پاکستان خصوصاً بلوچستان قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور قدرتی نعمتوں سے مالا مال خطہ ہے۔ یہاں سونا، تانبا، گیس، کرومائیٹ، کوئلہ، لوہا، سنگِ مرمر، اونکس، قیمتی معدنیات، وسیع ساحلی پٹی، سمندری وسائل، زرخیز زمینیں، بارانی پانی، قدرتی چراگاہیں، لائیو اسٹاک، پھلوں کے باغات، معدنی پہاڑ، دھوپ، ہوا،بیک وقت تمام موسموں کا موجود ہونا، اور سی پیک جیسی تجارتی راہداریوں سمیت بے شمار وسائل موجود ہیں۔ قدرت نے بلوچستان کو ایسی نعمتوں سے نوازا ہے جن کی اہمیت دنیا کی بڑی معیشتوں کیلئے بھی غیر معمولی تصور کی جاتی ہے، مگر اہلِ بلوچستان کیلئے یہ تمام وسائل اس وقت تک مٹی کی مانند ہیں جب تک ان سے مقامی آبادی کی زندگی، روزگار اور خوشحالی وابستہ نہ ہو۔بلوچستان کی سرزمین صرف معدنیات ہی نہیں بلکہ جغرافیائی لحاظ سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ مکران کا طویل ساحل، گوادر کی بندرگاہ، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے قریب محلِ وقوع، سمندری تجارت، ماہی گیری، آف شور توانائی، زراعت اور معدنیات کا امتزاج بلوچستان کو خطے کی معاشی شہ رگ بنا سکتا ہے۔ اگر بارانی پانی کو محفوظ بنانے، ڈیمز تعمیر کرنے، جدید آبپاشی نظام قائم کرنے اور ساحلی وسائل کو ترقی دینے پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو یہی خطہ پاکستان کی معیشت کا مضبوط ترین ستون بن سکتا ہے۔بدقسمتی سے وسائل کی اس فراوانی کے باوجود بلوچستان میں غربت، بے روزگاری، احساسِ محرومی، سیاسی بے اعتمادی اور بدامنی جیسے مسائل مسلسل بڑھتے رہے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ حقیقی جمہوری اور عوامی سیاسی قوتوں کو فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا جبکہ مصنوعی سیاسی ڈھانچے قائم کرکے ایسے حکومتی ماڈلز نافذ کئے گئے جن میں طویل المدتی منصوبہ بندی، شفافیت، عوامی شمولیت اور مقامی ترجیحات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی۔
صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار، صنعت، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے کے بجائے اکثر بے یقینی، محرومی اور غیر فعال ماحول میں چھوڑ دیا گیا۔ حالانکہ دنیا کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کا سب سے مؤثر ذریعہ روزگار، معاشی سرگرمیوں کا فروغ، دولت کی گردش اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے۔ جب نوجوانوں کو تعلیم، کاروبار، سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع میسر ہوں تو وہ مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہوتے ہیں اور معاشرے میں شدت پسندی، نفرت اور انتشار کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔
بلوچستان میں یہ احساس مسلسل مضبوط ہوا ہے کہ وسائل اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے بجائے معاشی مواقع محدود کئے گئے، جس کے نتیجے میں محرومی، بے چینی اور سیاسی فاصلے بڑھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان کے مسائل کو صرف سکیورٹی نقطۂ نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ انہیں سیاسی، معاشی، سماجی اور آئینی تناظر میں سمجھا جائے۔قیامِ امن اور پائیدار استحکام کیلئے ضروری ہے کہ مقامی نوجوانوں کیلئے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں۔معدنیات، ساحلی تجارت، ماہی گیری، زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں مقامی آبادی کو حقیقی شراکت دی جائے۔بارانی پانی کو محفوظ بنانے کیلئے ڈیمز، واٹر چینلز اور جدید آبپاشی منصوبے شروع کئے جائیں۔تعلیم یافتہ نوجوانوں اور مقامی ماہرین کو فیصلہ سازی اور ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا جائے۔سرمایہ کاری، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔بلوچستان میں دولت کی گردش، مارکیٹ سرگرمیوں اور مقامی معیشت کو وسعت دی جائے۔گوادر، مکران اور ساحلی علاقوں کے وسائل سے مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جائے۔قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مقامی ترقی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر خرچ کیا جائے۔اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غیر قانونی طریقوں سے بیرونِ ملک منتقل کی جانے والی دولت اور سرمائے کے محرکات، مقاصد اور مالی نیٹ ورکس کا شفاف جائزہ لیا جائے تاکہ قومی وسائل کے ضیاع اور معیشت کو کمزور کرنے والے عوامل کو سمجھا جاسکے۔
بلوچستان میں دیرپا امن صرف طاقت یا وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی اعتماد، معاشی انصاف، روزگار، تعلیم، شفاف حکمرانی، آئینی بالادستی اور وسائل پر مقامی حقِ شراکت کے ذریعے ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ جب عوام خود کو ترقی کے عمل کا حقیقی حصہ محسوس کریں گے، جب نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار کے بجائے ہنر، روزگار اور امید ہوگی، اور جب وسائل کا فائدہ مقامی آبادی تک پہنچے گا تو امن، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد خود بخود مضبوط ہوجائے گی۔
