اداریہ ۱۳ جون ۲۰۲۶

وفاقی بجٹ 2026-27۔ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی وفاقی استحکام کی ضمانت

وفاقی بجٹ محض آمدن اور اخراجات کا تخمینہ نہیں بلکہ یہ اس سوچ اور ترجیحات کا اظہار ہوتا ہے جس کے تحت ریاست اپنے شہریوں کے درمیان وسائل تقسیم کرتی ہے۔ بجٹ 2026-27 کا جائزہ لیا جائے تو ایک طرف عوام کو مہنگائی، ٹیکسوں اور بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ دوسری جانب تنخواہوں اور مراعات کے معاملے میں ایسی عدم مساوات نمایاں دکھائی دیتی ہے جو معاشرتی انصاف کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نظر نہیں آتی۔حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافے کا اعلان بظاہر تمام ملازمین کیلئے یکساں اقدام محسوس ہوتا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرنے والے افسران اور چند ہزار یا محدود آمدن رکھنے والے ملازمین کو ایک ہی شرح سے اضافہ دینا انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ کیونکہ سات فیصد اضافہ ایک اعلیٰ افسر کی تنخواہ میں دسیوں ہزار روپے کا اضافہ بن جاتا ہے جبکہ ایک نچلے درجے کے ملازم کیلئے یہی اضافہ چند سو روپے سے بھی کم رہتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ بعض اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کی تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ بعض چھوٹے ملازمین کی مکمل ماہانہ تنخواہ کے برابر یا اس کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مہنگائی کی شرح ایک جیسی ہے، آٹے، چینی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں امیر اور غریب دونوں کیلئے یکساں ہیں تو پھر ریلیف کا پیمانہ بھی یکساں فیصد کے بجائے معاشی ضرورت اور آمدنی کے تناسب سے کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
دنیا کے کئی ممالک میں کم آمدن والے ملازمین کو زیادہ شرح سے اور اعلیٰ تنخواہ دار طبقات کو نسبتاً کم شرح سے اضافہ دیا جاتا ہے تاکہ معاشی تفاوت میں کمی آئے۔ لیکن ہمارے ہاں اکثر ایسی پالیسیاں اختیار کی جاتی ہیں جن سے پہلے سے موجود طبقاتی فرق مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف معاشی ناانصافی کو فروغ دیتا ہے بلکہ نچلے درجے کے ملازمین میں احساس محرومی بھی پیدا کرتا ہے۔

اسی طرح بجٹ میں بعض مخصوص محکموں، اداروں اور شعبوں کیلئے غیر معمولی مراعات، الاؤنسز اور خصوصی پیکیجز کے اعلانات بھی کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ریاست کے پاس اضافی وسائل موجود ہیں تو ان کا فائدہ صرف چند اداروں تک محدود رکھنے کے بجائے تمام سرکاری ملازمین اور عوامی فلاح کے منصوبوں تک پہنچنا چاہیے۔ قومی خزانہ کسی ایک ادارے یا طبقے کی ملکیت نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کا مشترکہ سرمایہ ہے، اس لیے اس کے استعمال میں مساوات اور شفافیت بنیادی شرط ہونی چاہیے۔

دوسری جانب بلوچستان اور خیبر پشتونخوا جیسے صوبے، جو ایک عرصے سے بدامنی، دہشت گردی، بے روزگاری اور ترقیاتی پسماندگی کا شکار ہیں، اس بجٹ میں بھی اپنی ضروریات کے مطابق توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آتے۔ ان صوبوں کے عوام نہ صرف معاشی مشکلات برداشت کر رہے ہیں بلکہ امن و امان کی خراب صورتحال کے اثرات بھی جھیل رہے ہیں۔ ایسے حالات میں خصوصی ترقیاتی منصوبوں، روزگار پروگراموں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔

بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آج بھی صحت، تعلیم، پانی اور مواصلات کی بنیادی سہولتیں ناکافی ہیں جبکہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ ان حقائق کے باوجود اگر قومی ترقیاتی ترجیحات میں ان صوبوں کو نمایاں مقام نہیں دیا جاتا تو احساس محرومی میں اضافہ ایک فطری امر ہوگا۔

حکومت کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ قومی استحکام صرف مالیاتی اہداف حاصل کرنے سے ممکن نہیں ہوتا۔ حقیقی استحکام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک عام مزدور، کلرک، استاد، پولیس اہلکار اور نچلے درجے کا سرکاری ملازم بھی یہ محسوس کرے کہ ریاست اس کے ساتھ انصاف کر رہی ہے۔ جب ایک صوبہ یہ دیکھے کہ اس کی قربانیوں اور ضروریات کو قومی پالیسی میں مناسب اہمیت دی جا رہی ہے۔ اور جب قومی وسائل کی تقسیم میں شفافیت، مساوات اور توازن نظر آئے۔

وفاقی بجٹ کے بعد اب بھی وقت ہے کہ حکومت تنخواہوں کے ڈھانچے پر نظرثانی کرے، کم آمدن والے ملازمین کیلئے اضافی ریلیف کا اعلان کرے، مخصوص اداروں کو دی جانے والی مراعات کے معیار کو واضح کرے اور بلوچستان و خیبر پختونخوا کیلئے خصوصی ترقیاتی اور معاشی بحالی پیکیجز متعارف کرائے۔ کیونکہ ایک مضبوط ریاست کی بنیاد صرف بڑے مالیاتی اعداد و شمار نہیں بلکہ معاشی انصاف، علاقائی توازن اور عوامی اعتماد پر استوار ہوتی ہے۔ اگر یہ عناصر نظر انداز ہوتے رہے تو ترقی کے دعوے عوامی زندگی میں بہتری کے بجائے صرف سرکاری دستاویزات کی زینت بن کر رہ جائیں گے۔