اداریہ ۱۹ مئی ۲۰۲۶

محمود خان اچکزئی، پشتون سیاست اور قومی ترجیحات

پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا میں بعض شخصیات محض جماعتی قائد نہیں رہتیں بلکہ تاریخ، مزاحمت، قومی شعور اور اجتماعی امید کی علامت بن جاتی ہیں۔ محمود خان اچکزئی بھی ان چند بزرگ سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آمریت، سیاسی جبر، قومی محرومیوں اور آئینی بالادستی کے سوال پر ہمیشہ ایک واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ پشتون سیاست میں ان کی حیثیت محض ایک جماعتی رہنما کی نہیں بلکہ ایک فکری و تاریخی تسلسل کی علامت کی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پشتون سماج کے سنجیدہ حلقے ان کی سیاسی بصیرت اور جدوجہد کو امید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت پاکستان خصوصاً پشتون خطے شدید سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں سے دوچار ہیں۔ وسائل پر اختیار، بدامنی، بے روزگاری، جبری نقل مکانی، سیاسی بے یقینی اور نوجوان نسل کی مایوسی ایسے مسائل ہیں جنہوں نے پشتون معاشرے کو ایک خطرناک موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ توقع فطری ہے کہ تمام قوم پرست اور جمہوری قوتیں اپنے داخلی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک وسیع قومی بیانیہ تشکیل دیں۔ اگرچہ تمام پشتون قوتوں کا مکمل اتحاد بظاہر ایک مشکل اور شاید ناممکن خواب دکھائی دیتا ہے، مگر کم از کم مشترکہ قومی اہداف پر ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔

اسی تناظر میں عمران خان کے لیے محمود خان اچکزئی کی غیر معمولی سیاسی سرگرمی اور بھرپور وکالت کئی حلقوں میں سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ جمہوریت، آئین اور سیاسی آزادیوں کے لیے آواز اٹھانا یقیناً ہر باشعور شہری اور سیاسی رہنما کی ذمہ داری ہے۔ عمران خان کے خلاف اگر ریاستی طاقت کا غیر متوازن یا غیر جمہوری استعمال ہوا ہے تو اس کی مذمت بھی ہونی چاہیے۔ کسی بھی سیاسی رہنما کو بنیادی انسانی، قانونی اور طبی سہولیات سے محروم رکھنا جمہوری معاشروں کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس حوالے سے محمود خان اچکزئی کا مؤقف اصولی اور انسانی بنیادوں پر قابلِ فہم ہے۔

تاہم سوال یہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا آج پشتون سیاست کو سب سے زیادہ ضرورت صرف عمران خان کے دفاع کی ہے یا اپنی قومی سیاست، وسائل، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کی بھی؟ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک فکری بحث جنم لیتی ہے۔ عمران خان کی سیاسی جدوجہد اپنی جگہ، مگر یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ انہیں اقتدار تک پہنچانے میں ریاستی طاقت اور مقتدر حلقوں کا کردار موضوعِ بحث رہا ہے۔ اس تمام عمل کے دوران بھی محمود خان اچکزئی جمہوری اصولوں کے دفاع میں میدان میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے سیاسی کارکن یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر ماضی کی غلطیوں کا ادراک موجود ہے تو پھر مستقبل کی سیاست کو محض شخصیات کے گرد گھمانے کے بجائے اصولی اور قومی بنیادوں پر استوار کیوں نہ کیا جائے؟

یہاں اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سیاست کو ایک نئے عمرانی معاہدے، حقیقی پارلیمانی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور تمام قومیتوں کے مساوی حقوق کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔ اگر عمران خان واقعی ایک نئے سیاسی بیانیے کے خواہاں ہیں تو انہیں بھی کھل کر یہ واضح کرنا ہوگا کہ مستقبل میں کسی غیر جمہوری یا محلاتی سیاسی انجینئرنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور ملک کی تمام اقوام کو برابر کے سیاسی، معاشی اور آئینی حقوق دینے کے لیے عملی جدوجہد کریں گے۔ ایسا مؤقف نہ صرف ان کی سیاست کو نئی اخلاقی طاقت دے سکتا ہے بلکہ پاکستان کی مجموعی جمہوری سیاست کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔

محمود خان اچکزئی جیسے بزرگ رہنما کی اصل قوت ان کی قوم پرست، جمہوری اور نظریاتی سیاست رہی ہے۔ اگر وہ اپنی تمام تر سیاسی توانائیاں محض وقتی اتحادی سیاست میں صرف کردیں گے تو اس سے پشتون قومی سیاست کمزور ہوسکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شخصیات بدلتی رہتی ہیں مگر قوموں کے بنیادی مسائل اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اسی لیے وقت کا تقاضا شاید یہی ہے کہ وہ ایک بار پھر اپنی قوم، اپنے سیاسی کارکنوں اور نئی نسل کے درمیان زیادہ متحرک کردار ادا کریں تاکہ پشتون سیاست کو ایک واضح سمت، فکری استحکام اور مضبوط مستقبل مل سکے۔

پاکستان کو اس وقت تصادم نہیں بلکہ مکالمے، انتقام نہیں بلکہ آئینی انصاف، اور وقتی سیاسی مفادات نہیں بلکہ دیرپا قومی استحکام کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تمام قوموں، تمام جماعتوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔