اداریہ ۲۵ مئی ۲۰۲۶

ٹریفک نظم و ضبط: ریاستی کارکردگی کا اصل آئینہ

کسی بھی ریاست کی مجموعی کارکردگی، نظم و نسق اور شہری شعور کا اندازہ اس کے ٹریفک نظام سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ سڑکوں پر نظم، قوانین کی پابندی، عوامی رویّے اور انتظامیہ کی مؤثر نگرانی دراصل اس ریاستی ڈھانچے کی عکاسی کرتے ہیں جو شہری زندگی کو منظم رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں، خصوصاً کوئٹہ اور اسلام آباد جیسے اہم شہروں میں ٹریفک کا بگڑتا ہوا نظام نہ صرف عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے بلکہ ملک کے مثبت تشخص کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

ٹریفک کا مسئلہ محض سڑکوں پر گاڑیوں کی بھیڑ یا بے ہنگم پارکنگ تک محدود نہیں بلکہ یہ ریاستی عملداری، قانون کی حکمرانی اور شہری تربیت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب اہم شاہراہوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی معمول بن جائے، سگنلز کی پابندی کمزور پڑ جائے، فٹ پاتھ تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کی نذر ہو جائیں اور انتظامیہ محض وقتی کارروائیوں تک محدود دکھائی دے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔

خصوصاً بلوچستان کے بڑے شہروں میں، جہاں شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، ٹریفک کے مسائل مزید پیچیدہ صورت اختیار کر چکے ہیں۔ کوئٹہ جیسے شہر میں بے ہنگم پارکنگ، غیر منظم پبلک ٹرانسپورٹ، تجاوزات اور ٹریفک قوانین سے بے اعتنائی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ یہی صورتحال بعض اوقات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں بہتر انفراسٹرکچر کے باوجود بعض شہری رویّے اور انتظامی کمزوریاں نظم کو متاثر کرتی ہیں۔

یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی تصویر کو متاثر کرتا ہے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو ان کا پہلا مشاہدہ سڑکوں، شہری نظم، عوامی رویّوں اور ٹریفک کے نظام سے ہوتا ہے۔ اگر سڑکوں پر افراتفری، غیر قانونی پارکنگ، بے ترتیب ٹریفک اور قانون شکنی عام نظر آئے تو اس سے ایک غیر منظم معاشرے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ یوں پاکستان کے خوبصورت قدرتی مناظر، ثقافتی تنوع اور مہمان نوازی کے باوجود ایک منفی تاثر غالب آ سکتا ہے۔

یہ کہنا درست ہوگا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تمام شہری نہیں ہوتے بلکہ ایک محدود طبقہ ایسا رویہ اختیار کرتا ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا طبقہ بھی ریاستی قوانین کو مسلسل نظر انداز کرے اور انتظامیہ اسے راہِ راست پر لانے میں ناکام رہے تو یہ ریاستی کمزوری شمار ہوگی۔

قانون کی حکمرانی اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو اور شہری نظم کو یقینی بنایا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک نظام کو محض جرمانوں یا وقتی مہمات کے ذریعے نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی کے تحت بہتر بنایا جائے۔ جدید ٹریفک مینجمنٹ، مؤثر نگرانی، واضح پارکنگ نظام، شہری آگاہی مہمات اور سخت قانونی عمل درآمد اس مسئلے کے مستقل حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی شہری ذمہ داری اور ٹریفک قوانین سے متعلق شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستان کی خوبصورتی صرف پہاڑوں، وادیوں اور تاریخی مقامات سے نہیں بلکہ اس کے منظم شہروں، قانون پسند شہریوں اور ذمہ دار انتظامی ڈھانچے سے بھی وابستہ ہے۔ اگر ریاست واقعی اپنا مثبت تشخص اجاگر کرنا چاہتی ہے تو اسے سڑکوں پر نظم و ضبط بحال کرنے کو قومی ترجیح بنانا ہوگا، کیونکہ ہر ریاست کا اصل آئینہ اس کا نظام اور خصوصاً اس کا ٹریفک ہوتا ہے۔