اداریہ ۱۲ مئی ۲۰۲۶

12 مئی: ایک ایسا زخم جو آج بھی تازہ ہے.

12 مئی 2007 کراچی واقعات پاکستان کی سیاسی اور جمہوری تاریخ کا ایک ایسا المناک باب ہے جسے یاد کرتے ہوئے آج بھی دل افسردہ ہوجاتا ہے۔ یہ وہ دن تھا جب سیاسی اختلاف، طاقت کے مظاہرے اور اقتدار کی کشمکش نے انسانی جانوں کو بے توقیر کردیا۔ سڑکوں پر انسانوں کو جس بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا، گاڑیوں سمیت نذرِ آتش کیا گیا اور شہر کو خوف و دہشت کی علامت بنادیا گیا، وہ کسی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ سے کم نہیں۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ اسی دن بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے طاقت کے اظہار اور جشن جیسا ماحول پیدا کیا گیا۔ ایسے مناظر نے نہ صرف قومی ضمیر کو مجروح کیا بلکہ یہ احساس بھی گہرا کیا کہ جب سیاست انسانی جانوں کے احترام سے خالی ہوجائے تو جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔اگر اس سانحے کے ذمہ دار عناصر کو بروقت قانون کے کٹہرے میں لاکر کیفرِ کردار تک پہنچایا جاتا، تو شاید پاکستان کی تاریخ ایک مختلف رخ اختیار کرتی۔ انصاف کا مؤثر نظام نہ صرف مستقبل کے ایسے سانحات کی راہ روک سکتا تھا بلکہ ریاستی اداروں اور جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا، اور یہی وہ خلا ہے جس نے معاشرے میں طاقت کے بے جا استعمال اور سیاسی انتقام کے رجحانات کو تقویت دی۔یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ جب کسی ملک میں بڑے سانحات کے ذمہ داران احتساب سے بچ نکلیں تو آنے والی نسلوں میں بھی قانون سے بالاتر ہونے کا تصور جنم لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ملک میں سیاسی کشیدگی، عدم برداشت اور ادارہ جاتی تصادم کے آثار وقتاً فوقتاً دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اس وقت عالمی سطح پر اہم سفارتی اور معاشی مواقع کی طرف بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر اندرونی خلفشار، سیاسی عدم استحکام اور جمہوری اقدار کی کمزوری اس پیش رفت میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جب تک محلاتی سازشوں، جمہوری حقوق پر شب خون مارنے والے عناصر اور طاقت کے ناجائز استعمال کی سیاست کا غیر جانبدارانہ احتساب نہیں ہوگا، اس وقت تک پائیدار استحکام اور حقیقی جمہوری ترقی ممکن نہیں ہوسکے گی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ماضی کے تلخ اسباق سے سیکھا جائے۔ ریاست، سیاسی جماعتیں اور تمام جمہوری قوتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ اختلافِ رائے کو تشدد نہیں بلکہ آئین، قانون اور سیاسی برداشت کے ذریعے حل کیا جائے۔ کیونکہ قومیں صرف معاشی ترقی سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی جان کے احترام سے مضبوط ہوتی ہیں۔