.مئی-31- 1935 ,کوئٹہ کی قیامت، سبق جو ابھی تک ادھورا ہے
(خصوصی تحریر سید انور شاہ)
مئی -31 -1935 کی رات بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جو آج بھی تصور کیا جائے تو دل دہل جاتا ہے۔ رات تقریباً 2 بج کر 33 منٹ پر آنے والے شدید زلزلے نے چند لمحوں میں ایک آباد شہر کو ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ اس قدرتی آفت نے نہ صرف ہزاروں جانیں لیں بلکہ ایک پورے خطے کی سماجی و شہری ساخت کو بھی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس زلزلے کی شدت 7.7 ریکٹر اسکیل کے قریب تھی، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے 60 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اُس وقت کوئٹہ میں نہ بلند و بالا عمارتیں تھیں، نہ زیرِ زمین تہے خانے اور پارکنگز اور نہ ہی جدید تعمیراتی ڈھانچے، مگر اس کے باوجود انسانی نقصان اتنا زیادہ تھا کہ آج تک اس کا مکمل ازالہ ممکن نہیں ہو سکا۔
تحریروں میں عینی شاہدین اور تاریخی دستاویزات بتاتی ہیں کہ زمین کے لرزنے کے ساتھ ہی شہر میں چیخ و پکار، دھول اور ملبے کا ایک ایسا منظر پیدا ہوا جو انسانی تاریخ کے المناک ترین مناظر میں شمار ہوتا ہے۔ مستونگ، قلات اور دیگر قریبی علاقے بھی اس تباہی کی لپیٹ میں آئے اور پورا خطہ کئی روز تک مفلوج رہا۔
مگر سوال آج بھی باقی ہے: کیا ہم نے کچھ سیکھا؟
نو عشروں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہری مراکز میں شہری منصوبہ بندی اور تعمیراتی اصولوں پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ماہرین بار بار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ خطہ زلزلہ خیز زون میں واقع ہے، جہاں ہندوکش اور دیگر فالٹ لائنز سے آنے والے جھٹکے وقتاً فوقتاً محسوس کیے جاتے ہیں۔
اس کے باوجود کئی علاقوں میں غیر منظم تعمیرات، کمزور بنیادوں پر بنی عمارتیں، اور بعض جگہوں پر مبینہ طور پر قواعد سے ہٹ کر منظور شدہ نقشے ایک بڑے خطرے کی نشاندہی اس لئے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اللہ نہ کرے کوئی سانحہ ہو کے لئے ریسکیو آلات موجود نہیں ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی بڑے زلزلے کی صورت میں انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
ضرورت: شہر کا جامع سروے اور سخت تعمیراتی اصلاحات۔
ماہرین شہری منصوبہ بندی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اس بات پر متفق ہیں کہ کوئٹہ جیسے حساس شہر کے لیے فوری طور پر ایک جامع اور غیر جانبدار سروے ناگزیر ہے۔ اس سروے میں:
تمام موجودہ عمارتوں کی ساختی جانچ
غیر محفوظ اور غیر معیاری تعمیرات کی نشاندہی
بلڈنگ بائی لاز پر مکمل عمل درآمد
نئے تعمیراتی نقشوں کی سخت منظوری کا نظام
اور زلزلہ مزاحم تعمیرات کو لازمی قرار دینا شامل ہونا چاہیےاس کے ساتھ ساتھ شہری اداروں میں شفافیت اور احتساب کے مضبوط نظام کے بغیر اصلاحات ادھوری رہیں گی۔
.عالمی معیار کی طرف سفر.
دنیا کے کئی شہر جو ماضی میں تباہ کن زلزلوں کا شکار رہے، آج جدید انجینئرنگ اور سخت بلڈنگ کوڈز کے ذریعے محفوظ شہری مراکز بن چکے ہیں۔ کوئٹہ کے لیے بھی یہی راستہ واحد حل ہے کہ اسے ایسے شہروں کی صف میں شامل کیا جائے جو قدرتی آفات کے باوجود انسانی جانوں کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اختتامی بات
31 مئی-31 -1935 صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک مستقل سبق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس سبق کو سمجھ چکے ہیں، یا آنے والی نسلیں بھی کسی نئے سانحے کے بعد یہی سوال دہراتی رہیں گی؟
