اداریہ ۱۸ جون ۲۰۲۶

ریاست کا معیارِ انصاف ایک سا ہونا چاہیے

بلوچستان میں حالیہ دنوں پیش آنے والے دو مختلف واقعات نے حکومتی رویوں اور ترجیحات کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ چند روز قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور اس کی اتحادی تنظیموں کی جانب سے پہیہ جام اور کاروبار بند کرنے کا اعلان کیا گیا تو صوبائی حکومت نے رات گئے تک مذاکرات جاری رکھے، مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کیں اور اگلے ہی روز تاجروں کے صوبائی سطح کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے وفاقی نوعیت کے معاملات متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کے حل کی یقین دہانی بھی کرائی۔ یہ ایک مثبت طرزِ عمل تھا جس سے ثابت ہوا کہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ جب صوبے کے سرکاری ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج اور ہڑتال پر آئے تو ان کے ساتھ مختلف رویہ اختیار کیا گیا۔ گزشتہ روز پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور اس کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریاں اور تصادم ایسے سوالات کو جنم دیتے ہیں جن کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔ ریاست اور حکومت کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ تمام شہریوں اور طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ اگر تاجروں کے مطالبات سننے اور ان سے مذاکرات کرنے کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے تو یہی رویہ ملازمین، اساتذہ، ڈاکٹروں اور دیگر شعبوں کے کارکنوں کے ساتھ بھی اپنایا جانا چاہیے۔

حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ریاست ایک ماں کی مانند ہوتی ہے۔ ماں اپنے تمام بچوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے، کسی ایک طبقے کو ترجیح دے کر دوسرے کو نظرانداز نہیں کرتی۔ جب کمزور اور محدود وسائل رکھنے والے طبقات اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو ان کے ساتھ طاقت کے استعمال کے بجائے تحمل، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ریاستی ذمہ داری بنتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں احتجاج کو جرم نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے مسائل کی نشاندہی اور اصلاحِ احوال کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

بلوچستان اس وقت معاشی، انتظامی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی اولین ترجیح مختلف طبقات کے درمیان اعتماد پیدا کرنا ہونی چاہیے۔ طاقت اور گرفتاریوں سے وقتی خاموشی تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن مسائل کا مستقل حل ممکن نہیں۔ پائیدار حل صرف مذاکرات، باہمی احترام اور وعدوں کی پاسداری سے ہی نکل سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت گرفتار ملازمین اور گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے، کشیدگی کم کرے اور تمام فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لائے۔ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں ہوتی جو طاقت کا مظاہرہ کرے بلکہ وہ ہوتی ہے جو اپنے سب سے کمزور شہری کو بھی وہی عزت، توجہ اور انصاف فراہم کرے جو طاقتور اور بااثر طبقات کو حاصل ہوتا ہے۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے اور یہی آئین و قانون کی روح بھی ہے۔