اداریہ ۲۹ مئی ۲۰۲۶

جنوبی پشتونخوا کے زخم، خاموشی کے سوال اور بیداری کی ضرورت

جنوبی پشتونخوا آج جس بے چینی، خوف اور اضطراب کی کیفیت سے گزر رہی ہے، اسے محض چند الگ تھلگ واقعات یا وقتی بدامنی کا نتیجہ قرار دینا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ بلوچستان بالخصوص جنوبی پشتونخوا میں امن و امان کی مسلسل بگڑتی صورتحال، روزگار کے محدود ہوتے مواقع، مزدوروں اور عام شہریوں پر بڑھتے حملے، اغوا، املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات اور جان و مال کے عدم تحفظ نے پشتون آبادی کے اندر ایک گہرا اضطراب پیدا کر دیا ہے، جو اب صرف عوامی گفتگو نہیں بلکہ سیاسی اجتماعات اور قیادت کے بیانیوں میں بھی واضح طور پر سنائی دینے لگا ہے۔ عید جیسے مذہبی اور خوشی کے موقع پر پانچ افراد کی شہادت نے غم، غصے اور تشویش میں مزید شدت پیدا کی، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے اس واقعے سے لاتعلقی یا ذمہ داری سے انکار کے بیانات نے عوامی سطح پر مزید سوالات کو جنم دیا کہ آخر یہ خون کس کے کھاتے میں لکھا جائے گا اور مسلسل خوف کے اس ماحول میں عام شہری کب تک اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے؟ چمن کے جلسۂ عام میں نواب ایاز خان جوگیزئی کی جانب سے پشتون اکثریتی علاقوں میں تشدد، اغوا، مزدوروں کے قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات پر اظہارِ تشویش دراصل اس اجتماعی بے چینی کی سیاسی ترجمانی محسوس ہوتی ہے جو عرصے سے عوام کے اندر سلگ رہی ہے، جبکہ قہار خان ودان کی جانب سے حالات کی سنگینی کے تناظر میں مختلف فریقین کے درمیان رابطوں اور انتظامی نوعیت کے خطاب نے بھی یہ تاثر دیا کہ صورتحال معمول کی سیاسی بحث سے آگے بڑھ کر ایک پیچیدہ انسانی اور سماجی بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ مگر اس تمام منظرنامے کا سب سے تکلیف دہ پہلو شاید یہ ہے کہ پشتون سماج اب بھی وقتی ردعمل، داخلی تقسیم، الزام تراشی، جذباتی نعروں اور محدود سیاسی وابستگیوں میں الجھا ہوا دکھائی دیتا ہے، جبکہ اصل سوال امن، روزگار، تعلیم، انسانی جان کے تحفظ، سیاسی نمائندگی، قانون کی بالادستی اور اجتماعی وقار کا ہے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ جنوبی پشتونخوا سمیت بلوچستان کے تمام علاقوں میں شہریوں کے جان و مال، روزگار اور نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنائے، جبکہ وفاق پر بھی لازم ہے کہ بلوچستان میں حقیقی نمائندگی، سیاسی شمولیت، اعتماد سازی اور محرومیوں کے ازالے پر مبنی ایسا وسیع البنیاد سیاسی بندوبست سامنے لایا جائے جو مسلسل بڑھتی بے اعتمادی اور اضطراب کو کم کر سکے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، شراکت، اعتماد اور بیدار قوموں کے اجتماعی شعور سے قائم ہوتا ہے، اور اگر پشتون معاشرہ آج بھی اپنے زخموں، سوالات اور مستقبل کے تقاضوں پر متحد ہو کر سنجیدہ غور نہ کرے تو خدشہ یہی رہے گا کہ آنے والے وقت میں خاموشی خود ایک بڑے نقصان کی شکل اختیار کر لے۔