بلوچستان ایک عرصے سے بدامنی، خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ اس تلخ حقیقت کا اعتراف خود حکومتی سطح پر بارہا کیا جاتا رہا ہے۔ اندرونِ صوبہ رات کے اوقات میں آمدورفت پر غیر اعلانیہ پابندیاں، شاہراہوں کی مسلسل بندش، اہم شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور اساتذہ کے اغوا کے واقعات، حتیٰ کہ حساس علاقوں میں مسلح عناصر کی جانب سے کھلے عام نقل و حرکت اور سیلفیاں بنانے جیسے واقعات اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ صورتحال معمول کے مطابق نہیں رہی۔ امن و امان کی یہ بگڑتی ہوئی تصویر صرف عوام ہی نہیں بلکہ حکومتی ایوانوں کے اندر بیٹھے نمائندوں کے لئے بھی باعثِ تشویش بن چکی ہے۔صوبائی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر میر صادق عمرانی کی حالیہ تقریر دراصل بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر ایک سنگین چارج شیٹ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ “ہم اپنے علاقوں میں سڑک کے ذریعے نہیں جاسکتے”، “بھتے کی پرچیاں مل رہی ہیں”، اور “اگر اپنے وزراء کو تحفظ نہیں دے سکتے تو اس ایوان میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں”، محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ریاستی رٹ، حکومتی کارکردگی اور امن و امان کے پورے نظام پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔ جب حکمران اتحاد کے اہم رہنما خود کو غیر محفوظ تصور کریں، تو یہ دراصل اس پورے حکومتی ڈھانچے کی ناکامی کا اعتراف بن جاتا ہے۔میر صادق عمرانی کی تقریر کا موقع بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان پیپلز پارٹی میں قیادت کی منتقلی کا عمل اپنے آخری مراحل میں دکھائی دے رہا ہے اور ایک نوجوان قیادت کو آگے لانے کی سیاسی حکمتِ عملی پر کام جاری ہے۔ اسی تناظر میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی بلوچستان میں موجودگی اور صوبے پر خصوصی توجہ اس تقریر کو مزید اہم بناتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میر صادق عمرانی نے نہ صرف بلوچستان کے زمینی حقائق کی نشاندہی کی بلکہ اپنی جماعت کے سامنے حقِ وفا ادا کرتے ہوئے یہ پیغام بھی دیا کہ اگر پارٹی مستقبل میں بلوچستان میں سیاسی طور پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے امن، اعتماد اور عوامی تحفظ کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔یہ امر بھی انتہائی اہم ہے کہ میر صادق عمرانی نے صوبے کے مختلف علاقوں — خضدار، ژوب اور نصیر آباد — کی شاہراہوں کی بندش اور قبائلی تصادم کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسئلہ صرف کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہا۔ آج پشتون اور بلوچ دونوں علاقوں میں یکساں بے چینی، خوف اور غیر یقینی کیفیت موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ محض سیکورٹی آپریشنز یا وقتی انتظامی اقدامات سے حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے لئے وسیع تر سیاسی، سماجی اور قومی مکالمے کی ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسمبلی کے اندر منتخب نمائندوں کی جانب سے اس نوعیت کے اعترافات دراصل اپنی سیاسی اور انتظامی ناکامیوں کا اقرار ہیں۔ اگر حکمران اتحاد کے ارکان خود یہ تسلیم کررہے ہیں کہ نہ شاہراہیں محفوظ ہیں، نہ عوام محفوظ ہیں اور نہ ہی منتخب نمائندے اپنے حلقوں تک پہنچ سکتے ہیں، تو پھر محض رسمی اجلاسوں اور بیانات سے صورتحال بہتر نہیں ہوسکتی۔ ایسے حالات میں اسمبلی کو سیاسی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض لفظی تشویش تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ آئینی اور سیاسی سطح پر غیر معمولی فیصلوں کی جانب بڑھنا ہوگا۔وقت کا تقاضا ہے کہ موجودہ ارکانِ اسمبلی خود ایوان کے اندر ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی سفارش کریں تاکہ موجودہ انتظامی بحران کو وقتی طور پر قابو میں لاکر ایک نئی سیاسی ترتیب کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاق اور تمام سیاسی قوتوں کی مشاورت سے ایک وسیع البنیاد عبوری یا قومی نوعیت کی صوبائی حکومت تشکیل دی جائے جس میں پشتون، بلوچ اور دیگر تمام اکائیوں کی حقیقی نمائندگی موجود ہو۔ ایسی حکومت ہی صوبے میں اعتماد سازی، سیاسی مفاہمت اور امن کے لئے مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے۔اسی طرح ایک بااختیار قومی جرگے کی تشکیل بھی ناگزیر ہوچکی ہے جس میں قبائلی عمائدین، سیاسی جماعتیں، سماجی شخصیات اور ریاستی نمائندے شامل ہوں۔ اس جرگے کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ وہ متحارب قوتوں کے درمیان مذاکرات، جنگ بندی اور اعتماد سازی کے عمل کی ضمانت دے سکے۔ بلوچستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں پائیدار امن ہمیشہ سیاسی مفاہمت، جرگوں اور اجتماعی فیصلوں کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔ریاست کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ صرف اربوں روپے سیکورٹی پر خرچ کرنے سے امن قائم نہیں ہوتا۔ امن اس وقت آتا ہے جب عوام خود کو باعزت، محفوظ اور فیصلہ سازی کا حصہ محسوس کریں۔ اگر آج بھی بلوچستان کے مسائل کو صرف طاقت کے زاویے سے دیکھا گیا تو حالات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ اہلِ اقتدار سیاسی بصیرت، سنجیدگی اور وسیع تر قومی مفاد کا مظاہرہ کریں۔بلوچستان مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی دانش، سیاسی جرات اور عملی فیصلوں کا ہے۔ میر صادق عمرانی کی اسمبلی تقریر کو محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔ یہ دراصل ایک ایسی خطرناک گھنٹی ہے جو یہ واضح کررہی ہے کہ اگر اب بھی سنجیدہ اور غیر معمولی اقدامات نہ کئے گئے تو صوبے کے حالات مزید سنگین رخ اختیار کرسکتے ہیں۔
