اداریہ ۳ جون ۲۰۲۶

لمبی قطاریں، خاموش پریس اور آنے والے کل کا خوف

گزشتہ شب شہر کی مختلف شاہراہوں پر پیٹرول پمپوں کے سامنے لگی طویل قطاریں محض ایندھن کے حصول کی کوشش نہیں تھیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر تھیں جو غیر یقینی، بے چینی اور انتظامی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے۔ گاڑیوں میں بیٹھی خواتین، گیلن اٹھائے دربدر پھرنے والے شہری، پمپ ملازمین اور عوام کے درمیان تلخ جھڑپیں اس بات کی علامت ہیں کہ بحران جب دروازے پر دستک دیتا ہے تو سب سے پہلے معاشرتی نظم و ضبط متاثر ہوتا ہے۔

یہ منظر دیکھ کر ماضی کے وہ دن یاد آتے ہیں جب سی این جی اسٹیشنوں پر گھنٹوں انتظار معمول تھا۔ تاہم اس بار مسئلہ صرف ایندھن کی فراہمی کا نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کا بھی ہے۔ عوام کے ذہنوں میں یہ سوال شدت اختیار کررہا ہے کہ اگر روزمرہ ضروریات کی فراہمی بھی یقینی نہ رہے تو ریاستی نظام کی افادیت کہاں باقی رہ جاتی ہے؟

اسی پس منظر میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا حالیہ خطاب بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ ان کی تقریر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ان کے سیاسی مؤقف پر بحث ہوسکتی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے خطے کو درپیش خطرات، آئینی بحران، گورننس کی کمزوریوں اور عوامی بے چینی کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ جب ایک سیاسی رہنما یہ خبردار کرے کہ اگر غلط فیصلے جاری رہے تو خطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بن سکتا ہے تو اس تنبیہ کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔

بلوچستان پہلے ہی بدامنی، معاشی جمود اور سیاسی بے اعتمادی کی قیمت ادا کررہا ہے۔ سڑکوں پر سفر غیر محفوظ ہے، کاروبار متاثر ہیں، سرمایہ کاری کا ماحول ناپید ہے اور عوام خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں اگر اظہار رائے کے ذرائع بھی محدود کردیئے جائیں تو مسائل کے حل کے بجائے ان میں مزید اضافہ ہوگا۔

یہاں سب سے تشویشناک پہلو پرنٹ میڈیا کے خلاف اختیار کی جانے والی پالیسی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ریاستوں نے آزاد صحافت کو کمزور کرنے یا خاموش کرنے کی کوشش کی، وقتی طور پر شاید تنقید کم ہوگئی، لیکن مسائل کبھی ختم نہیں ہوئے۔ آزاد اخبارات معاشرے کے تھرمامیٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر تھرمامیٹر توڑ دیا جائے تو بخار ختم نہیں ہوتا، صرف اس کی پیمائش ناممکن ہوجاتی ہے۔

بلوچستان میں پرنٹ میڈیا ہزاروں خاندانوں کا ذریعہ معاش بھی ہے اور دور دراز علاقوں کی آواز بھی۔ اگر حکومتی فیصلوں کے نتیجے میں اخبارات معاشی طور پر دم توڑنے لگیں تو صرف چند ادارے بند نہیں ہوں گے بلکہ معلومات، تنقید، احتساب اور عوامی نمائندگی کا ایک پورا نظام کمزور ہوجائے گا۔ سوشل میڈیا کی تیز رفتاری کے باوجود مستند صحافت کی جگہ ابھی تک کوئی متبادل مکمل طور پر پیدا نہیں ہوسکا۔

دنیا کی تاریخ میں سوویت یونین کے آخری ایام کی مثال بار بار دی جاتی ہے۔ وہاں لوگوں کے پاس کرنسی تھی لیکن اشیائے ضروریہ نہیں تھیں۔ ریاست بظاہر مضبوط تھی لیکن عوام اور نظام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ چکا تھا۔ جب ریاستی ادارے زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں چھپانے لگیں تو بحران مزید گہرا ہوجاتا ہے۔

بلوچستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف بدامنی، بے روزگاری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے سوالات ہیں، دوسری جانب سیاسی کشیدگی اور میڈیا پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی شکایات۔ اگر ان مسائل کا جواب مکالمے، شفافیت، آئین کی بالادستی اور عوامی شمولیت کے ذریعے تلاش نہ کیا گیا تو آنے والے دن مزید دشوار ہوسکتے ہیں۔

حکومتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اختلافی آوازیں دبانے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا، بلکہ زیر زمین چلا جاتا ہے۔ آزاد صحافت، مضبوط پارلیمنٹ، غیر جانبدار عدلیہ اور جوابدہ انتظامیہ ہی کسی بھی ریاست کی اصل قوت ہوتے ہیں۔ اگر ان ستونوں کو کمزور کیا جائے تو پھر لمبی قطاریں صرف پیٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ تاریخ کے صفحات پر ریاستی ناکامیوں کی قطار میں بھی ایک نیا اضافہ ہوجاتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی قوتیں، ریاستی ادارے، میڈیا اور سول سوسائٹی تصادم کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ ورنہ آج جو خاموشی اخبارات کے صفحات پر مسلط کی جارہی ہے، کل وہ پورے معاشرے کے لیے ایک ایسے سناٹے میں تبدیل ہوسکتی ہے جس کی گونج بہت دیر تک سنائی دے گی۔