا سفر محض معاشی منصوبہ بندی اور قومی نظم و ضبط کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں کئی اہم سفارتی عوامل بھی کارفرما رہے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی اس تاریخی عمل میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں پاکستان نے امریکہ اور چین کے درمیان رابطوں کا پل بن کر دونوں ممالک کو قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اگر اس وقت پاکستان یہ سفارتی کردار ادا نہ کرتا تو ممکن ہے کہ آج کی عالمی سیاسی اور معاشی صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔

چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہمیشہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ رہا ہے۔ دنیا بھر میں یہ تاثر عام ہے کہ چین کے نزدیک سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر چین کے مفادات ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ چین سے بہتر دوست شاید ہی کوئی ہو، لیکن اگر تعلقات خراب ہوں تو وہ ایک نہایت مشکل اور طاقتور حریف بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات ہمیشہ روایتی سفارتی تعلقات سے بڑھ کر رہے ہیں اور دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا یہ بیان کہ پاک چین تعلقات کی پچھتر سالہ تاریخ ہر آزمائش پر پوری اتری ہے، اپنی جگہ درست ہے۔ سی پیک نے پاکستان کی معیشت، توانائی اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی۔ تاہم بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوستیاں نہیں بلکہ مستقل مفادات ہوتے ہیں، اور یہی اصول چین کی موجودہ حکمت عملی میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں خطے کی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ چین نے افغانستان کے ساتھ اپنے روابط میں اضافہ کیا اور واخان کوریڈور سمیت متعدد علاقائی منصوبوں پر توجہ مرکوز کی۔ اگر یہ منصوبے مکمل طور پر فعال ہو جاتے ہیں تو چین کو وسطی اور جنوبی ایشیا تک رسائی کے نئے راستے میسر آئیں گے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ خطے میں جغرافیائی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے صرف ماضی کی دوستیوں پر انحصار کافی نہیں بلکہ داخلی استحکام، اقتصادی ترقی اور پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے۔

آج دنیا ایک نئی سرد جنگ جیسے ماحول سے گزر رہی ہے جہاں امریکہ اور چین کے درمیان معاشی، تجارتی اور تزویراتی مقابلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کیا طے کرتا ہے۔ کیا پاکستان بڑی طاقتوں کی کشمکش میں فریق بنے یا پھر اپنے قومی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے متوازن اور آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے؟

حقیقت یہ ہے کہ چین کی کامیابی کا ایک بڑا راز یہی ہے کہ اس نے دہائیوں تک غیر ضروری عالمی تنازعات سے خود کو دور رکھا اور اپنی تمام تر توانائیاں معاشی ترقی، صنعتی پیداوار، سائنسی تحقیق اور قومی طاقت کے استحکام پر مرکوز رکھیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ زیادہ سودمند دکھائی دیتا ہے۔ ملک کو جذباتی نعروں اور عالمی طاقتوں کی رقابتوں میں الجھنے کے بجائے اپنی معیشت، تعلیم، ٹیکنالوجی، صنعت، تجارت اور علاقائی روابط کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، نوجوان آبادی، معدنی وسائل اور علاقائی رابطوں کی صلاحیت اسے ایک اہم عالمی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی پالیسیوں کا مرکز کسی ایک عالمی بلاک کی حمایت یا مخالفت کے بجائے پاکستان کے اپنے مفادات ہوں۔ اگر چین نے “سب سے پہلے چین” کا اصول اختیار کرکے عالمی طاقت کا مقام حاصل کیا ہے تو پاکستان کو بھی “سب سے پہلے پاکستان” کی سوچ کو اپنی قومی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔

بڑی طاقتوں کی جنگیں عموماً بڑی طاقتوں کے مفادات کی حفاظت کرتی ہیں، جبکہ ترقی پذیر ممالک ان کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کے لیے دانشمندی کا راستہ یہی ہے کہ وہ متوازن سفارت کاری، اقتصادی خودمختاری اور داخلی استحکام کے ذریعے اپنے عالمی مقام کو بلند کرے اور آنے والے برسوں میں ایک باوقار، خوداعتماد اور بااثر ریاست کے طور پر ابھرے۔