اداریہ ۱ جون ۲۰۲۶

جنوبی پشتونخوا، بے یقینی اور قومی سمت کا سوال

جنوبی پشتونخوا ایک عرصۂ دراز سے ایسے حالات سے گزر رہی ہے جہاں خوف، بے یقینی، سیاسی اضطراب اور انتظامی کمزوری نے اجتماعی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ پشتون عوام کے تمام تر اختلافات، سیاسی تضادات اور شکایات کے باوجود ریاست یا کسی دوسری قومیت کے ساتھ کوئی نظریاتی یا نسلی جنگ نہیں، مگر اس کے باوجود پشتون سرزمین مسلسل بدامنی، خونریزی اور اضطراب کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ امن، خوشی اور اجتماعی مواقع بھی اکثر سانحات کی نذر ہو جاتے ہیں؟جنوبی پشتونخوا میں جب بھی کسی تہوار، قومی اجتماع یا سماجی خوشی کا لمحہ آتا ہے تو بدامنی اور تشدد کے واقعات عام انسانوں کے دلوں میں خوف بٹھا دیتے ہیں۔ بے گناہ انسانوں، مزدوروں، راہگیروں اور عام شہریوں کی جانیں ضائع ہونا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے عوامی نفسیات میں ایک مستقل اضطراب پیدا کر دیا ہے، جہاں عام پشتون یہ سوال پوچھنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے کہ آخر وہ کس جرم کی سزا بھگت رہا ہے۔اس تمام صورتحال کا دوسرا پہلو انتظامی کمزوری، حکمرانی کے بحران اور عوامی احساسِ محرومی سے جڑا ہوا ہے۔ جب لوگ اپنے حالات پر آواز اٹھاتے ہیں، سوال کرتے ہیں یا احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ان کے خلاف مقدمات، دباؤ یا خاموشی اختیار کرنے کے اشارے عوامی اعتماد کے بحران کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ ریاستی نظم کی ذمہ داری صرف امن قائم کرنا نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور سیاسی شمولیت کو یقینی بنانا بھی ہوتی ہے۔ اگر لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی آواز کو شکایت کے بجائے جرم سمجھا جا رہا ہے تو فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پشتون قوم کی اجتماعی زندگی میں سیاسی شعور، تحریک اور عوامی جنبش ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ جب بھی اس قوم نے اپنی اجتماعی ترجیحات، تعلیمی ترقی، سیاسی حقوق یا سماجی اصلاح کے لیے منظم کوشش کی، اس کی موجودگی اور شناخت زیادہ واضح ہوئی۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی بھی قوم کی بقا صرف جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ تعلیم، سیاسی بصیرت، معاشی استحکام اور فکری رہنمائی سے وابستہ ہوتی ہے۔آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ بڑھتی ہوئی پسماندگی، بے روزگاری، تعلیمی کمزوری، بدامنی اور سیاسی انتشار کے ماحول میں پشتون سماج اپنی آئندہ نسلوں کے لیے کون سا راستہ متعین کر رہا ہے؟ اگر قومی سیاست صرف وقتی مفادات، گروہی وابستگیوں یا دوسروں کے ایجنڈوں کے گرد گھومتی رہی اور حقیقی اجتماعی مفاد پس منظر میں چلا گیا تو شناخت، زبان، سماجی اقدار اور سیاسی اثر پذیری کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر دور میں قوموں کو قیادت کے بحران کا سامنا رہا ہے، مگر ایسے وقت میں دانشوروں، سنجیدہ سیاسی قوتوں، اساتذہ، سماجی کارکنوں اور باشعور طبقے کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ جذباتی تقسیم کے بجائے فکری مکالمے، سیاسی بلوغت اور قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے پیدا کریں۔ حقیقی سیاسی قیادت وہی ہوتی ہے جو قوم کو غصے، خوف اور وقتی ردعمل کے بجائے منزل، شعور اور اجتماعی حکمتِ عملی کی طرف لے جائے۔جنوبی پشتونخوا کو اس وقت صرف نعروں کی نہیں بلکہ ایک ایسی سنجیدہ قومی بحث کی ضرورت ہے جو یہ طے کرے کہ آئندہ نسلوں کو خوف، بے یقینی اور محرومی کی سیاست دینی ہے یا تعلیم، امن، سیاسی استحکام اور اجتماعی ترقی کا راستہ۔ اگر اس سوال پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں عام انسان شاید اسی بے خبری کے ساتھ اپنے زخموں کی وجہ تلاش کرتا رہے گا کہ آخر وہ کیوں اور کس قیمت پر مسلسل قربانی دیتا رہا۔