اداریہ ۳ جون ۲۰۲۶

بلوچستان کا بحران، پشتون خطے کی بے چینی اور سیاسی حل کی ضرورت

بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو رقبے، وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے پاکستان کی سیاسی و معاشی ساخت میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ صوبہ دہائیوں سے بدامنی، سیاسی بے چینی، معاشی محرومی اور انتظامی کمزوریوں کا شکار چلا آ رہا ہے۔ آج اگر بلوچستان کے مجموعی حالات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ جاری بدامنی کے اثرات بلوچ آبادی کے ساتھ ساتھ پشتون علاقوں اور وہاں کے عوام کو بھی شدید طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق جانی و مالی نقصانات، نقل و حرکت کی مشکلات، خوف و ہراس کی فضا اور معاشی جمود کا بڑا بوجھ پشتون علاقوں نے بھی برداشت کیا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں عوام خود کو ایک غیر یقینی کیفیت میں محسوس کرتے ہیں۔ شاہراہوں کی غیر محفوظ صورتحال، مسلح گروہوں کی نقل و حرکت، خوف کی نفسیاتی فضا اور ریاستی رٹ سے متعلق سوالات عام آدمی کے ذہن میں اضطراب پیدا کر رہے ہیں۔ کوئٹہ کے مضافات اور دیگر علاقوں میں مسلح سرگرمیوں کی موجودگی کے تذکرے اس تاثر کو مزید مضبوط کرتے ہیں کہ صوبے کے بعض حصے ایک طویل اور خاموش کشمکش کے اثرات سے گزر رہے ہیں۔ایسے حالات میں جب پشتون قوم پرست قیادت یا سیاسی حلقے پشتون علاقوں کے امن، جان و مال کے تحفظ اور اپنی سرزمین کے دفاع کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہیں یا مذمتی بیانات جاری کرتے ہیں، تو ان کے موقف کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض حلقے اسے سیاسی حکمتِ عملی یا وسیع تر مقبولیت کے تناظر میں تعبیر کرتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی سیاسی قیادت کو اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن کے قیام اور سیاسی حقوق کے مطالبے سے دستبردار رہنا چاہیے؟ ایک جمہوری معاشرے میں سیاسی قوتوں کا اپنے عوام کے خدشات اور تحفظات کو آواز دینا فطری اور سیاسی ذمہ داری کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔تاہم بلوچستان کے بحران کو محض سکیورٹی یا وقتی سیاسی بیانات کے دائرے میں محدود کر دینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔ اس دو قومی صوبے کے اندر دیرینہ مسائل کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہیں۔ حقوق کی غیر مساوی تقسیم، سیاسی احساسِ محرومی، وسائل پر اختیار کا تنازعہ، غیر مؤثر حکمرانی، پسماندہ انفراسٹرکچر، محدود روزگار اور سماجی ترقی میں عدم توازن وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے وقت کے ساتھ بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دیا۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ گیس، معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر نے ہمیشہ قومی معیشت میں اہم کردار ادا کیا، مگر مقامی آبادی کا ایک بڑا طبقہ یہ احساس رکھتا ہے کہ وسائل کے ثمرات ان کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکے۔ ترقیاتی منصوبوں، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں میں محرومی نے احساسِ ملکیت کو کمزور کیا، جس کے باعث ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید وسیع ہوتی گئی۔اسی طرح سیاسی سطح پر بھی بلوچستان کے عوام میں یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ صوبے کے اہم فیصلوں اور آئینی حقوق کو وفاقی سطح پر خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔ جب عوام خود کو فیصلہ سازی کے عمل سے الگ محسوس کرتے ہیں تو ناراضی، بداعتمادی اور احتجاجی رویے فروغ پاتے ہیں۔ اس صورتحال نے بعض علاقوں میں شورش، بدامنی اور طاقت کے تصادم کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بدامنی کے ماحول میں جبری گمشدگیوں، سکیورٹی آپریشنز، نقل و حرکت کی پابندیوں اور انسانی حقوق سے متعلق شکایات نے سیاسی ماحول کو مزید حساس بنایا ہے۔ دوسری جانب نوجوانوں میں بے روزگاری، معاشی مواقع کی کمی اور سماجی ناامیدی شدت پسندی یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے زمین ہموار کر سکتی ہے، جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

بلوچستان کے مسئلے کا حل محض طاقت، الزام تراشی یا وقتی سیاسی بیانیوں میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ سیاسی ماہرین اور سنجیدہ حلقوں کی رائے یہی ہے کہ پائیدار امن کے لیے ایک جامع سیاسی مکالمہ ناگزیر ہے۔ صوبائی خودمختاری، وسائل پر مقامی آبادی کا مؤثر حق، آئینی ضمانتوں کا عملی نفاذ، شفاف حکمرانی، روزگار کے مواقع، تعلیم و صحت کے نظام میں بہتری اور احساسِ شراکت کو مضبوط بنائے بغیر صورتحال میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔اگر بلوچستان کو مستقل بدامنی، خوف اور بے یقینی سے نکالنا مقصود ہے تو ریاست، سیاسی قیادت اور تمام متعلقہ قوتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امن صرف بندوق کے سائے میں نہیں بلکہ اعتماد، انصاف، سیاسی شمولیت اور عوامی اختیار سے قائم ہوتا ہے۔ یہی راستہ بلوچستان کے دونوں قومی اکائیوں — بلوچ اور پشتون — کے لیے ایک پُرامن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔