اداریہ ۱۶ جون ۲۰۲۶

وفاقی عدم توازن، بلوچستان اور قومی مستقبل

پاکستان کی وفاقی ساخت چار اکائیوں پر مشتمل ہے، لیکن زمینی حقائق یہ سوال اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ترقی، وسائل اور ریاستی توجہ بھی یکساں طور پر ان اکائیوں تک پہنچ رہی ہے؟ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پنجاب نے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، زراعت، صنعت، شہری ترقی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں جو پیش رفت کی ہے، اس کا تقابل اگر بلوچستان اور خیبر پشتونخوا سے کیا جائے تو فرق واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

مالی سال 2026-27 کے پنجاب بجٹ میں تعلیم، صحت، صاف پانی، زرعی ترقی، ٹیکنالوجی، ہنرمندی، سماجی تحفظ، انفراسٹرکچر اور مقامی حکومتوں کے لیے سینکڑوں ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صوبے کے تقریباً ہر شعبے کے لیے جامع منصوبہ بندی اور طویل المدتی وژن پیش کیا گیا ہے۔

اس کے برعکس بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جو معدنیات، ساحلی پٹی، جغرافیائی اہمیت، توانائی کے ذخائر اور بین الاقوامی تجارتی راہداریوں کے اعتبار سے دنیا کے کئی خوشحال ممالک سے کسی طور کم نہیں۔ اس کے باوجود صوبے کے لاکھوں شہری آج بھی پینے کے صاف پانی، بنیادی صحت، معیاری تعلیم، روزگار اور مواصلاتی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہی صورتحال کسی نہ کسی حد تک خیبر پشتونخوا کے متعدد اضلاع میں بھی دکھائی دیتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟
عام طور پر تمام تر ذمہ داری صوبائی سیاسی قیادت پر ڈال دی جاتی ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص اربوں روپے اکثر یا تو خرچ ہی نہیں ہو پاتے یا ان کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچتے۔ سرکاری اعداد و شمار اور مختلف آڈٹ رپورٹس بارہا اس جانب اشارہ کر چکی ہیں کہ ترقیاتی فنڈز کے استعمال، منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام میں سنگین کمزوریاں موجود ہیں۔ اگر ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ عوامی فلاح کے بجائے بدعنوانی، کمیشن خوری اور غیر شفافیت کی نذر ہو جائے تو وسائل کی فراوانی بھی عوام کی تقدیر نہیں بدل سکتی۔

اسی طرح خیبر پشتونخوا بارہا اپنے مالی حقوق، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں واجب الادا رقوم اور بعض مالیاتی حصوں کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ اگر وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی اعتماد کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات صرف بجٹ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے وفاقی ڈھانچے پر مرتب ہوتے ہیں۔

تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ترقی میں یہ عدم توازن صرف معاشی مسئلہ نہیں رہا بلکہ سماجی اور سیاسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ جب ایک صوبے کے نوجوان جدید یونیورسٹیوں، ٹیکنالوجی پروگراموں، روزگار سکیموں اور بنیادی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہوں جبکہ دوسرے صوبے کا نوجوان پانی، سڑک، اسکول اور ہسپتال جیسی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہا ہو تو احساسِ محرومی بڑھنا ایک فطری امر ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب کے عوام خود بھی مکمل طور پر خوشحال نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ وہاں بھی موجود ہیں۔ تاہم فرق یہ ہے کہ صوبائی حکومت کم از کم مختلف شعبوں میں منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر اسی نوعیت کے مربوط ترقیاتی پروگرام بلوچستان اور خیبر پشتونخوا میں شفاف انداز میں نافذ کیے جائیں تو چند برسوں میں صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔

اصل ضرورت مزید فنڈز سے زیادہ بہتر حکمرانی، شفافیت اور جوابدہی کی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پشتونخوا کے عوام کو صرف اعلانات نہیں بلکہ نتائج درکار ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی آزاد نگرانی، مالی بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی اور وسائل پر مقامی آبادی کے مؤثر حق کے بغیر حالات میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں۔

پاکستان کی قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ ترقی کا سفر صرف ایک صوبے تک محدود نہ رہے بلکہ تمام اکائیاں اس میں برابر کی شریک ہوں۔ مضبوط پنجاب پاکستان کے لیے اہم ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم ایک مضبوط بلوچستان، مستحکم خیبر پشتونخوا، خوشحال سندھ اور بااختیار گلگت بلتستان ہیں۔ وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کی تمام اکائیاں خود کو ترقی، وسائل اور مواقع میں برابر کا شریک محسوس کریں۔

اگر ریاست نے ترقی کے اس عدم توازن کو دور کرنے، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے اور احتساب کا مؤثر نظام قائم کرنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو احساسِ محرومی اور بداعتمادی مزید گہری ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر شفاف حکمرانی، حقیقی احتساب اور مساوی ترقی کو قومی ترجیح بنا لیا جائے تو بلوچستان اور خیبر پشتونخوا بھی پاکستان کی معاشی ترقی کے نئے مراکز بن سکتے ہیں، اور یہی دراصل ایک مضبوط اور مستحکم وفاق کی بنیاد ہے۔