اداریہ ۱۶ جون ۲۰۲۶

عالمی امن سے داخلی استحکام تک: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے قومی توقعات.

پاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض مواقع ایسے آتے ہیں جب قومی قیادت کے فیصلے صرف ملکی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی اور ایک ممکنہ وسیع جنگ کے خطرات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی سفارتی اور عسکری قیادت کی جانب سے امن، تحمل اور مذاکرات کے فروغ کے لیے ادا کیا جانے والا کردار عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کو ملک کے اندر اور باہر مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، تجارت، توانائی اور عام شہریوں کی زندگیوں تک پہنچتے ہیں۔ مغربی ایشیا میں کسی بڑے تصادم کی صورت میں عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے یقینی، مہنگائی میں اضافہ اور ترقی پذیر ممالک کے لیے نئے معاشی بحران جنم لے سکتے تھے۔ امن کی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے نتیجے میں عالمی معیشت کو ممکنہ نقصان سے بچانے میں جو بھی مثبت پیش رفت ہوئی، وہ یقیناً پوری دنیا کے عوام کے مفاد میں ہے۔

پاکستان کے عوام کے لیے یہ امر باعثِ افتخار ہے کہ ان کا ملک عالمی سطح پر امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کا یہ کردار نہ صرف اس کی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کو اس وقت اندرونی سطح پر متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ خیبر پشتونخوا، آزاد کشمیر اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے واقعات، سیاسی بے چینی اور انتظامی کمزوریاں عوامی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور انتظامی ڈھانچے کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

اگر عالمی سطح پر پیچیدہ اور خطرناک حالات میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو عوام یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ یہی صلاحیت داخلی استحکام، امن و امان کی بحالی اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے بھی بروئے کار لائی جائے گی۔ پاکستان کو آج ایسے جامع قومی لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی، بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی مسائل کے حل اور وفاقی اکائیوں کے تحفظات کے ازالے کو ترجیح دی جائے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت سے وابستہ عوامی توقعات کا محور یہی ہے کہ جس دانشمندی اور تدبر کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر امن کے لیے کوششیں کی گئیں، اسی عزم اور توجہ کے ساتھ ملک کے اندر بھی امن، استحکام اور اعتماد کی فضا قائم کی جائے۔ بلوچستان، خیبر پشتونخوا اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امن کی بحالی صرف سکیورٹی کا معاملہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، سیاسی مفاہمت، ترقیاتی عمل اور عوامی اعتماد کی بحالی سے بھی جڑا ہوا سوال ہے۔

پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر پائے جانے والے بعض منفی تاثرات کا مؤثر جواب بھی صرف اسی صورت میں دیا جا سکتا ہے جب ملک کے اندر امن، سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی اطمینان کی فضا قائم ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر مزید آگے لے جا سکتا ہے۔

آج قوم کی نظریں اس امر پر مرکوز ہیں کہ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیوں اور مثبت کردار کو داخلی استحکام اور قومی تعمیر کے عمل میں بھی تبدیل کیا جائے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف موجودہ قیادت بلکہ پوری ریاست اور قوم کے لیے ایک تاریخی کامیابی ثابت ہوگی۔