اداریہ ۷ جون ۲۰۲۶

بلوچستان: ریاست کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکر

بلوچستان میں امن و امان، تجارت، ٹرانسپورٹ اور سرمایہ کاری سے متعلق تحفظات اب محض چند حلقوں کی شکایات نہیں رہے بلکہ یہ ایک وسیع عوامی اور معاشی مسئلہ بن چکے ہیں۔ جب بلوچستان چیمبر آف کامرس، ٹرانسپورٹرز، معدنیات کے شعبے، تاجر تنظیمیں، بس و کوچ مالکان، مال بردار گاڑیوں کے مالکان اور دیگر درجنوں نمائندہ تنظیمیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے خدشات کا اظہار کریں تو اسے محض احتجاجی بیان سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ وارننگ کے طور پر لیا جانا چاہیے۔

ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ آئین پاکستان بھی اسی اصول کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر عام شہری، تاجر، سرمایہ کار اور مسافر خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، قومی شاہراہیں خوف کی علامت بن جائیں اور حکومتی ادارے عوام کو رات کے سفر سے گریز کا مشورہ دینے لگیں تو یہ صورتحال ریاستی کارکردگی پر سوالات اٹھانے کا باعث بنتی ہے۔ ریاست کی طاقت کا اصل معیار اس کے وسائل یا ادارے نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے، اور اعتماد اسی وقت برقرار رہتا ہے جب تحفظ کا احساس موجود ہو۔

بلوچستان کے حالات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس مرتبہ مختلف الخیال اور مختلف مفادات رکھنے والے طبقات ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ کاروباری برادری، ٹرانسپورٹرز، معدنیات کے شعبے سے وابستہ افراد اور تاجر تنظیموں کا متفق ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے مواقع پر ریاستوں کی ذمہ داری صرف ردعمل دینا نہیں بلکہ بروقت اور دوراندیش فیصلے کرنا ہوتی ہے۔
غیر معینہ مدت کی ہڑتال اور پہیہ جام تحریک کی دھمکی یقیناً تشویش ناک ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ متعلقہ تنظیموں نے عوام کو اشیائے ضروریہ اور ادویات ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ حالات معمول کے دائرے سے نکل کر ایک سنگین مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اگر معاملات یہاں تک پہنچ گئے ہیں تو ریاستی اداروں کو محض انتظامی کارروائیوں کے بجائے سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

حقیقت یہ ہے کہ افراد، گروہ اور تنظیمیں ریاست کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے، لیکن ریاست کی قوت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ طاقت کے اظہار کے بجائے مسائل کے حل میں اپنی برتری ثابت کرے۔ دنیا کی کامیاب ریاستیں وہی ہیں جو اختلاف اور احتجاج کو خطرہ نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھتی ہیں۔ بلوچستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، سیکیورٹی ادارے، تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھا کر قابلِ عمل حل تلاش کیے جائیں۔

بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، معدنی وسائل کا مرکز اور خطے کی تجارت کا اہم دروازہ ہے۔ اگر یہاں عدم اطمینان بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف صوبے تک محدود نہیں رہتے بلکہ قومی معیشت، علاقائی تجارت اور ملکی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنا غلطی ہوگی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست بلوچستان کے حالات کی نزاکت کو سمجھے، عوامی اور تجارتی حلقوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور ایسے فوری اقدامات کرے جو اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکیں۔ کیونکہ معاملات جب ہاتھ سے نکل جائیں تو ان پر قابو پانے کی قیمت ہمیشہ زیادہ ادا کرنا پڑتی ہے۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ بحران کو تصادم میں تبدیل ہونے سے پہلے حل کر لیا جائے۔

بلوچستان آج محاذ آرائی نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، مؤثر حکمرانی اور عملی اقدامات کا منتظر ہے۔

یہ اداریہ روزنامہ طرز میں شائع ہونے کے قابل ہے اور اس میں ریاست کے لیے تنبیہ، مشورہ اور بلوچستان کے حالات کی حساسیت کو متوازن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔