بلوچستان قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک کے اعتبار سے بھی ایک زرخیز اور اہم صوبہ تصور کیا جاتا ہے۔ صوبے کے بیشتر علاقوں میں عوام کی معاشی زندگی کا انحصار مالداری اور مویشی پالنے پر ہے، جہاں ہزاروں خاندان اپنی روزی روٹی، خوراک اور مالی استحکام کے لیے جانوروں پر تکیہ کرتے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے مویشیوں کی صحت، بیماریوں کی روک تھام اور جدید سہولیات کی فراہمی صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشی بقا کا معاملہ بھی ہے۔
حال ہی میں ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی میں کانگو وائرس (سی سی ایچ ایف) کی روک تھام کے لیے حکومت بلوچستان اور محکمہ لائیو سٹاک کی جانب سے اینٹی کانگو اسپرے مہم کا آغاز یقیناً ایک مثبت اور قابلِ ستائش قدم ہے۔ عید الاضحیٰ کے تناظر میں مقامی مویشی منڈیوں میں ویٹرنری ڈاکٹروں، اسٹاک اسسٹنٹس، کمپاؤنڈرز اور دیگر اہلکاروں کی نگرانی میں حفاظتی اسپرے مہم اس امر کی غماز ہے کہ وبائی خطرات کو کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر کانگو وائرس جیسی خطرناک بیماری، جو جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہو سکتی ہے، اس کے خلاف پیشگی اقدامات عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا صرف اسپرے مہمات اور وقتی اقدامات ہی بلوچستان کے لائیو سٹاک شعبے کے دیرینہ مسائل کا حل ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں لائیو سٹاک کا شعبہ شدید بدانتظامی، ناقص نگرانی، ادویات کے معیار پر سوالات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اگرچہ کاغذی منصوبے اور اعلانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق اکثر اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔
صوبے کے مضافاتی اور دور دراز علاقوں، خصوصاً کوئٹہ کے نواحی علاقوں اور اندرون بلوچستان میں مالدار طبقے کی شکایات یہ ہیں کہ سرکاری مراکز میں یا تو ادویات دستیاب نہیں ہوتیں یا ان کے معیار پر سنگین تحفظات موجود ہیں۔ بعض اوقات جانوروں کو لگائی جانے والی ویکسین اور ادویات مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہتی ہیں، جس کے باعث جانور بیماریوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف ایک مالی نقصان نہیں بلکہ ایک خاندان کی معیشت پر کاری ضرب بھی ہوتی ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض متعدی امراض انسانوں میں منتقل ہو کر انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اگر لائیو سٹاک کے شعبے میں احتیاط، نگرانی اور معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو اس کے نتائج صرف جانوروں کی ہلاکت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عوامی صحت کے بحران میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔
یہ امر بھی افسوسناک ہے کہ بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں متعدد لائیو سٹاک مراکز عملے کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور غیر مؤثر انتظامی نگرانی کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں ویٹرنری ڈاکٹرز نایاب ہیں، ادویات ناکافی ہیں اور مقامی مالدار اپنی مدد آپ کے تحت غیر تربیت یافتہ طریقوں سے جانوروں کا علاج کروانے پر مجبور ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان، میر سرفراز بگٹی اس شعبے کی اصلاح کو وقتی اقدامات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ایک جامع اور شفاف پالیسی مرتب کریں۔ لائیو سٹاک مراکز میں فراہم کی جانے والی ادویات اور ویکسین کے معیار کا فرانزک یا سائنسی تجزیہ کرایا جائے، ناقص ادویات کی خریداری یا تقسیم میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔بلوچستان میں اگر لائیو سٹاک کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جائے، مقامی نسلوں کی افزائش، جانوروں کی بیماریوں سے بچاؤ، جدید ویٹرنری خدمات اور شفاف نگرانی کو یقینی بنایا جائے تو یہ شعبہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کی غربت کم کر سکتا ہے بلکہ صوبائی معیشت کے استحکام میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر، خطیر سرکاری وسائل خرچ ہونے کے باوجود عوام کے مسائل جوں کے توں رہیں گے اور مویشی پال طبقہ بداعتمادی اور معاشی نقصان کا شکار ہوتا رہے گا۔
