بلوچستان میں سرکاری ہسپتالوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، انتظامی خودمختاری دینے اور صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے متعارف کرایا گیا اصلاحاتی ایکٹ بظاہر ایک اہم اور دور رس قدم تصور کیا جارہا ہے۔ اس قانون کے تحت بڑے سرکاری ہسپتالوں کو مرحلہ وار مالی و انتظامی خودمختاری دینے، پالیسی بورڈز قائم کرنے، کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیوں، ادارہ جاتی پرائیویٹ پریکٹس اور اسپتالوں کو اپنی آمدن برقرار رکھنے جیسے اختیارات دیے گئے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے بیوروکریٹک تاخیر کم ہوگی، احتساب بہتر ہوگا اور صحت کی سہولیات میں بہتری آئے گی۔ تاہم عملی صورتحال، عوامی خدشات اور اب تک سامنے آنے والی غیر یقینی کیفیت اس امر کی متقاضی ہے کہ اس پورے عمل کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا صحت کا شعبہ پہلے ہی شدید مسائل کا شکار ہے۔ صوبے کے اکثر اضلاع میں ڈاکٹرز کی کمی، ادویات کا فقدان، جدید طبی آلات کی عدم دستیابی، ماہر عملے کی قلت اور انتظامی کمزوریاں عوام کو بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی بڑے اصلاحاتی نظام کو نافذ کرنے سے پہلے مکمل تیاری، واضح حکمت عملی اور وسیع مشاورت ناگزیر تھی۔ مگر افسوس کہ ایکٹ منظور ہونے کے کئی ماہ بعد بھی نہ صرف اس کے متعدد پہلو عوام اور طبی حلقوں کے لیے واضح نہیں، بلکہ کئی اہم ادارہ جاتی معاملات اب بھی ابہام کا شکار ہیں، جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔
خصوصاً ایڈوائزری اور پالیسی بورڈز کی تشکیل کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اصولی طور پر ایسے بورڈز میں وہ افراد شامل کیے جانے چاہئیں جو صحت، انتظامیہ، مالیات اور سماجی خدمت کے شعبوں میں تجربہ اور صلاحیت رکھتے ہوں، نہ کہ سفارش، اقربا پروری یا سیاسی بنیادوں پر منتخب کیے جائیں۔ اگر بورڈز میں ایسے افراد شامل ہوں جو عوام اور متعلقہ حلقوں کے لیے تقریباً نامعلوم ہوں تو اس سے شفافیت پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔ اس وقت دو اراکین اسمبلی — نواز کبزئی اور ڈاکٹر ربابہ صاحبہ — کی شمولیت ہوچکی ہے، مگر مجموعی طور پر بورڈ کی ساخت، اختیارات اور فیصلہ سازی کا طریقہ کار مکمل طور پر سامنے نہیں آیا۔
یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ یہی بورڈز مستقبل میں بجٹ، مالی ترجیحات، بھرتیوں، خریداریوں اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوں گے۔ آنے والے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے مختص فنڈز کے استعمال اور ترجیحات کے تعین میں بھی انہی اداروں کا کردار ہوگا۔ لہٰذا اگر بورڈز کی تشکیل شفاف، متوازن اور صلاحیت کی بنیاد پر نہ ہوئی تو مستقبل میں مزید تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
اصلاحاتی ایکٹ کے بعض مثبت پہلوؤں سے انکار ممکن نہیں۔ اسپتالوں کو مالی خودمختاری ملنے سے ادویات اور آلات کی معیاری خریداری میں تاخیر کم ہوسکتی ہے۔ اسپتال اپنی آمدن پیدا کرکے بعض ضروریات خود پوری کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹرز کو فیصلہ سازی میں نمائندگی دینا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ کیونکہ عملی انداز میں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو میدان میں کام کر رہے ہوں۔ اسی طرح انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بعض معاملات میں بہتری لا سکتی ہے۔
تاہم دوسری جانب کنٹریکٹ بنیادوں پر وسیع بھرتیوں، پالیسی بورڈز کو غیر معمولی اختیارات، ادارہ جاتی پرائیویٹ پریکٹس اور انتظامی ڈھانچے کی پیچیدگیوں نے ڈاکٹرز،اور پیرامیڈیکل اسٹاف میں تحفظات پیدا کیے ہیں۔ خدشہ یہ بھی ہے کہ اگر احتساب اور نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہ ہوا تو بیوروکریسی کی جگہ ایک نئی طاقتور انتظامیہ وجود میں آسکتی ہے جس پر عوامی نگرانی محدود ہوگی۔
بلوچستان کے عوام کو محض نئے ناموں، نئی اصطلاحات یا جدید عمارتوں سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ضلع اور تحصیل سطح کے اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود ہوں، معیاری ادویات دستیاب ہوں، ٹیسٹ کی سہولت ہو اور مریض کو عزت و سہولت کے ساتھ علاج مل سکے۔ اگر ایک غریب مریض کو بنیادی علاج ہی میسر نہ ہو تو محض انتظامی اصلاحات عوامی مسائل کا مکمل حل ثابت نہیں ہوسکتیں۔
حکومت بلوچستان کو اس حساس معاملے پر جلد بازی یا یکطرفہ فیصلوں کے بجائے تدبر، مشاورت اور شفافیت کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ جن دو بڑے اسپتالوں میں یہ نظام کسی حد تک نافذ کیا گیا ہے، وہاں کی کامیابیوں، خامیوں اور عملی مشکلات کا آزادانہ اور غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ اس پورے عمل میں سینئر ڈاکٹرز، پروفیسرز، ہیلتھ ایکسپرٹس، پیرامیڈیکل اسٹاف، سول سوسائٹی اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بلوچستان کو پالیسی تجربات کی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے اس کی زمینی حقیقتوں، محرومیوں اور حساس صورتحال کو سامنے رکھا جائے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات یقیناً وقت کی ضرورت ہیں، مگر ایسی اصلاحات جو شفافیت، میرٹ، تدریجی عمل اور عوامی اعتماد پر مبنی ہوں۔ اگر بورڈز میں حقیقی معنوں میں اہل، دیانتدار اور عوام دوست افراد شامل کیے جائیں اور سول سوسائٹی کو مؤثر نمائندگی دی جائے تو یہ نظام واقعی عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ بصورتِ دیگر اختیارات کی نئی تقسیم مزید انتظامی بحران اور عوامی بے اعتمادی کو جنم دے سکتی ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت، ڈاکٹرز، سول سوسائٹی اور متعلقہ ادارے محاذ آرائی کے بجائے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تاکہ بلوچستان کے عوام کو ایک ایسا صحت کا نظام میسر آسکے جو جدید بھی ہو، قابلِ اعتماد بھی اور حقیقی معنوں میں عوام دوست بھی۔
