اداریہ ۲۳ مئی ۲۰۲۶

قانون کی کمزوری، عوامی ردِعمل اور ایک سنجیدہ سوال

ایک پشتون بچی کی بازیابی بلاشبہ خوش آئند اور باعثِ اطمینان پیش رفت ہے، تاہم اس واقعے نے کئی اہم اور سنگین سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ یہ معاملہ محض ایک اغوا یا بازیابی تک محدود نہیں بلکہ اس نے ریاستی ذمہ داری، قانون کی عملداری، عوامی اعتماد اور سماجی تحفظ کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بچی کا بازیاب ہونا یقیناً ایک مثبت امر ہے، لیکن اس واقعے کے اصل کرداروں کا منظرعام پر نہ آنا، انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے نیٹ ورک کے خلاف مؤثر کارروائی کے فقدان پر تشویش برقرار رکھتا ہے۔

کسی بھی معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ ان کے بچوں، عزت، جان اور مال کو تحفظ حاصل ہو۔ جب عوام یہ محسوس کرنے لگیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بروقت اور مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام ہیں یا مجرم قانون کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں تو بے چینی، غصہ اور عدم اعتماد پیدا ہونا فطری امر بن جاتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہوتی ہے جس میں لوگ اپنے تحفظ کے لیے اجتماعی ردِعمل یا متبادل راستوں کی طرف دیکھنا شروع کرتے ہیں۔

اس واقعے میں بھی عوامی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا اور بعض حلقوں میں ایک منظم لشکر کی تشکیل اور خود کارروائی کی باتیں کی گئیں۔ یہ ردِعمل ایک احساسِ محرومی، عدم تحفظ اور انصاف کے تقاضے کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ قانون سے باہر مسلح ردِعمل یا غیر رسمی طاقت کے ڈھانچے کسی بھی معاشرے کو ایک پیچیدہ اور خطرناک سمت میں لے جاسکتے ہیں۔ اگر ہر طبقہ یا برادری اپنے مسائل کے حل کے لیے ہتھیار اٹھانے یا متوازی طاقت قائم کرنے لگے تو اس سے قانون کی عملداری، ریاستی نظم اور معاشرتی استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اصل سوال یہی ہے کہ نوبت یہاں تک کیوں پہنچی؟ ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتی نظام کی بنیادی ذمہ داری تھی کہ بچی کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جاتا، انسانی اسمگلنگ یا اغوا میں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا اور ایسا ماحول قائم کیا جاتا کہ عوام کو خود میدان میں اترنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ اگر کسی واقعے کے حل کے لیے ریاستی کارروائی سے زیادہ عوامی دباؤ یا اجتماعی غصہ مؤثر دکھائی دینے لگے تو یہ ایک سنجیدہ ادارہ جاتی سوال بن جاتا ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت امن و امان کے قیام، کمزور طبقات کے تحفظ، انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے خاتمے کے لیے غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی علاقے یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو، اسے برابر کا تحفظ، فوری انصاف اور قانون کی یکساں عملداری کا یقین دلانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

اگر ریاست بروقت انصاف، تحفظ اور قانون کی مؤثر عملداری یقینی بنائے گی تو عوامی بے اعتمادی اور اشتعال میں کمی آئے گی۔ بصورتِ دیگر یہ خدشہ اپنی جگہ موجود رہے گا کہ مختلف علاقوں میں لوگ اپنی حفاظت اور انصاف کے حصول کے لیے غیر رسمی اور تصادمی راستوں کی طرف مائل ہوں، جو کسی بھی مہذب اور پرامن معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سنجیدہ غور و فکر، مؤثر حکمتِ عملی اور فوری ریاستی توجہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جارہی ہے۔