اداریہ ۲۲ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان کے مسائل، پارلیمانی روابط اور مؤثر نمائندگی کی ضرورت

بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات بظاہر ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے، جس میں صوبے کی ترقی، امن و امان، وفاقی تعاون اور عوامی فلاح و بہبود کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے بلوچستان کی ترقی اور مسائل کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی ایک حوصلہ افزا پہلو ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وفاقی سطح پر بلوچستان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

تاہم اس ملاقات کے تناظر میں ایک اہم سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا بلوچستان کے اصل سیاسی اور پارلیمانی مسائل کو ان ملاقاتوں کے ذریعے وہ مؤثر نمائندگی حاصل ہو رہی ہے جس کی اس صوبے کو شدید ضرورت ہے؟ بلوچستان جیسے حساس اور پسماندہ صوبے کے مسائل محض رسمی ملاقاتوں اور عمومی یقین دہانیوں سے حل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس کے لیے ایک مربوط، بااختیار اور بااثر پارلیمانی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت متعدد بااثر سیاسی رہنما موجود ہیں جو قومی سیاست اور صوبائی مسائل پر گہری گرفت رکھتے ہیں۔ اگر اس نوعیت کی ملاقاتیں ان شخصیات یا متعلقہ وفاقی وزرا، خصوصاً منصوبہ بندی و ترقی جیسے کلیدی محکموں کے ساتھ کی جاتیں تو نہ صرف بلوچستان کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر ہوتے بلکہ ان کے حل کے لیے عملی اور فوری اقدامات کی راہ بھی ہموار ہوتی۔
بلوچستان کے مسائل محض ترقیاتی منصوبوں کی فہرست تک محدود نہیں، بلکہ ان کا تعلق انتظامی کمزوریوں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، امن و امان اور سیاسی نمائندگی جیسے بنیادی امور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان روابط کو محض رسمی سطح سے نکال کر ایک فعال، نتیجہ خیز اور ادارہ جاتی شکل دی جائے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر پارلیمانی سطح پر بلوچستان کی آواز کمزور ہو تو صوبے کے مسائل خواہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، وہ قومی پالیسی سازی میں وہ جگہ حاصل نہیں کر پاتے جس کے وہ مستحق ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، بلوچستان کے مسئلے کو مشترکہ قومی ذمہ داری سمجھ کر اس میں مؤثر کردار ادا کریں۔
آخر میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ بلوچستان کی ترقی صرف بیانات یا ملاقاتوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، مضبوط پارلیمانی نمائندگی اور مربوط وفاقی تعاون سے ہی ممکن ہے۔