اداریہ ۵ مئی ۲۰۲۶

ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا ایک ناگزیر عالمی ایجنڈا

موجودہ عالمی منظرنامہ اس حقیقت کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ انسانی بقا، ترقی اور پائیدار امن کے لیے دنیا کو ایک نئے اجتماعی معاہدے کی اشد ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی، معیشت اور سائنسی ترقی کے اس دور میں جہاں انسان نے بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہیں ایٹمی اور دیگر مہلک ہتھیاروں کی موجودگی پوری انسانیت کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو چکا ہے کہ آیا دنیا اپنی بقا کو ترجیح دے گی یا تباہی کے اسباب کو برقرار رکھے گی۔یہ وقت اس بات کا متقاضی ہے کہ تمام ممالک ایٹمی اسلحے کے مکمل خاتمے پر متفق ہوں اور اب تک تیار کیے گئے ہتھیاروں کو انسانیت کے وسیع تر مفاد میں تلف کیا جائے۔ ان ہتھیاروں پر آنے والے اربوں ڈالر کے اخراجات کو اگر تعلیم، صحت، ماحولیات اور انسانی فلاح کے شعبوں میں منتقل کر دیا جائے تو دنیا نہ صرف زیادہ محفوظ بلکہ زیادہ خوشحال بھی بن سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک جامع اور قابلِ عمل عالمی معاہدہ ناگزیر ہے، جس میں تمام ریاستیں برابر کی بنیاد پر شریک ہوں۔اسی تناظر میں بین الاقوامی سطح پر بعض مثبت اشارے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیموں کے لیے روس کے مستقل نمائندے میخائل الیانوف کا حالیہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ مشرقِ وسطی کو ایٹمی اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (WMD) سے پاک بنانے کی سوچ ابھی بھی عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ضرورت پڑنے پر روس مزید عملی اقدامات تجویز کر سکتا ہے، عالمی سفارتکاری میں ایک اہم پیش رفت کی طرف اشارہ ہے۔تاہم اس راستے میں بڑی رکاوٹیں بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر اسرائیل کا جوہری عدم پھیلاو کے معاہدے (NPT) میں شامل ہونے سے انکار اور اس کے برعکس دیگر ممالک سے مکمل پابندی کا مطالبہ، عالمی نظام میں پائے جانے والے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب تک عالمی طاقتیں یکساں اصولوں پر عمل نہیں کرتیں، تب تک اس طرح کے معاہدوں کی افادیت محدود رہے گی۔اس کے ساتھ ساتھ عالمی حکمرانی کے ڈھانچے پر بھی سنجیدہ نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، جسے عالمی امن کا ضامن سمجھا جاتا ہے، عملا چند طاقتور ممالک کے مفادات کا محور بن چکی ہے۔ ویٹو پاور کا نظام نہ صرف عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے بلکہ عالمی انصاف کے تقاضوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر واقعی ایک منصفانہ عالمی نظام قائم کرنا مقصود ہے تو ضروری ہے کہ تمام ممالک کو برابری کی بنیاد پر ایک ووٹ کا حق دیا جائے تاکہ فیصلے اجتماعی دانش اور انصاف کے اصولوں کے مطابق ہوں۔اس تناظر میں پاکستان ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے، انصاف پر مبنی عالمی نظام اور علاقائی امن کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کرے۔ پاکستان نہ صرف اس بیانیے کو مضبوط کر سکتا ہے بلکہ فعال سفارتکاری کے ذریعے اس کو عملی شکل دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔آخرکار، یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موجودہ عالمی نظام اپنی خامیوں کے باعث پائیدار امن فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر دنیا کو جنگوں، جارحیت اور تباہی سے بچانا ہے تو ایک نئی سوچ، نئے معاہدے اور حقیقی عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہیاور اس کی تکمیل کے لیے آج اٹھایا گیا قدم ہی کل کی محفوظ دنیا کی بنیاد بن سکتا ہے۔