اداریہ ۱۹ مئی ۲۰۲۶

بلوچستان: توقعات، شکوے اور سیاسی حقیقتوں کا نیا موڑ

بلوچستان ایک بار پھر ایسے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں سیاسی بیانات، عوامی بے چینی، سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال اور اظہارِ رائے پر بڑھتی قدغنوں نے کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان کہ “بلوچستان خون میں نہا رہا ہے اور ریاست امن قائم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے”محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی ہے جسے صوبے کے عوام روزانہ محسوس کر رہے ہیں۔ صوبے میں بڑھتی بدامنی، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، شاہراہوں پر خوف کی فضا اور سیاسی بے یقینی نے نہ صرف عوام بلکہ سنجیدہ سیاسی حلقوں کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔کراچی کے جلسہ عام میں مولانا فضل الرحمان نے جس انداز میں ریاستی اداروں، انتخابی عمل اور آئینی نظام پر سوالات اٹھائے، اس نے بلوچستان اور سندھ کے تناظر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان بدامنی کی لپیٹ میں ہے جبکہ سندھ ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ بیانیہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب مختلف سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں اور اہلِ فکر نے پرنٹ میڈیا کے خلاف جاری پالیسیوں اور دباؤ کو “جمہور کی زبان بندی” قرار دینا شروع کیا۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں جہاں پرنٹ میڈیا دہائیوں سے عوام اور ایوانوں کے درمیان واحد مؤثر پل رہا ہے، وہاں اخبارات کو محدود کرنے یا ان کی آواز کمزور کرنے کی کوششوں کو صرف صحافتی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی و سماجی بحران کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اسی دوران بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان نے بھی نئی سیاسی ہلچل پیدا کردی جس میں انہوں نے آئندہ پانچ برسوں میں مختلف منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی بات کی۔ بظاہر یہ ایک ترقیاتی اعلان تھا، مگر بلوچستان کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں اس کے کئی مختلف معنی اخذ کیے گئے۔ پرنٹ میڈیا میں اس بیان کو غیر معمولی انداز میں نمایاں کرنے کی کوششوں نے بھی سوالات کو جنم دیا۔ سیاسی مبصرین اور اہلِ فکر کی نشستوں میں یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا کہ شاید یہ محض ترقیاتی وعدہ نہیں بلکہ صوبے میں بڑھتی شکایات، سیاسی بے چینی اور عوامی ردعمل کو جانچنے کی ایک کوشش تھی۔ ملک خصوصا صوبے کے سیاسی حلقے اس اشارے کو خاص تناظر میں دیکھ رہے ہیں جہاں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی آئندہ پانچ سالوں میں بلوچستان کے دیرینہ مسائل حل ہو پائیں گے یا پھر یہ بھی ماضی کے وعدوں کی طرح ایک نئی سیاسی حکمتِ عملی ثابت ہوگا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی آمد کے موقع پر سخت سیکیورٹی کے باوجود شہر سے ایک کاروباری شخصیت کی مبینہ طور پر ایک کالعدم تنظیم کے مسلح افراد کے توسط سے اغواء کے بعد اہم راستوں کی بندش ، صوبے کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات نے حکومتی دعوؤں پر مزید سوالات کھڑے کردیے۔ اگر صوبے کے بڑے شہروں میں غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کے باوجود شہری محفوظ نہیں تو پھر عام آدمی کے تحفظ کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں اور سیاسی جماعتوں کی ساکھ پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔اڈی تناظر میں میر صادق عمرانی کا حالیہ بیان بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کی گفتگو دراصل ایک سیاسی “چارج شیٹ” محسوس ہوئی جس میں صوبے کے اندرونی مسائل، حکومتی ناکامی اور کمزوریاں اور عوامی شکایات کا واضح عکس موجود تھا۔ ایسے بیانات کو محض داخلی اختلاف کہہ کر نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ یہ آوازیں خود حکومتی صفوں سے بلند ہو رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی بچی کھچی قیادت کی توقعات دم توڑ رہی ہیں یا پھر یہ تمام صورتحال انہیں ایک نئے سیاسی جذبے اور عوامی رابطے پر مجبور کرے گی۔

حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان اب صرف ترقیاتی نعروں یا وقتی سیاسی بیانات سے مطمئن ہونے والا صوبہ نہیں رہا۔ یہاں کے عوام امن، سیاسی احترام، اظہارِ رائے کی آزادی اور حقیقی نمائندگی چاہتے ہیں۔ اگر شکایات کے انبار کم نہ ہوئے، اگر میڈیا کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری رہیں، اور اگر زمینی حقائق کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی اعتماد بحال رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ بلوچستان کی سیاست اس وقت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ہر بیان، ہر واقعہ اور ہر خاموشی مستقبل کی سیاست کا رخ متعین کر سکتی ہے