اداریہ ۹ جون ۲۰۲۶

صحت پر ٹیکس یا عوام پر اضافی بوجھ؟

بلوچستان حکومت کی جانب سے بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کے ذریعے نجی طبی خدمات پر دو فیصد سروس ٹیکس کے نفاذ نے ایک اہم عوامی بحث کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ ٹیکس ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر عائد کیا گیا ہے، لیکن حقیقت میں اس کا بوجھ براہ راست مریضوں پر منتقل ہوگا، جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور علاج معالجے کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں عوام کو صحت، تعلیم، صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی شامل ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا تصور بھی اسی اصول پر قائم ہے کہ حکومت شہریوں کو بنیادی سہولیات تک آسان اور کم لاگت رسائی فراہم کرے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں صحت کے شعبے کو خصوصی رعایتیں اور مراعات دی جاتی ہیں تاکہ شہری علاج معالجے کی سہولیات سے محروم نہ رہیں۔ پاکستان کے دیگر صوبوں میں بھی مختلف شکلوں میں صحت کے شعبے کو مراعات حاصل ہیں، جبکہ بلوچستان جیسے پسماندہ اور وسیع رقبے پر مشتمل صوبے میں طبی سہولیات پہلے ہی ناکافی ہیں۔بلوچستان کے دور دراز اضلاع سے ہزاروں مریض بہتر علاج کے لیے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں۔ ان مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو سفری اخراجات، رہائش، ادویات، ٹیسٹوں اور دیگر ضروریات پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ ایسے میں اگر نجی کلینکس اور ہسپتالوں کی فیسوں پر اضافی سروس ٹیکس عائد کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ علاج مزید مہنگا ہو جائے گا اور اس کا براہ راست اثر کم آمدنی والے اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ملک بھر میں صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبوں کے ذریعے عوام کو علاج کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ دوسری جانب بلوچستان میں نجی طبی خدمات پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ ایک متضاد تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف علاج تک رسائی کو آسان بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف مریضوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کو عوامی سطح پر تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ٹیکس اسمبلی سے منظور شدہ قانون کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے اور اس پر عملدرآمد لازمی ہے۔ قانونی طور پر اگر ایسا ہے تو اس کی پابندی ضروری ہوگی، تاہم قانون سازی کا مقصد صرف محصولات میں اضافہ نہیں بلکہ عوامی مفاد کا تحفظ بھی ہونا چاہیے۔ کسی بھی فیصلے کا جائزہ اس کے سماجی اور انسانی اثرات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے، خصوصاً جب معاملہ صحت جیسی بنیادی ضرورت سے متعلق ہو۔بلوچستان پہلے ہی صحت کے شعبے میں شدید چیلنجز سے دوچار ہے۔ دیہی علاقوں میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی، بنیادی طبی مراکز کی محدود سہولتیں، ادویات کی قلت اور جدید علاج کی عدم دستیابی ایسے مسائل ہیں جن سے عوام روزانہ کی بنیاد پر نبرد آزما ہیں۔ ایسے حالات میں علاج معالجے کے اخراجات میں مزید اضافہ عوام کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔حکومت بلوچستان اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر ازسرنو غور کریں۔ محصولات میں اضافے کے دیگر ذرائع تلاش کیے جا سکتے ہیں، لیکن صحت جیسے حساس شعبے پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ایک پسماندہ صوبے کے عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلنے کے بجائے انہیں ریلیف فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔صحت کوئی عیاشی نہیں بلکہ انسانی زندگی سے جڑا بنیادی حق ہے۔ اگر عوام کو معیاری اور سستا علاج فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے تو ایسی پالیسیاں اختیار کی جانی چاہئیں جو اس مقصد کو تقویت دیں، نہ کہ اسے مزید مشکل بنا دیں۔ حکومت کو عوامی جذبات، زمینی حقائق اور بلوچستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے تاکہ صحت کی سہولیات ہر شہری کی دسترس میں رہ سکیں۔