اداریہ ۹ مئی ۲۰۲۶

پاکستان میں انصاف کے نظام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سوالات

پاکستان میں عدالتی نظام، انصاف کی فراہمی اور ادارہ جاتی کارکردگی کے حوالے سے سوالات وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک بڑی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں انصاف بروقت اور شفاف انداز میں فراہم نہ ہو تو وہاں بداعتمادی، بے چینی اور عدم تحفظ جنم لیتا ہے۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں بھی یہی کیفیت دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد اداروں پر اعتماد کے فقدان کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ صورتحال محض ایک جذباتی تاثر نہیں بلکہ کئی عدالتی فیصلوں، تاخیر اور تحقیقاتی کمزوریوں کا نتیجہ ہے۔حالیہ عدالتی فیصلوں اور ماضی کے بعض اہم مقدمات نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا ہمارا انصاف کا نظام واقعی اپنے بنیادی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہے یا نہیں۔ بعض حساس مقدمات میں بعد ازاں عدالتی سطح پر فیصلوں کی تبدیلی یا سزاں کا کالعدم قرار دیا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تحقیقاتی مراحل میں کمزوریاں موجود ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے میں بھی اس اصول پر زور دیا گیا کہ کسی بھی ملزم کو سزا دینے کے لیے شواہد کا بلا شبہ ہونا ضروری ہے اور شک کی صورت میں فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔ یہ اصول دنیا بھر کے فوجداری نظام کا بنیادی ستون ہے، لیکن جب زمینی سطح پر تفتیش کمزور ہو تو یہی اصول بعض اوقات غلط فیصلوں کی درستگی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان میں متعدد ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جن میں برسوں بعد یہ بات سامنے آئی کہ ابتدائی فیصلے مکمل شواہد کی بنیاد پر نہیں تھے۔ اس سے نہ صرف متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا بلکہ پورے عدالتی نظام کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اگر ایک شخص برسوں جیل میں گزارنے کے بعد بے گناہ ثابت ہو سکتا ہے تو اس نظام کی خامیاں کہاں ہیں اور ان کی اصلاح کیوں نہیں کی جاتی۔اصل مسئلہ صرف عدالتی فیصلوں کا نہیں بلکہ پورے فوجداری نظام کی کمزوریوں کا ہے۔ پولیس تفتیش، ثبوتوں کا جمع کرنا، فرانزک سہولیات کی کمی اور گواہوں کے بیانات میں تضادات جیسے مسائل اکثر مقدمات کو کمزور بنا دیتے ہیں۔ نتیجتا عدالتوں کو صرف دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنا پڑتے ہیں، جو بعض اوقات مکمل حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ تفتیشی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، انہیں سیاسی دبا سے آزاد رکھا جائے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا جائے۔ایک اور اہم پہلو عدالتی تاخیر ہے۔ پاکستان میں مقدمات کے سالوں پر محیط رہنا ایک عام بات بن چکی ہے۔ اس تاخیر کے نتیجے میں نہ صرف انصاف کی فراہمی متاثر ہوتی ہے بلکہ گواہوں کی یادداشت، شواہد کی دستیابی اور مقدمے کی اصل روح بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے، اور یہی وہ جملہ ہے جو آج پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہے۔اس صورتحال کا ایک سماجی اثر بھی ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ انصاف صرف طاقتور کے لیے ہے یا انصاف حاصل کرنا ایک طویل اور غیر یقینی عمل ہے تو وہ قانون پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔ یہی اعتماد کا فقدان معاشرے میں بے چینی، احتجاجی رجحانات اور بعض اوقات بدامنی کو جنم دیتا ہے۔ ریاستی اداروں کے لیے یہ ایک سنگین چیلنج ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورا نظام ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان کا عدالتی نظام کئی مواقع پر شفاف اور اصولی فیصلے بھی دیتا ہے، اور سپریم کورٹ سمیت اعلی عدلیہ نے کئی اہم معاملات میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا ہے۔ لیکن مجموعی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ غلطیوں کا امکان کم سے کم ہو سکے۔اصلاحات کے لیے سب سے پہلے تحقیقاتی اداروں کو خودمختار اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا۔ فرانزک سہولیات کو بہتر بنانا، پولیس اصلاحات، گواہوں کے تحفظ کا نظام اور عدالتی عمل کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا ایک ایسا نظام بھی ہونا چاہیے جو غلط تفتیش یا بدنیتی پر مبنی کارروائیوں کا ذمہ دار تعین کرے۔آخر میں یہ بات واضح ہے کہ اگر پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور انصاف پر مبنی ریاست بننا ہے تو انصاف کے نظام کو بنیادی سطح پر بہتر بنانا ہوگا۔ یہ صرف عدلیہ کی نہیں بلکہ پورے ریاستی ڈھانچے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انصاف کی مضبوطی ہی کسی بھی قوم کی ترقی اور بقا کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر ہم نے اس سمت میں سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو عوام اور اداروں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ مزید گہرا ہوتا جائے گا۔ لیکن اگر اصلاحات کو ترجیح دی گئی تو پاکستان ایک ایسے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے جہاں انصاف، اعتماد اور استحکام معاشرے کی بنیاد بن سکیں۔